Daily Mashriq


کس جانب اشارہ ہے

کس جانب اشارہ ہے

عدالت کا فیصلہ محفوظ ہے لیکن میاں صاحب کے لہجے کی بوکھلاہٹ کہتی ہے کہ انہیں معاملات کے اپنی مخالف سمت رخ موڑنے کا احساس ہو رہا ہے ۔ اس بوکھلاہٹ میں وہ جانے کیا کچھ کہہ رہے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ملک کا وزیر اعظم جب ایسی فاش غلطیاں کرتا ہے تو بین الاقوامی سطح پر ملک کا امیج خراب ہوتا ہے ۔ یہ باتیں سننے کے بعد میر ے جیسے لوگوں کو اور بھی شدت سے احساس ہونے لگتا ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے لیے ایسے نمائندے منتخب کرتا ہے دراصل اس ملک اور خود اپنے مستقبل کے ساتھ وفادار نہیں ۔ بات یہی تک محدودرہی تو شاید کچھ خاموش رہتی ، درد اس وقت شدت سے بڑھاہوا محسوس ہوتا ہے کہ ہم جیسے لوگوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا لیکن ہماری قسمتوں اور ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک انہی لوگوں کے باعث ہورہا ہے اور ہم اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکے ۔ 

میں ابھی تک شاک کی اس کیفیت سے نکل نہیں سکی جو میاں صاحب کے بیان کے بعد سے مجھ پر طاری ہے ۔ وہ فرما رہے ہیں امریکہ سی پیک کے خلاف نہیں بلکہ اس میں شمولیت کا خواہشمند ہے ۔ ہمارے ملک کا وزیراعظم ایسی بات کرسکتا ہے وہ شخص جسے واقعات ترجیحات اور اصل صورتحال کا علم ہونا چاہیے ۔ جس کی پہلی ترجیح وہ ملک ہونا چاہیے جس کے مسند اقتدار پروہ براجمان ہیں ۔ انہیں کیا کسی نے یہ بات کرنے سے منع نہیں کیا ۔ یاکسی نے یہ نہیں بتایا کہ سی پیک کے نتیجے میں ہم جس Larger scheme of thingsکا حصہ بننے جارہے ہیں اس میں امریکہ کا کہیں فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے ۔ اس لیے امریکہ سی پیک کا حامی نہیں ہو سکتا ۔ یہ ممکن ہے کہ میاں صاحب نے امریکہ سے مدد کی خواہش پالی ہو اس لے لیے وہ اس قسم کے بیانات دے رہے ہوں ان کی بات اس حد تک ضرور درست ہوسکتی ہے کہ امریکہ کسی نہ کسی طور سی پیک کو خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔ اس بات کا قوی امکان بھی موجود ہے اور اس منصوبے پر امریکہ کام بھی کر رہا ہے ۔ جو عنقریب کھل کر سامنے آجائے گا ۔ میاں صاحب کے بیان کے الفاظ میں جو مایوسی دکھائی دیتی ہے وہ بھی بلا کی معنی خیز ہے ۔ وہ ایک ایسے وقت میں امریکہ کی سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا اعلان کر رہے ہیں جبکہ امریکی فوج کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جو زف ڈون فورڈ کہتے ہیں کہ پاکستان امریکی مفادات کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے ۔ اگرچہ ان کا یہ بیان شدت پسندی کے حوالے سے تھا لیکن امریکہ کو پاکستان سے صرف شدت پسندی کا ہی خطرہ تونہیں ۔امریکہ کو پاکستان کے رُخ تبدیل کرنے سے بھی خطرہ محسوس ہو رہا ہے ۔ پاکستان اور روس کے تعلقات کی بہتری بھی اس وقت خطرے کا ہی اعلان محسوس ہورہی ہے ۔ یہ وقت امریکہ کے لیے پریشانی کا وقت ہے یہ پریشانی سی پیک کو دیکھتے ہوئے سوا ہو جاتی ہے ۔ ہمارے وزیرا عظم کہتے ہیں کہ سی پیک کا کردار ترکی اور وسطی ایشیائی ممالک تک وسیع ہورہا ہے ۔

وہ درست کہتے ہیں لیکن انہیں چاہیے کہ اپنی ہی باتوں کو دنیا کے نقشے کو سامنے رکھ کر ایک دفعہ دوبارہ دہرائیں یہ وقت بہت اہم ہے ۔ دنیا میں تبدیلیاں آرہی ہیں ۔طاقت کے مرکز بدل رہے ہیں یا کم از کم اس تبدیلی کا آغاز ہو چکاہے ۔ میاں صاحب کو یہ بیان دینے سے پہلے کسی سے مشورہ ہی کر لینا چاہیے تھا کہ کوئی انہیں یہ سمجھاتا کہ اس وقت دنیا میں چین ایک نئی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے ۔ اس نئی طاقت کی حکمت عملی کمال کی ہے ۔ وہ اکیلے ہی اس دنیا پر حکومت کرنے کا خواہشمند نہیں ہے شاید یہ اس لیے بھی ہوتا کہ اسے امریکہ اور امریکہ کے حلیفوں کا مقابلہ اکیلے نہ کرنا پڑے ۔ چین اور روس اس وقت ایک دوسرے کے مضبوط حلیف کے طور پر ابھر رہے ہیں ۔ ان کے آپس میں تعلقات خاصے پرانے ہیں ۔ امریکہ کی معیشت کی رفتار پہلے کے مقابلے میں خاصی کم ہو چکی ہے جبکہ چین کی معیشت مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ روس کی کیفیت بھی چین سے کچھ مختلف نہیں ۔ ترکی کے تعلقات چین ، روس اورپاکستان تینوں ہی سے اچھے ہیں اور حالیہ وقتوں میں ترکی کے تعلقات امریکہ سے خراب ہوئے ہیں ۔ روس کے تعلقات امریکہ میں شاید صرف ڈونلڈ ٹرمپ سے ہی اچھے ہیں لیکن امریکہ میں فیصلہ صرف صدر نہیں کر سکتا ۔ چین اور امریکہ کے تعلقات بھی بہت اچھے نہیں ۔ چین کا پاکستان میں سی پیک منصوبہ دراصل چین کے مفادات کا منصوبہ بھی ہے ۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ ہم نے سی پیک منصوبے کے نتیجے میں چین کے دشمن بھی مستعار لیے ہیں ۔ میاں صاحب کی بات درست ہے کہ امریکہ سی پیک میں شمولیت کا خواہشمند ہوگا لیکن اس کا قطعی کوئی ارادہ اس منصوبے کو پروان چڑھنے دینا نہ ہوگا ۔ چین اور امریکہ کا مقابلہ کوئی ایسی سرگوشی نہیں جسے کچھ لوگوں نے سنا ہو اور باقیوں کو اس کا احتمال ہی ہو ۔ یہ دشمنی سب کو معلوم ہے ۔ اگر میاں صاحب کو یہ معلوم ہے کہ امریکہ سی پیک میں شامل ہونا چاہتا ہے تو عین ممکن ہے کہ ان کی امریکہ والوں سے ایسی کوئی بات ہوگئی ہے ۔ ہو سکتا ہے ان ایجنسیوں کے نام بھی بتا دیئے گئے ہوںجن کے لبادے میںامریکہ کو سی پیک میں راستہ دینا ہے ۔ میاں صاحب نے بات تو کر دی ہے لیکن اب ہمیں اس حوالے سے سوچنا چاہیے میاں صاحب اپنی معصومیت میں جوباتیں کر رہے ہیں ان کی اصل وجہ کیا ہے اور ان کے اشارے کیا کہتے ہیں ؟

متعلقہ خبریں