بدعنوانوں کے احتساب کی ذمہ داری پوری کیجئے

بدعنوانوں کے احتساب کی ذمہ داری پوری کیجئے

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اے این پی پر اپنے پیچھے تباہی کی داستانیں چھوڑنے کا جو الزام لگا رہے ہیں ان کی صداقت و عدم صداقت کی جانچ جامع تحقیقات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اصل صورتحال کو سامنے لانے کی بجائے وزیر اعلیٰ کا جلسوں میں جوش خطابت پر اکتفا کوئی درست طرز عمل نہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ ہی دن قبل اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان پریس کانفرنس میں ببانگ دہل احتساب کا خود مطالبہ کرچکے ہیں مگر احتساب کی نعرہ زن جماعت کی حکومت ان کا چیلنج قبول کرنے کی بجائے الزامات لگانے پر اکتفا کر رہی ہے۔ اصولی طور پر یہ صوبے کی حکمران جماعت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے پیشروئوں کا کچا چھٹا اس طرح کھول دے کہ ان کے خلاف تحقیقات کرکے ٹھوس کر ثبوت کے ساتھ اس کے کرتوت سامنے لائے اور عدالت میں بدعنوانی ثابت کرکے لوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں جمع کرواکر مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے بند کروائے مگر یہاں اے بسا آرزو کہ خاک شد کے مصداق خواہ وہ نیب ہو یا صوبائی احتساب کمیشن یا حکمرانان وقت کسی کو اس درجے کی کبھی توفیق نصیب ہی نہیں ہوئی کہ وہ واقعی اور حقیقی احتساب کی ذمہ داری نبھائیں۔ اس وقت نیب پنجاب میں احتساب کا تاثر تو دے رہی ہے مگر بلوچستان میں میگا کرپشن سکینڈل کے ملزموں کو بارگیننگ کی پیشکش کر رہی ہے۔ بہر حال اے این پی کی گزشتہ حکومت ہر گز نیک نام نہیں تھی مگر جب تک اس کا احتساب نہ ہو اور کہانیاں سنائی جاتی رہیں گی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں گو کہ تحریک انصاف کی حکومت کا کافی عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب بھی صوبائی حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ ماضی کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائے اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرے۔
افغان نوجوانوں سے وابستہ توقعات
پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے پچاس ہزار افغان طلبہ کی افغانستان کے سرکاری اداروں میں حصول ملازمت میں کامیابی خوش آئند امر ضرور ہے ہمارے تئیں دفتر خارجہ کے ذرائع کے یہ اعداد و شمار اگر ایک سال اور دوسال کے عرصے کے دوران کے ہیں تو درست تسلیم کیا جا سکتا ہے وگرنہ ان چاردہائیوں میں چالیس پچاس ہزار نہیں لاکھوں افغان طالب علموں نے پاکستانی جامعات سے تعلیم مکمل کی ہوگی ۔ اگر فی خاندان ایک طالب علم کا بھی حساب لگایا جائے تو چالیس لاکھ افغان مہاجرین کے لاکھوں بچوں نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہوگی۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے افغان مہاجرین کے بچے تعلیم کے بعد اپنے وطن واپسی کے بجائے بیرون ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے دنیا بھر میں پاکستانی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے افغانوں کی لاکھوں تعدادہوگی ۔ افغانستان میں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے اور لاکھوں افغان نوجوان اردو بول لیتے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ یہ نوجوان اپنے ملک افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سفیر کے طور پر کام کریں اور اپنے ملک میں اور ملک سے باہر جہاں جہاں اور جس جس پوزیشن میں ہوں ان کو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری لانے اور غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرلینا چاہیئے ۔
پیسکو کی پیشکش کا مثبت جواب دینے کی ضرورت
حلقہ پی کے سات کے عوام کی جانب سے پیسکو کو میٹروں کی تنصیب اور بجلی کے بل کی ادا کرنے کی دعوت خوش آئند امر ہے جس کا پیسکو کی جانب سے خیر مقدم کیا جانا چاہیئے۔ علاقے کے عوام ازخود اس امر کا اعتراف کررہے ہیں کہ دوہزار چار کے بعد سے بلوں کی ادائیگی کا نظام متاثرہوا یقینا جو ابی طور پر لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بندش بھی زیادہ ہوتی گئی ۔اس لمبی مدت کے اندر پیسکو کے بقایاجات بارے ادارے اور حلقے کے عمائدین کے درمیان جرگہ ہونا چاہیئے اور عدم ادا شدہ بلوں کی ادائیگی کا طریقہ کار طے ہونا چاہیئے جبکہ پیسکو کی جانب سے بجلی کے نظام کو باقاعدہ بنانے کے بعد ماہانہ اور بروقت بل ادا کرنے کی حلقے کے عوام سے ضمانت لی جانی چاہیئے تاکہ ان کو بجلی کی فراہمی میں تعطل نہ آئے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ پیسکو کے حکام اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرینگے اور عوام کو گرمی کی آمد سے قبل بجلی کی مکمل بحالی اور فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ دینگے جبکہ عوام سے بجاطور پر توقع کی جاتی ہے کہ وہ بجلی کے استعمال کے بعد بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کامظاہرہ نہیں کریں گے تاکہ اُن کو بجلی بلا تعطل جاری رہے شہریوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنا فریضہ نبھائیں جبکہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی میں کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں ۔

اداریہ