بھل صفائی کی ضرورت

بھل صفائی کی ضرورت

کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھوں ، کوئی نوحہ لکھوں ، امید کی بات لکھوں ، لکھوں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا جبکہ میرے دل کو اس بات کا یقین ہی نہیں ، یہ لکھوں کہ بہر حال ہمارا کل ہمارے آج سے بہتر ہوگا یا بس خاموش ہو جائوں ۔ بالکل خاموش جیسے کسی گہر ی جھیل کے سر پر ہمیشہ سکوت چھایا رہتا ہے اور کسی کو کسی قسم کی ہلچل کی کوئی امید کبھی نہیں ہوتی۔ میں شاید یہ تجزیہ ہی نہیں کرسکتی کہ کیا ہورہا ہے اور کیا ہونے والا ہے ۔ یہ درست ہے کہ میاں نواز شریف کی اس ملک سے ذرا برابر بھی کوئی محبت نہیں ۔ میں کیا ہم سب جانتے ہیں کہ وہ اور ان کے سارے ساتھی ، سارے دوست ، سارے رشتے دار ہی اس ملک کو لوٹ لینا چاہتے ہیں ۔ ان کی بیٹی جو باتیں کرتی ہے اس کی آواز میں بھی صرف جھوٹ سنائی دیتا ہے ۔ صرف اپنی خواہش کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ وہ اپنے مفادات کی باتیں کرتے ہیں لیکن انہیں ملمعچڑھادیتے ہیں ۔ اور کمال یہ ہے کہ ہم سب یہ باتیں جانتے ہیں ۔ بیوروکریسی میں بھی وہ افسران شامل ہیں جنہوں نے انہیلٹیروں کے ساتھ مل کر اس ملک وقوم کو لوٹ لینے کا عزم کر رکھا ہے ۔ وہ جب اس ملک کے غریب عوام کی زندگیوں کے سودے کرتے ہیں تو اس وقت ان کا دل نہیں دھڑکتا ، انہیں ذرا بھی کبھی یہ تکلیف محسوس نہیں ہوئی کہ ان کے کئے ہوئے فیصلے لوگوں کی زندگیاں تباہ کردیتے ہیں ۔ انہیں کبھی یہ احساس تک نہیں ہوا کہ ان کو کبھی اس سب کا جوابدہ ہونا پڑے گا ۔ وہ اپنی اپنی ڈگر پر چلتے چلے جاتے ہیں ۔ ہر احساس سے مبر،ا ہر خواہش کو بگٹٹ گھوڑوں کی طرح دوڑاتے ہوئے ۔ بیوروکریسی جس کی گھٹی میں اس ملک سے محبت ہونی چاہیئے ۔ جسے یہ معلوم ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہیں کسی سیاست دان کی اس وجہ سے بات ماننے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے ، وہی بیوروکریسیموم کی ناک بن کر سیاست دانوں کے ہاتھوں کا کھیل بن جاتی ہے ۔ انہیں یہ احساس تک باقی نہیں رہتا کہ اس ملک سے ان کی وفاداری ان کی زندگیوں کا منبع اور مرکز ہونا چاہیئے ۔ وہ اپنے مفادات کے بے لگام گھوڑوں کو اس ملک کے مستقبل کے کھیتوں میں دوڑاتے رہتے ہیں ۔ کس کی روزی روٹی مسلی گئی ، کس کے جسم ہی کا مُصلا ہوگیا ، کوئی خیال نہیں آتا ۔ اپنے اپنے دامن وہ بھر لینا چاہتے ہیں ۔ پنجاب کی بیوروکریسی میں اس کا رواج کچھ ضرورت سے ہی زیادہ ہے ۔ سندھ میں بھی معاملات اس سے مختلف نہیں ۔ بلوچستان میں سنا ہے کہ کبھی کبھار اس سب کے برخلاف میرٹ پر بھی کچھ کام ہو جایا کرتے ہیں اور کے پی میں شاید معاملات سب سے بہتر ہیں ۔ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتی کیونکہ یہ معاملہ ناموں کا نہیں رویوں کا ہے ۔ اور یہ رویے بیوروکریسی سے زیادہ سیاست دانوں کے جنم کردہ ہیں ۔ یہ معاملہ ان سرکاری افسران کے ذاتی مفادات کا نہیں بلکہ سیاست دانوں کی منہ زور خواہشات کاہے ۔ جب وہ سرکاری افسروں کو استعمال کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور سرکاری افسرنہ مانے تو اسے عبرت کانشان بنانے میں کوئی حد نہیں چھوڑتے ۔ انکے لیے ایک بیورو کریٹ کو ایک بار نشان عبرت بنا دینا باقیوں کے لیے فیصلے میں آسانی کا سبب بن جاتا ہے ۔ نوکریوں سے حاصل کردہ تنخواہوں میں زندگی گزارتے سرکاری افسران ان سختیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ کوئی سر پھرا ہو تو اسے کسی چوراہے میں عبرت کا نشان بنادینا تو اور بھی اہم ہوجاتا ہے ۔ میری مثال تو آ پ سب کے سامنے ہی ہے ۔ کئی بار کئی افسران میں یہ ہمت نہیں ہوتی اورکئی موقع پر ست ہوتے ہیں ، تبھی وہ سیاستدانوں کی خواہشات کو پورا کرنے کی نہ صرف بھرپور کوشش کرتے ہیں بلکہ اس میں اپنے لیے بھی فائدے تلاش کرتے ہیں ۔ وہ بزدلی اور موقع پرستی کا ایک کمال امتزاج ہوتے ہیں اور جب یہ دونوں باتیں بہم مل جائیں تو صورتحال وہ رُخ دھارلیتی ہے جس کا شاخسانہ ہم آج کل دیکھ رہے ہیں ۔ میں اپنے ہی کئی جاننے والوں کو دیکھ رہی ہوں ، ان کا خیال ہے کہ بیوروکریٹ کو گرفتارنہیں کیا جانا چاہیئے ۔ کئی بار الزامات غلط ہو تے ہیں ۔ درست کہتے ہونگے لیکن انصاف بہر حال ہونا چاہیئے اور کوئی بھی اس انصاف سے مبرا تصور نہیں کیا جانا چاہیئے ۔ اور اس انصاف کی گرفت بھی یکساں ہی ہونی چاہیئے خواہ وہ کوئی بھی ہو ،خواہ ملزم کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو ، نہ تو فوج اور نہ ہی عدلیہ کو اس دائرہ کار سے الگ ہو نا چاہیئے تاکہ کہ یکساں انصاف کیا جا سکے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جو ہورہا ہے درست ہورہا ہے ۔ جب معاشرہ اس قدر آلودہ ہوجائے کہ وہاں صاف ہوا کا گزر مشکل ہو جائے ، جہاں غلطی کرنے والوں کی تعداد اتنی ہو کہ صاف ستھرے کردار والوں کا جینا دوبھر ہو جائے تو وہاں بھل صفائی کی ضرورت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی پاکستان میں محسوس کی گئی اور جیسی آج کل ہورہی ہے ۔ لوگ کچھ بھی کہیں اور کسی کو کیسے مورد الزام ٹھہرائیں ۔ بیوروکریسی کتنا بھی ایک دوسرے کو سہارا دینا چاہے اب وقت ہے کہ صفائی اسی طرح کی جائے اور کسی کو بھی بخشانہ جائے ۔

اداریہ