مشرقیات

مشرقیات

حضرت شبیب بن شیبہ الخطیب فرماتے ہیں : '' ایک مرتبہ ہم مکہ مکرمہ کے صحرائی راستوں میںسفر پرتھے ۔ ایک جگہ ہم نے قیام کیا ، دستر خوان لگایا اور کھانا کھانے لگے ۔ گرمی کی شدت سے زمین تانبے کی طرح دہک رہی تھی ۔ ہم نے ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک اعرابی اپنی حبشی لونڈی کے ساتھ ہمارے پاس آیا ۔ ہم نے اس سے کہا :'' آیئے ! ہمارے ساتھ کھانا کھائیے ۔ '' تو وہ کہنے لگا : '' میں روزے سے ہوں ۔ ''
ہم اس کے اس جواب سے بہت متعجب ہوئے ( ایسی شدید گرمی میں نفلی روزہ رکھنا واقعی تعجب خیز بات تھی )پھر وہ اعرابی ہم سے کہنے لگا : '' کیا تم میں کوئی قرآن پاک کا قاری اور کاتب ہے میں اس سے کوئی چیز لکھو انا چاہتا ہوں ؟ '' جب ہم کھانے وغیرہ سے فراغت پاچکے ، تو ہم نے اس سے پوچھا :'' اب بتایئے آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟ ''وہ اعرابی کہنے لگا: '' اے میرے بھائی ! بے شک یہ دنیا پہلے سے موجود تھی ، لیکن میں اس میں نہ تھا (پھر میں پیدا ہوا ) اب یہ دنیا ایک مقررہ مدت تک باقی رہے گی ، لیکن میں اسے عنقریب چھوڑ جائو ں گا ۔ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی رضا کی خاطر ''یوم عقبہ '' کے لئے اپنی اس لونڈی کو آزاد کردوں ، کیا تم جانتے ہو کہ '' یوم عقبہ کیا ہے ؟ '' پھر اس نے قرآن کریم کی وہ آیات پڑھیں ،جن میں یو م عقبہ کا ذکر ہے ۔ اب میں تم سے جو لکھوائوں ، وہ مجھے لکھ دو اور میرے الفاظ کے علاوہ ایک لفظ بھی زائد نہ لکھنا ۔ پھر اس نے لکھوانا شروع کیا ، اس کے الفاظ کا مفہوم یہ تھا :'' یہ میری لونڈی ہے اور میں نے اسے خدا کی رضا کی خاطر ، یوم عقبہ کیلئے آزاد کیا ۔
'' اتنا لکھو انے کے بعد وہ اعرابی اس لونڈی کو آزاد کر کے ایک سمت روانہ ہوگیا ۔ حضرت شبیب فرماتے ہیں : '' میں پھر بصرہ واپس آگیا اور جب بغداد میں میری ملاقات حضرت سیدنا مہدی سے ہوئی تو میں نے انہیں اس اعرابی اور لونڈی والا واقعہ بتایا ۔ تو آپ فرمانے لگے : '' اس اعرابی نے اسی طرح اپنے سو غلام اورلونڈیا ں آزاد کی ہیں اور وہ جب بھی کوئی لونڈی یا غلام آزاد کرتا ہے تو اسی طرح ایک مضمون لکھو ا کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور لونڈی یا غلام کو آزاد کردیتا ہے ۔ وہ اعرابی آخرت کی تیاری کی فکر میں تھا ۔
(ایمان افروز واقعات)
ابن ابی الدنیا کی کتاب ''المنامات '' میں مذکورہ ہے کہ شام میں ایک آدمی کا نصف چہرہ بالکل سیاہ ہو چکا تھا ، جسے وہ ہر وقت ڈھانپے رکھتا تھا ۔ جب اس سے اس بارے میںپوچھا جاتا تو وہ کہتا کہ ''میں نے خدا تعالیٰ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جوشخص بھی مجھ سے اس بارے میں پوچھے گا میں اسے سارا واقعہ سچ سچ بتادو ں گا ۔ اور پھروہ کہنے لگا کہ میں حضرت علیکی شان میں بہت گستاخی کیا کرتا تھا ایک رات میں سویا ہوا تھا کہ خواب میں ایک شخص آکر کہنے لگا :'' تو ہر وقت میری گستاخی کرتا ہے ، یہ کہہ کر مجھے ایک زوردار تھپڑ مارا جب صبح اٹھا تو میرا چہرہ ایک طرف سے سیاہ ہو چکا تھا۔ ''
(حوالہ :کتاب المناما ت مصنف ابن ابی الدنیا)

اداریہ