اے میرے پاک وطن!

اے میرے پاک وطن!

اے وطن پیارے وطن پاک وطن پاک وطن!اے میرے پیارے وطن

تجھ سے ہے میری تمنائوں کی دنیا پر نور
عزم میرا قوی میرے ارادے ہیںمضبوط
میری ہستی میں انا ہے میری مستی میں شعور جاں فضا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
اے وطن پیارے وطن ! میرا دل تیری محبت کا ہے جاں بخش دیار
میرا سینہ تیری حرمت کا ہے سنگین حصار
میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہونثار
میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن
اے وطن پاک وطن پاک وطن! اے میرے پیارے وطن!
دل و دماغ اس خوبصورت ملی نغمے کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں دل سے ایک ہی صدا بار بار اٹھتی ہے: میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار۔ میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن!خودکش حملوں کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر چل پڑا ہے جن میں بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جارہا ہے ارض وطن کے خلاف ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری ہے پاک آرمی نے ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کا اعلان کردیا ہے۔ اس فسادکو جڑ سے ختم کرنے کے لیے یہ ایک مستحسن قدم ہے ساری قوم پاکستان آرمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور پاک سرزمین کو نقصان پہنچانے والے ہاتھوں کی بیخ کنی کرنی ہے۔ اے میرے پاک وطن!والا ملی نغمہ ہم نے گورنمنٹ کالج پشاور میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں سنا اپنے وطن کی محبت کے حوالے سے اشعار نے وہاں موجود ہر شخص کی آنکھ کو اشکبار کردیا طلبہ و اساتذہ کرام اپنے آپ کو بہت توانا محسوس کر رہے تھے اس قومی گیت کو سن کر پہلا خیال جو ہمارے ذہن میں آیا وہ یہی تھا کہ آج ہم سب کس طرف جارہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر چینلز کی بھرمار ہے جو اپنی تہذیب و ثقافت سے ہمیں بہت دور لے جارہے ہیںبچپن میں وطن کی محبت کے جو حوالے تھے وہ آج ناپید ہوچکے ہیں ہمارے ذاتی مفادات کی مادروطن کے مفادات کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آج یہ صورتحال ہے کہ آپ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے دو چار لوگوں سے پوچھ لیجیے کہ کیا کسی کو قومی ترانہ یاد ہے ؟ یقین کیجیے اب ہم لوگوں کو اپنا قومی ترانہ بھی یاد نہیں رہا! ڈاکٹر فضل سبحانی نے تقریب کے دوران طلبہ سے پوچھا کہ کیا کسی کو اپنا قومی ترانہ یاد ہے؟ چونکہ کالجوں میں صبح اسمبلی نہیں ہوتی اور نہ ہی قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے اس لیے بہت سے طالب علم حیران و پریشان اپنے پرنسپل کی طرف دیکھ رہے تھے پھر ایک طالب علم اپنی جگہ سے اٹھا اور اس نے ہم سب کی لاج رکھتے ہوئے سٹیج پر آکر بڑے اچھے تلفظ اور لے کے ساتھ قومی ترانہ پڑھا جیسے ہی قومی ترانے کے بول فضا میں بلند ہوئے سب کی آنکھیں پرنم ہوگئیں۔ ہال میں موجود سب لوگوں نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر قومی ترانہ سنا آج ہم کس طرف جارہے ہیں ؟ سکول سے فارغ ہوتے ہی قومی ترانہ ہماری زندگی سے نکل جاتا ہے اسی طرح پاک وطن کے جھنڈے کے تقدس سے بھی طلبہ عمومی طور پر بے خبر ہی رہتے ہیں قومی ترانہ اور قومی جھنڈا وطن کے احترام اور محبت کی وہ علامتیں ہیں جن کے ساتھ ہم نے ساری زندگی چلنا ہوتا ہے ۔ ہماری دینی تعلیمات بھی ہم سے اسی محبت کا تقاضا کرتی ہیں حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی آنکھ پر دوزخ کی آگ حرام ہے!ہمارے ساتھ بڑے منظم انداز سے مختلف کھیل کھیلے جارہے ہیں دشمن ہمارے نظریات پر بھی کاری ضربیں لگانے میں مصروف ہے ہمارے نصاب کی کتابوں میںسے ہر اس چیز کو نکالا جارہا ہے جو ہماری اپنی ہے اور جس پر ہم فخر کر سکتے ہیں ہمارے ہیرو ہمارے لیے بیگانے ہوچکے ہیں اگر آپ کسی طالب علم سے ٹیپو سلطان ، سلطان صلاح الدین ایوبی، نورالدین زنگی کے حوالے سے بات کریں تو آپ انہیں بے خبر پائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مشاہیر کو ہماری نصابی کتب میں سے دیس نکالا دیا جاچکا ہے ان کے دن نہیں منائے جاتے۔ الیکٹرانکس میڈیا اس حوالے سے ہمیشہ خاموش رہتا ہے آج کا طالب علم ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے خوب جانتا ہے !ہمارے تعلیمی نصاب میں جہاں جدید دور کے متعلق معلومات کا ہونا ضروری ہے وہاں ہمیں اپنی تہذیب وثقافت ، اپنی تاریخ کے حوالے سے بھی بہت کچھ شامل کرنا چاہیے یہ ہم سب کے لیے بے شناختی کا دور ہے ہم سے اپنی شناخت گم ہوچکی دنیا کی ہر قوم اپنی تہذیب، اپنی تاریخ اپنے ہیروز پر فخر کرتی ہے اس حوالے سے ہماری تاریخ بڑی شاندار ہے لیکن آج کا طالب علم اپنی تاریخ کے حوالے سے بہت کم جانتا ہے !اس کے ذہن میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن عزیز سے باہر جانے کا خیال سب سے پہلے آتا ہے وہ اپنے وطن اور اس کے لوگوں کی خدمت کے حوالے سے نہیں سوچتا اور اس سوچ کے پیچھے ایسے بہت سے عوامل کارفرما ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے بھی دکھ ہوتا ہے لیکن ان ساری کمزوریوں اور کوتاہیوں کے با وجود ہمیں اس نکتے کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ہمارا وطن ہے ہماری پہچان ہے پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔

اداریہ