خیبرپختونخواکی تیز ترین معاشی ترقی کی اصلیت

خیبرپختونخواکی تیز ترین معاشی ترقی کی اصلیت

گزشتہ عام انتخابات میں جہاں پاکستان تحریکِ انصاف قومی اسمبلی میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی تھی وہیں اسے خیبر پختونخوا میں بھاری اکثریت ملی تھی اور وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ ایک نئی سیاسی جماعت ہونے اور تبدیلی کا نعرہ لگانے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے انقلابی اقدامات کی توقع کی جارہی تھی لیکن کچھ ڈیپارٹمنٹس کو چھوڑ کر پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت صوبے میں توقع کے مطابق نتائج حاصل کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکی۔ حال ہی میںاپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پورے ملک میں سب سے زیادہ تیزی سے معاشی ترقی کرنے والا صوبہ ہے۔ عمران خان صاحب کے دعویٰ کی بنیاد دراصل ڈاکٹر حفیظ پاشا کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں خیبر پختونخوا کی سالانہ معاشی ترقی کی اوسط شرح 5.2 فیصد رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے دورِ حکومت میں مذکورہ شرح 5.2 فیصداور عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت میں مذکورہ شرح 4.9 فیصد تھی جبکہ تحریکِ انصاف کے موجودہ دورِ حکومت میں یہ شرح 5.1 فیصد ہے۔ اگر ان اعدادوشمار کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت دراصل پچھلے پندرہ سالوں کی اوسط برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ’کرپٹ‘ اور ’نان۔کرپٹ‘ حکومتوں کی کارکردگی کے درمیان کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ۔ مذکورہ کتا ب میں معاشی شر ح میں اضافے کی وجہ دوسرے ممالک اور ملک کے دوسرے صوبوں میں رہائش پذیر خیبرپختونخواکے شہریوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقومات کو بتایا گیا ہے جو صوبے کے گھرانوں کی آمدنی کا 20 فیصد ہیں۔معیشت کی رفتار میں تیزی سے اضافے کی دوسری بڑی وجہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی کو بتایا گیا ہے جو صوبائی حکومت کے اختیارات میں شامل نہیں ہیں کیونکہ کتاب میں بیان کی جانے والی مذکورہ دونوں وجوہات خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں اور خارجہ پالیسی وفاقی حکومت بناتی ہے۔ اس لئے مذکورہ کتاب میں بیان کی گئی یہ وجہ درست نہیں ہے۔ یہاں پر یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے فاٹا کو خیبرپختونخوامیں شامل کیا ہے یا دوسرے ماہرین کی طرح فاٹا اور اس کی معیشت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ڈاکٹر نادیہ طاہر کی جانب سے یواین ڈی پی کے تحت کی جانے والی ایک تحقیق میں فاٹا کی معیشت کوقومی جی ڈی پی کا 2 فیصد بتایا گیا ہے ۔ اسی طرح ڈاکٹر حفیظ پاشا کی کتاب میں بتایا گیاملکی اور غیر ملکی زرِ مبادلے کا بھی فاٹا کی معیشت میں بہت بڑا حصہ ہے اور فاٹا میں بھی بہت سے گھرانے ایسے ہیں جن کا گزر بسر مڈل ایسٹ اور دیگر ممالک سمیت ملک کے دوسرے صوبوں سے ان کے پیاروں کی جانب سے بھیجی گئی رقومات پر ہوتا ہے۔ معیشت کی شرح میں اضافے کی وجہ جو بھی ہو لیکن اس کتاب کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں معیشت کی شرح گزشتہ پندرہ سالوں میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔اپنے انٹرویو میں خیبرپختونخوا کی معاشی ترقی اور ڈاکٹر حفیظ پاشا کا حوالہ دیتے ہوئے تحریکِ انصاف کے چیئرمین یہ بتانابھی نہیں بھولے کہ پنجاب کی موجودہ وزیرِ خزانہ ، ڈاکٹر عائشہ غوث بخش، ڈاکٹر حفیظ پاشا کی اہلیہ ہیں اور یہ انکشاف کرتے ہوئے ان کے چہرے پرا یک تمسخرانہ مسکراہٹ واضح طور پر دیکھی جاسکتی تھی۔ ڈاکٹر پاشا کی مذکورہ کتاب میں گزشتہ چار سالوں میں صوبہ پنجاب کی معاشی ترقی کی شرح 4.6فیصد بتائی گئی ہے جس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کی معاشی ترقی کی شرح 5.1 فیصد دکھائی گئی ہے۔ درحقیقت، اگر ہم مذکورہ کتاب میں دیئے گئے جی ڈی پی کے تخمینوں اور آبادی کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق فی کس جی ڈی پی گروتھ کا موازنہ کریں توپنجاب کی معاشی ترقی کی شرح ، 2.5 فیصد ، خیبرپختونخوا کی معاشی ترقی کی شرح ، 2.1 فیصد سے زیادہ ہے۔ تازہ ترین دستیاب لیبر فورس سروے 2014-15 ء اور ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ سروے 2015-16ء کے اعدادوشمار پر مشتمل ہیں اور اعدادوشمار کے ان دو اہم ترین ذریعوں کی غیر موجودگی میں کتاب میں فراہم کئے گئے گزشتہ دوسالوں کے صرف اندازے ہی لگائے جاسکتے ہیں نہ کہ گزشتہ دو سالوں کے تخمینے پیش کئے جاسکتے ہیں کیونکہ گزشتہ دوسالوں کے تو اعدادوشمار ہی دستیاب نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کو 2014-15 ء تک محدود کر دیا گیا تھا۔ اس تحقیق کو آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات ملنے کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لینے کے لئے 2010-11ء سے شروع کیا گیا تھا ۔ اس تحقیق کے مطابق پنجاب کی معاشی ترقی کی شرح 5فیصد سالانہ ہے۔ یہاں پر ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ صوبائی جی ڈی پی کے تخمینے لگانا صوبوں کا پرائیویٹ معاملہ ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی تمام تحقیقات اور ان کی رپورٹس میں قومی جی ڈی پی کے سرکاری سطح کے تخمینے استعمال کرتے ہوئے انہیں صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کے بعد مختلف صوبائی محکموں میں تقسیم کرکے کسی مخصوص دورانیے کی ترقی کی شرح نکالی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ترقی کے حوالے سے کی جانے والی سٹڈیز کے نتائج مختلف ہوتے ہیں ۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ