دہشت گرد امریکہ اور اتحادی

دہشت گرد امریکہ اور اتحادی

آج حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو امریکہ اور اتحا دیوں نے افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام پر قبضہ کر کے ان کو کو نسا سکھ دیا، بلکہ ان ممالک پرتمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قبضہ کر نے سے وہاں کے مسائل میںحد سے زیادہ اضا فہ ہوا۔ عراق پر یہ الزم لگایا جا رہا تھا کہ اس کے پا س جو ہری ہتھیار ہیں مگر وہاں پر نہ تو جو ہری اور نہ کیمیاوی ہتھیار ملا۔لیبیا کے اندر بھی وہاں کے عوام کو قذافی کے خلاف اٹھ کھڑاکیا اور اب شام میں بھی خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔دبئی کو تو وہاں کیحکمرانوں نے عیاشی کا اڈہ بنا دیا ہے ۔ سعودی عرب میں بھی مسند اقتدار پرامریکی مفادات کا زیادہ خیال رکھنے والے نئے حکمران بٹھائے گئے۔ اوراب پاکستان پر یہ الزام لگا یاجا رہا ہے کہ وہ دہشت گر دوں اور انتہا پسندوں کی پُشت پناہی کر رہا ہے۔ دراصل اس قسم کے الزامات کا مقصدمسلمان ملکوں کے نا اہلحکمرانوں کی وجہ سے انکے وسائل پر قبضہ کر نا اور رسوا کرنا ہے۔ اگرایک طر ف عراق اور لیبیا میں تیل اور گیس کے بے تحا شاذخا ئر ہیں تو دوسری طرف افغانستان میں تیل ، گیس ، یو رینیم اور لیتھیم کے علاوہ انکی اپنی ایک جغرافیائی حیثیت ہے۔ جہاں پرقبضہ کر کے وہ ایران ، پاکستان ، وسطی ایشیائی ریاستوںاور چین کو قابو کرنا چاہتا ہے۔ اور لیبیا پر قبضہ کرکے وہاں کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی کو ششیں کی جارہی ہیں۔ اگر ہم افغانستان ، عراق ، فلسطین میں امریکہ کے بیٹے اسرائیل کے زیر تسلط مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالیں تو امریکہ نے افغا نستان میں 3لاکھ اور عراق میں تقریبا ً 10 لاکھ بے گناہ شہری مارے ہیں جس میں چھ لاکھ بے گناہ معصوم بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی نام نہاد جنگ میں 70 ہزار پاکستانی سویلین اور10 ہزار کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 120 ارب ڈالر سے زیادہ معاشی نقصان بھی ہوا۔ عراق کے تقریباً 25لاکھ لوگ گزشتہ کئی سالوں سے بے گھر ہیں۔عراق میں امریکہ کی مدا خلت کے بعد وہاں پر کوئی مُثبت تبدیلی نہیں آئی بلکہ عراق میں امریکہ کی مدا خلت کے بعد 60فی صد لوگ بے روز گا ری اور 40فی صد سخت غذائی قلت کا شکار ہیں۔ عراق میں 2003 میں صدام حسین کے دور میں 35000 ڈا کٹر تھے جو امریکہ کی بر بر بیت اور ظلم کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ گئے اور اب وہاں پر 7 ہزار ڈا کٹرز ہیں۔اسکے علاوہ امریکہ اور اتحا دیوں کے کر توتوں کو سامنے لانے پر کئی صحا فیوں کو ما ر ا گیا۔دہشت گر دی اور انتہا پسندی تو امریکہ پو ری دنیا میں کر رہا ہے۔بلکہ یہی تو امریکہ ہے جس نے کو ریا پر سال 1950 میں ، گو ئٹے کال پر 1954، انڈو نیشیاء پر 1955، کانگو پر 1964، کیوبا پر 1960، ویت نام پر 1975، لبنان پر 1984، عراق پر 1991 اور افغانستان پر 2001 میں بلا جواز حملہ کر کے دراندازی کا ثبوت دیا۔ امریکہ میں ہر دو منٹ بعد حوا کی بیٹی کے ساتھجنسی زیادتی کی جاتی ہے ۔ سائو تھ افریقہ کی وزارت خا رجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنے خفیہ اداروں میں خراب کر دار کے تقریباً 2000 لو گ بھر تی کئے ہوئے ہیںجن کا کام عراق اور افغانستان میں لڑ کیوں اور عورتوں کی عصمت دری اورجنسی زیادتی جیسے گھنائونے جرائم کو انجام دینا ہے ۔ اگر مجموعی جرائم کے لحا ظ سے مختلف ممالک کا موازنہ کیا جائے تو اس لحا ظ سے امریکہ میں سالانہ 2 کروڑ جرائم، جبکہ اس کے اتحادی ممالک برطانیہ اور جر منی میں 70،70لاکھ، فرانس میں 40 لاکھ،کینیڈا میں 35 لاکھ جبکہ سعودی عرب میں اسلامی طرزنظام کی وجہ سے 500جبکہ تر کی میں300 جرائم ہو تے ہیں۔ا سی طر ح منشیات کے جرائم امریکہ میں ایک لاکھ 80ہزار سالانہ، جر منی میں 2 لاکھ 50 ہزار جبکہ سعودی عرب میں سخت سزا کی وجہ سے صرف 50 سالانہ ہے۔اسی طرح گاڑیاں چھیننے کے واقعات امریکہ میں ایک لاکھ تیس ہزار سالانہ، بر طانیہ میں 4 لاکھ، فرانس 3لاکھ 60 ہزار ،جبکہ سعودی عرب میں 110سالانہ ہے۔ا سی طرح اغوا کی وارداتیں بر طانیہ میں 4000 سالانہ ، سائو تھ افریقہ 3500سالانہ،کینیڈا میں 3000جبکہ سعودی عرب جو اسلامی ملک ہے وہاں سب سے کم یعنی 100 سالانہ ہے۔قتل کی وارداتوں میںامریکہ 17ہزار سالانہ کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر بر طانیہ 3 ہزار، فرانس 1200، اور سعودی عرب میں سالانہ30 ہے۔زنا بالجبر کے واقعات امریکہ میں سالانہ ایک لاکھ، بر طانیہ میں 17 ہزار،کینیڈا 25 ہزارجبکہ سعودی عرب میںسالانہ 59 ہے۔ اگر عریانی اور فحا شی کی عالمی صنعت کو دیکھا جائے تو امریکہ عریانی اور فحا شی کی صنعت سے سالانہ 17 ارب ڈالر، جا پان 20ارب ڈالر اور بر طانیہ 3 ارب ڈا لر کما رہا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحا دیوں کو جمہو ریت ، انسانی اور عورتوں کے حقوق کی آڑ میں کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مدا خلت نہیں کر نی چاہئے ، بلکہ ان کو سب سے پہلے اپنے اندر کے حالات کو ٹھیک کر نے چاہئیں۔اگر غریب ممالک کی بے اتفاقی اسی طر ح رہی تو غریبوں کے لئے اس دنیا میں جینا دشوار ہو جائے گا۔لہٰذا دنیا کے غریب ممالک اور بالخصوص مسلمان ممالک کو چاہیئے کہ وہ آپس میں اتحاد اور اتفاق بر قرار رکھیں بصورت دیگر امریکہ اور اس کے اتحادی اس دنیا کے غریب ممالک کی لیڈر شپ کو چن چُن کر ختم کردیں گے۔ در اصل دہشت گرد امریکہ ہے مسلمان یا پاکستان نہیں۔

اداریہ