پنجاب کے افسروں میں بے چینی

پنجاب کے افسروں میں بے چینی

آپ کا یہ قلم کیش جب صحافت کے پیشے میں آیا تو خبروں میں سرکاری اہل کاروں کے نام نہیں دیے جاتے تھے خواہ وہ سیکرٹری ہوں خواہ ان کے ماتحت چھوٹے سرکاری اہل کار ہوں۔ منطق اس میں یہ تھی کہ سرکاری اہل کار ذاتی حیثیت میں کام نہیں کرتے ، وہ پالیسی کے مطابق کام کرتے ہیں جو ان کی نہیں حکومت کی ہوتی ہے اور وہ اپنے عہدے کے فرائض و اختیارات کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہ فرائض و اختیارات بھی ان کے ذاتی نہیں ہوتے بلکہ ان کے عہدوں کے ہوتے ہیں۔ان کی ذاتی حیثیت ان کے عہدوں کی کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ وزراء اور پبلک عہدوں پر مامور لوگ چونکہ منتخب نمائندے ہوتے ہیں ان سے ان کے ووٹروں کی توقعات ہوتی ہیں اس لیے ان کے نام شائع ہونے چاہئیں۔ پھر پتہ نہیں کب صحافت کو کیا ہوگیا کہ سیکرٹری سے لے کر پٹواری اور اے ایس آئی تک کے عہدوں پر کام کرنے والوں کے نام شائع ہونے لگے، ان کی تشہیر ہونے لگی۔ آج چھوٹے اور بڑے سرکاری افسروں کے نام شائع کرنا گویا صحافت کے فرائض میں شامل ہو چکا ہے۔ احد چیمہ جن کا نام پنجاب کے بڑے بابو لوگوں کے ان کے حق میں احتجاج کے باعث زبان زد خلائق ہو چکا ہے کل تک ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل تھے ۔ جب وہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے سکینڈل میں ملزم کے طور پر نامزد ہو کر منفرد ہو گئے تو وہ ذاتی حیثیت میں نامزد ہوئے ۔ اس لیے ان کا نام میڈیا میں آنا کوئی اچنبھیکی بات نہیں ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کسی اورڈائریکٹر جنرل کے نام پر حرف نہ آئے۔ احد چیمہ ملزم نامزد ہو ئے تو پنجاب کی بیوروکریسی میں ہاہا کار مچ گئی حالانکہ ساری بیورو کریسی کو پتہ ہے کہ ملزم ضروری نہیں کہ مجرم بھی ہو۔احد چیمہ اگر اس تفتیش کے بعد باعزت طور پر رہا ہو جاتے ہیں یا ان پر مقدمہ قائم ہو تا ہے اور وہ اس سے باعزت بری ہو جاتے ہیں تو یہ ان کی عزت و توقیر میں اضافے کا باعث ہو گا۔ اور اگر ان پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو بیورو کریسی کے ارکان کو اطمینان ہونا چاہیے کہ ایسے کردار والا شخص اب ان کی فہرست میں شامل نہیں۔ اگر وہ باعزت بری ہو جائیں تو باقی افسروں کے لیے بھی اجتماعی عزت و توقیر کا باعث ہوں گے ۔ لیکن پچھلے چند دنوں سے خبریں آ رہی ہیں کہ پنجاب کی بیوروکریسی میں احد چیمہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا اور ہڑتال کر دی۔ اس ہڑتال میں کچھ ڈی ایم جی افسر یعنی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر پیش پیش تھے جسے وفاقی سول سروس کہا جاتا ہے۔ انہوں نے صوبائی سول افسروں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی جنہوں نے انکار کر دیا ۔اس صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ایک اجلاس بلایا جس میں احتجاجی افسروں کے نمائندے اور صوبائی کابینہ کے ارکان بھی تھے۔ کہا گیا کہ صوبائی کابینہ کے ارکان نے افسروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ہڑتال کی کال ناکام ہو گئی ۔ لیکن تازہ ترین یہ ہے کہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہڑتال نہیں ہوئی تھی۔ لیکن پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ کہہ رہے ہیں قومی احتساب بیورو نے احد چیمہ کے ساتھ زیادتی کی ہے اور افسروں نے اس کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی کہا ہے کہ نیب کو ایکسپوز کریں گے۔ احد چیمہ کو قانون کے مطابق اپنا مقدمہ عدالت میں پیش کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایک دیانت دار افسر ہیں تو الزامات غلط ثابت ہو جائیں گے ۔ لیکن یہ بات حیرت انگیز ہے کہ پنجاب کی بیوروکریسی کا ایک حصہ اور پنجاب کے عوامی نمائندوں کی حکومت بھی پنجاب کے افسروں کی حمایت میں کھڑی ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب کے کچھ افسر کیوں احد چیمہ کی گرفتاری پر بے چین ہو گئے ہیں۔ کیا ان پر بھی ایسے ہی الزامات لگ سکتے ہیں جیسے احد چیمہ پر لگے ہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ پنجاب حکومت کیوں احد چیمہ کی پشت پر کھڑی نظر آتی ہے جب کہ احد چیمہ پر الزام کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے۔ پنجاب کے عوامی نمائندوں کو کیا پڑی اگر احتساب کا ادارہ ایک افسر کے خلاف تحقیقات کے لیے اسے گرفتار کر لیتا ہے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا ، احد چیمہ یا تو بری ہو جائیں گے یا سزا پائیں گے۔
کرپشن کوئی شخص تنہا نہیں کر سکتا۔ پالیسی حکومت بناتی ہے۔ منصوبے حکومت منظور کر تی ہے۔ان کے بجٹ کی منظوری حکومت دیتی ہے۔ بیوروکریٹ تو ان منصوبوں کی تجاویز پیش کرتے ہیں، بجٹ کا تخمینہ تیار کرتے ہیں۔ان کی بروقت تکمیل کے لیے کارگزار فرمیں (ٹھیکدار) تلاش کرتے ہیں ۔ اس کے لیے بھی ایک طریقہ کار طے ہے کہ ٹینڈر جاری ہوں گے اور بہتر بولی دینے والے کو ٹھیکہ دے دیا جائے گا۔ آخر کار منصوبے کی تکمیل کی رپورٹ کی منظوری کے لیے بیورو کریسی حکومت سے رجوع کرتی ہے ۔ فرض کیجئے کوئی بھاری کمیشن یا کک بیک طے کر لیاجاتا ہے تو آخری منظوری حکومت نے دینی ہوتی ہے۔ یہ کک بیک یا کمیشن اگر بھاری مالیت کا ہو تو یہ سرمایہ کسی نہ کسی بینک یا بینکوں میں جاتا ہے۔ بینکار بھی اس سے واقف ہوتے ہیں کہ کون سے بینک اکاؤنٹ میں یکایک بھاری رقمیں آتی ہیں۔ کون سے اثاثے پھل پھول رہے ہیں۔ یہ کوئی چھپی رہنے والی بات نہیں ہے ۔ممکن ہے احد چیمہ عدالت کو مطمئن کر سکیں۔ پنجاب حکومت خواہ مخواہ اس معاملے میں دخل دے رہی ہے۔ دوسری طرف سرکاری ملازمین کو قانون کے مطابق ہڑتال کا حق نہیں ہوتا۔ ہڑتال یا کام سے انکار کرنا Misconductکے زمرے میں آتا ہے جو ریاست کے خلاف بغاوت تک شمار کیا جاتا ہے۔ احد چیمہ اگر قصور وار نہیں ہوں گے تو باعزت بری ہو جائیں گے ۔ سینئر بیوروکریٹ خواہ مخواہ اس معاملے میں دخل دے رہے ہیں۔ آخر وجہ کیا ہے؟ ۔

اداریہ