Daily Mashriq


قبائلی اضلاع کے عوام کو انصاف کی فراہمی کے عملی اقدامات

قبائلی اضلاع کے عوام کو انصاف کی فراہمی کے عملی اقدامات

قبائلی اضلاع میں عدالتوں کا قیام اور عدالتی نظام کو فعال بنانے کیلئے 28 ججوں سمیت ایک سو دس عدالتی افسران وعملے کی تقرری کے بعد ایک مکمل وفعال نظام قبائلی عوام کو انصاف کی فراہمی اور ان کے بنیادی قانونی حقوق کے تحفظ کی مد میں انقلابی پیشرفت ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انصاف کے نظام کے ضمن میں قبائلی عوام جن مشکلات بلکہ مظالم کا شکار تھے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ابتدا بھی زخم زدہ مقام سے ہونا نہ صرف ان کیلئے باعث اطمینان ہونا چاہیئے بلکہ حکومت اور عوام دونوں کیلئے یہ مقام اطمینان ہے کسی بھی معاشرے کو جانچنے اور شہریوں کے حقوق کے حوالے سے قانونی تحفظ ہی سے ابتداء ہوئی ہے ۔قبائلی عوام کو فرسودہ فرنگی نظام پولیٹیکل انتظامیہ اور خاص طور پر چالیس ایف سی آر کے کالے قانون سے جس صورتحال کا سامنا تھا اس صورتحال سے نکل آنا کسی خوشگوار خواب کے حقیقت بننے سے کم نہیں ۔ قبائلی باشندوں کو جس طرح ناکردہ گناہوں پر برسوں قید وبند اور اجتماعی جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ایک فرد کی خطا کی سزا پورے قبیلے اور پورے علاقے کو ملتی تھی وہ ایک ایسا نا سور تھا جسے کاٹ کر دور پھینک دیئے بغیر قبائلی عوام کو مہذب معاشرے کا حصہ بنانا ممکن نہ تھا قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد اگرچہ وہ ظالمانہ قوانین تو باقی نہ رہے تھے لیکن اس کے اثرات اور باقیات بھی کچھ کم تکلیف دہ نہ تھے۔ علاوہ ازیں عبوری قوانین نہ تو مکمل تھے اور نہ ہی وہ قبائلی علاقہ جات کے عوام کے درد کا درمان بننے کے قابل تھے۔ اس درمیانی مدت میں قبائلی عوام آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا قسم کی جس کیفیت سے دوچار تھے مکمل اور فعال عدالتی نظام کے قیام کے بعد قبائلی عوام اب شہری علاقوں کے ہم پلہ ہوگئے ہیں۔ اب وہ اپنے تنازعات کا فیصلہ بندوق کی نوک یا پھر جانبدار قسم کے افراد سے کرانے کی بجائے عدالتوں سے رجوع کرسکیں گے اور عدالتیں ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائیں گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات میں عدالتوں کے قیام کے بعدوہاں کے عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کا تقاضا ہوگا کہ اولاً عدالتوں میں چونکہ مقدمات کی پہلے سے بھر مار نہیں اس لئے مقدمات کا فیصلہ ریکارڈ مدت میں کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ایک جانب جہاں عدالتیں زیر بار نہ ہوں وہاں عوام کو بھی فوری انصاف کی فراہمی ان کیلئے مثبت تبدیلی کا باعث ثابت ہو۔

تجاوزات اور عوامی مسائل

مشر ق ٹی وی فورم میں صوبائی دارالحکومت کے مرکزی علاقہ اور تاریخی قصہ خوانی بازار سے متصل بازار جہانگیر پورہ کے مکینوں اور دکانداروں کی جانب سے تجاوزات کی شکایات کا سامنے آنا توجہ طلب امر ہے۔ فورم میں اس امر کی بجا طور پر نشاندہی کی گئی کہ تجارتی سرگرمیوںکامرکزجہانگیر پورہ تجاوزات کا مرکز بن چکا ہے اس کے باوجود کہ جہانگیرپورہ سے صوبائی خزانے میں تین سے چارارب روپے کاریونیوجمع ہوتاہے۔ علاقے میں پانی کی قلت کی بھی شکایت سامنے آئی جس کے جواب میں زونل منیجرڈبلیوایس ایس پی کا موقف تھا کہ ریگولربل اداہوںتوشکایات نہیں ہوںگی۔ علاوہ ازیں علاقے کے عوام اس امر پر بھی نالاں تھے کہ شہید بشیربلور ہسپتال اب تک نا مکمل ہے جبکہ یونین کونسل میںلڑکوںکاکوئی سرکاری سکول نہ ہونا تو اس بنا پر نہایت تعجب خیز بات ہے کہ یہ قدیم علاقہ انگریزوں کی برصغیر آمد سے بھی قبل آباد اور گنجان آبادی والا علاقہ تھا ،ہم سمجھتے ہیں کہ یکساں قسم کے مسائل کا سامنے آنا موجودہ اور گزشتہ تمام حکومتوں کے دعوئوں کی نفی ہے۔ ایسا کیوںہے اس سوال کا جواب حکمران ہی دے سکتے ہیں۔ ہم یہ کہنے پر ہی اکتفا کریں گے کہ اگر شہر کے مرکزی علاقے میں صورتحال یہ ہو تو دور دراز علاقوں میں عوامی مسائل اور محرومی کا عالم کیا ہوگا۔ جہانگیر پورہ بازار سمیت شہر کے گنجان آبادی والے علاقوں اور بازاروںمیں سابق گورنر افتخار حسین شاہ کے دور میں تجاوزات کیخلاف جو حقیقی معنوں میں اور بلا امتیاز آپریشن کیا گیا تھا ایک مرتبہ پھر اس کے اعادے کی ضرورت ہے تبھی شہری علاقے تجاوزات سے پاک کیئے جانا ممکن ہوگا۔

ڈیرہ میں ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات

ڈیرہ اسماعیل خان میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تشویشناک صورتحال ہے۔ ٹارگٹ کلنگ میں پولیس اہلکاروں اور ایک خاص فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کونشانہ بنایا جارہا ہے جس سے جہاں فرقہ وارانہ فسادات اور منافرت پھیلا نے کی مذموم کوششوں کا عندیہ ملتا ہے وہاں علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ ہر دو وجوہات اس امر کے متقاضی ہیں کہ علاقے میں بھر پور سرچ آپریشن کر کے عوام کو تحفظ کا احساس دلایا جائے۔

متعلقہ خبریں