یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں

بات صرف کرکٹ تک محدود رہتی تو کوئی بات بھی تھی۔ مگر پاکستانی فنکاروں کو جس طرح بھارت سے انتہا پسندوں کے دبائو میں آکر نکالا گیا اور ان کی فلموں کی نمائش میں بھی روڑے اٹکائے جاتے ہیں ۔ اس سے بھارت کے اندر پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں اور اب تو حد ہی ہوگئی ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ''جشن ریختہ'' کے نام پر ہر سال منعقدہ اردو میلے میںدنیا بھر بشمول پاکستان سے بلائے جانے والے ادیبوں' شاعروں کی پذیرائی کا سلسلہ بھی پاکستانیوں کی بے عزتی میں تبدیل کردیاگیا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ایک اہم اور سینئر شاعرہ کشور ناہید اور ان کے ساتھ جانے والے دیگر شعرائے کرام کے ساتھ ''جشن ریختہ'' میں رواکھے جانے والے ناروا سلوک کی وجہ سے موصوفہ نے اپنا دورہ ہند مختصر کرکے واپس وطن کی راہ لینے پر مجبور ہوگئی ہیں اور وہ گزشتہ روز واہگہ کے راستے اپنے وطن پہنچ بھی چکی ہیں۔کشور ناہید کے مطابق ''جشن ریختہ'' میں شرکت کے لئے ان سمیت دیگر 9پاکستانی شاعروں کو کلام پیش کرنے کے لئے بھارت مدعو کیا گیا تھا تاہم انتظامیہ نے بھارت پہنچتے ہی ہمارا تعارف بطور مہمان خصوصی کروایا مگر جب صدر سے اپنی بار ی کا دریافت کیا تو انہوں نے جواباً مجھے بڑی بہن کہتے ہوئے انکشاف کیا کہ آپ صرف مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کی گئی ہیں۔ دوسری طرف اردو زبان کی ترویج پر مامور ادارے کے سربراہ نے موقف اختیار کیا کہ بھارت میں موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستان کے کسی شاعر کو کلام پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹیول میں 9پاکستانی شاعروں کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیاگیا ہے اور ان کو بھیجے جانے والے دعوت ناموں میں کہیں بھی کلام پیش کرنے کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ اس پر تو یہی کہا جاسکتاہے کہ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ داری اور دوسرے لفظوں میں پاکستان کے شعرائے کرام کو الفاظ سے تکنیکی مار دی گئی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے ایک بذلہ سنج کا ایک واقعہ سنانے کی اجازت دیجئے جو ہمارے گائوں پڑانگ (چارسدہ) سے تعلق رکھتا تھا نام تھا اس کا عزیر' مگر لوگ اسے عزیرے کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ اس واقعہ کے راوی ہمارے بزرگ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک روز وہ صبح ہی صبح گائوں کے کچھ لوگوں کے گھروں پر دستک دے کر انہیں یہ کہہ کر کہ آج دو پہر کو وہ گائوں کے حجرے میں آئیں تو اپنے گھر پر کھانا نہ کھائیں جن کو موصوف نے یہ پیغام دیا وہ سب ظہر کی نماز کے بعد ایک ایک کرکے گائوں کے حجرے میں جمع ہوگئے اور عزیرے کا انتظار کرنے لگے مگر عزیرے سرے سے آیا ہی نہیں۔ مدعوین کا بھوک سے برا حال ہونے لگا۔ عصر کا وقت بھی قریب ہونے لگا تو ایک ایک کرکے سب لوگ عزیرے کو کوستے ہوئے گھروں کو چلے گئے۔ عشاء کی نماز اورکھانے سے فارغ ہو کر تمام لوگ حسب معمول گپ شپ کرنے حجرے چلے گئے۔ کچھ دیر بعد عزیرے بھی آگیا اور ایک طرف بیٹھ گیا۔ ایک شخص نے غصے میں کہا' عزیریا' تم نے ہم دس بارہ بندوں کو یہاں دوپہر کے کھانے کی دعوت دی تھی مگر پھر آئے ہی نہیں ' کیوں؟ عزیرے نے حیرت سے کہا' کاکا جی' میں نے تو آپ لوگوں کو کوئی دعوت نہیں دی تھی بلکہ صرف اتنا عرض کیا تھا کہ آپ لوگ دوپہر کا کھانا گھر پر نہ کھائیں۔ اس کا یہ مطلب کب بنتا ہے کہ میں آپ کو کھانا کھلائوں گا۔ اور سب اس کا منہ دیکھنے لگے۔ گویا عزیر نے گائوں کے بزرگوں کو تکنیکی بنیاد پر شکار کیا تھا۔ اس حوالے سے اگرچہ بھارت میں بطور ''مہمان خصوصی'' بلوائے جانے والے شعرائے کرام کو زباندانی کی مار دی گئی ہے یہ کہہ کر کہ آپ لوگوں کے دعوت ناموں میں کہیں بھی کلام پیش کرنے کا ذکر تک نہیں تھا۔ اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ جب آپ کسی ادبی محفل میں کسی کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرتے ہیں تو آپ اخلاقی طور پر اس بات کے پابند ہوجاتے ہیں کہ صدر کے خطاب یا (بطور مشاعرہ کلام پیش کرنے سے پہلے) مہمان خصوصی کو ضرور دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مہمان خصوصی محفل کی رونق تو بڑھا دے مگر اس پر زبان بندی لاگو کردی جائے یعنی

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
بد قسمتی مگر یہ ہے کہ پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں اور فلم سے وابستہ اداکاروں' موسیقاروں اور گلو کاروں کی طرح پاکسان کے ادباء و شعراء کی ایک کثیر تعداد بھی بھارت یاترا کے لئے بے چین و بے قرار رہتی ہے۔ جسے دیکھو اپنا پاسپورٹ اور دامن فرش راہ کئے بھارت کے اداروں کی جانب سے دعوت کے منتظر رہتے ہیں اور واپس آکر اپنی تصاویر فیس بک وغیرہ پر بار بار پوسٹ کرکے اپنی اہمیت جتاتے رہتے ہیں حالانکہ اب بھارتی مہا سبھائیوں نے ان تمام لوگوں کو ان کی وقعت جتا دی ہے۔ خدا جانے بھارتیوں کو پاکستانیوں کو ذلیل کرکے کیا ذہنی سکون ملتا ہے اور پھر پاکستانیوں کو اپنی بے عزتی کروا کر کیا حاصل ہوتا ہے۔
بقول نیساں اکبر آبادی
وہ رویہ جو گلا گھونٹ دے خود داری کا
اپنی نظروں سے بھی انساں کو گرا دیتا ہے
مگر اس قدر گراوٹ کے بعد بھی اگلے سال بہت سے ادیب اور شاعر پاسپورٹوں کے کشکول لئے بھارتی سفارتخانے کی ویب سائیٹ پر حاضری دے رہے ہوں گے کہ اپنی بے حرمتی کرانا ان اہل قلم کا نشہ ہوگیا ہے۔

اداریہ