مشرقیات

مشرقیات

وادی یثرب کے افق پر جب ہدایت کی پہلی کرن چمکی ، اس وقت عباد بن بشیرؓ ابھر تے ہوئے فرشتہ سیرت ، پاکیزہ نگار اور پاکدامن گھبرو نوجوان تھے۔ ان کے کارناموں سے پختہ کارلوگوں کی سنجید گی کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ۔ حالانکہ ابھی انہوں نے عمر کی پچیس بہاریں دیکھی تھیں ۔ جب مکہ معظمہ سے آنے والے نوجوان مبلغ حضرت مصعب بن عمیر ؓ سے ان کی ملاقات ہوئی تو ایمان کی مقناطیسی قوت نے دونوں کے دل جوڑ دیئے ، حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو جب خوش الحانی اور ترتیل کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو کلام الٰہی کی محبت دل میں گھر کر گئی اوردل اسے اندرجذب کرنے کے لیے کشادہ ہوگیا اور پھر یہ ہمہ وقت قرآن مجید کے ہو کر رہ گئے ۔ دن ہو یارات ، سفر ہو یا حضر ، کھڑے ہوں یا بیٹھے ، ہردم آیات قرآنی ان کی زبان پر جاری ہوتیں ، یہاں تک کہ حضرت عبادبن بشیرؓ صحابہ کرام ؓ میں امام و پیشوا ، قرآن کے رفیق و دوست کے نام سے مشہورہوئے ۔ حضرت عبادبن بشیر ؓ رسول اکرم ؐ کے ساتھ تمام غزوات میں حاضر ہوئے اور ہر غزوہ میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا کہ جو ایک حامل قرآن کے لئے لائق و مناسب ہو سکتا ہے ۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے دوران ایک رات جب لڑائی پورے شباب پر تھی تو حضرت عباد بن بشیر ؓ کو نیند آئی اور اس میں خواب دکھائی دیا ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان کا دروازہ کھلا ہے اور آپ ؓ اندر داخل ہوئے تو دروازے کو بند کر دیا گیا ۔ صبح ہوئی تو خواب کی تعبیر حضرت ابو سعید ؓ کو بتاتے ہوئے کہا: اے ابو سعید ! خدا کی قسم ! اس خواب میں مجھے شہادت کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ جب دن چڑھا تو لڑائی پھر شروع ہوئی ، حضرت عباد بن بشیر ؓ ایک ٹیلے پر چڑھ کربہ آواز بلند پکار پکار کر کہنے لگے : اے انصار یو ! لوگوں سے الگ ہو جائو ، اپنی تلوار وں کی نیاموں کو توڑ ڈالو ، دیکھو تمہاری طرف سے اسلام پر کوئی آنچ نہ آنے پائے ، پورے جوش اور جذبے سے بار بار یہ بات دہراتے رہے ، یہاں تک کہ آپ ؓ کے پاس چارسو افراد جمع ہوگئے ،جن میں حضرت ثابت بن قیس ؓ ، براء بن مالک ؓ اور رسول اکرم ؐ کے شمشیر بردار حضرت ابو دجانہ ؓ بھی تھے ، حضر ت عباد بن بشیر ؓ ان مجاہدین کی قیادت کرتے ہوئے اپنی شمشیر براں سے مرتدین کی صفوں کو چیرتے ہوئے ہلاکت و موت سے بزور سینہ اٹکھیلیاں کرتے ہوئے آگے ہی بڑھتے چلے گئے ، یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب کی فوج کو گلستان موت (ایک باغ) میں پناہ لینے پر مجبور کردیا۔ حضرت عباد بن بشیر ؓ دیوانہ وار لڑتے ہوئے باغ کی دیوار کے پاس زخم کھا کر گر پڑے اور شہید ہوگئے ۔ دشمن کی تلواروں اور نیزوں کے زخموں سے ان کا بدن چھلنی ہو چکا تھا اور چہرے پر اس قدر زخم تھے کہ پہچاننا مشکل ہوگیا ، پرانے زخم کے ایک نشان کی بنا پر ان کی لاش کی شناخت ممکن ہو سکی ۔
(حیات صحابہؓ کے درخشاں پہلو)

اداریہ