Daily Mashriq


میاں نواز شریف کی ہسپتال سے جیل واپسی

میاں نواز شریف کی ہسپتال سے جیل واپسی

سابق وزیر اعظم نواز شریف جو قیدی کی حیثیت سے لاہور کے جناح ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد خود اپنے اصرار پرکوٹ لکھپت جیل منتقل ہو گئے ہیں۔ جیل میں منتقل ہونے کا فیصلہ ان کا اپنا ہے۔ عدالت کانہیں۔ جیل میں ان کی طبیعت خرا ب ہوئی تھی تو انہیں سرکاری سروسز ہسپتال لاہور میںمنتقل کیا گیا تھا۔ میاں صاحب کو دل کے عارضے سمیت متعدد عارضے لاحق بتائے جاتے ہیں۔ تاہم چند ماہ پہلے انہوں نے لندن میں دل کا علاج کرایا تھا۔ سروسز ہسپتال میں دل کے عارضے کے علاج کی سہولت موجود نہیں ہے۔ یہ اعتراف خود سروسز ہسپتال کے سربراہ نے کیا تھا جس کے بعد انہیں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جس میں وہ اپنے اصرار پر جیل منتقل ہونے تک زیرِ علاج رہے۔ ان کے مختلف ٹیسٹ ہوئے ' مختلف ماہرین کے بورڈ نے ان کے معائنے کیے اور ان کے معائنوں اور علاج معالجے کی رپورٹیں ان کی درخواست ضمانت کے ساتھ عدالت میں پیش کی گئیں۔ عدالت نے فیصلے میںلکھا ہے کہ آئین کی دفعہ 199کے تحت کسی قیدی کی سزا معطل کرنے اور اسے رہا کرنے کااختیار غیر معمولی حالات میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ جب کہ درخواست گزار کو پاکستان میں دستیاب بہترین علاج کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔ اس بنیاد پرعدالت نے میاں نواز شریف کی سزا کی معطلی اور ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کی ہے۔عدالت کا فیصلہ جناح ہسپتال میں دستیاب طبی سہولتوں کے مطابق ماہر ڈاکٹروں کی طبی رائے پر مبنی ہے۔ عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی ہے ' جناح ہسپتال میں (جہاں انہیں پاکستان میںدستیاب اعلیٰ ترین سہولتیں میسر تھیں) علاج کی سہولت منسوخ کرنے کا فیصلہ نہیں دیا۔ اور عدالت نے فیصلے کی بنیاد جناح ہسپتال کے ماہر ڈاکٹروں کی تشخیص اور تجویز اور علاج کی رپورٹوںکو بنایا ہے۔ اس میں نہ کسی این آر او کا دخل ہے 'نہ کسی ڈیل یا ڈھیل کا۔ اس لیے جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت کے فیصلے سے کسی ڈیل یا ڈھیل کا تاثر ختم ہو گیا ہے وہ محض پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن والے بجا طور پر یہ سوال کرتے ہیں کہ بتائیںکس نے این آر او مانگا اور کب مانگا۔ اس سے آگے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حکومت ان معاملات میں جو عدالت میں زیرِ سماعت ہیں کوئی خفیہ ڈیل کر سکتی ہے ؟ ملزم کو سزا دینے نہ دینے کا اختیار عدالتوں کا ہے جو وہ شواہد کی بنیاد پر قانون کے تقاضوں کے مطابق کرتی ہیں۔ این آر او ہوا تو یہ باقاعدہ ایک آرڈیننس کے ذریعے ہوا تھا ۔حکومت اگر مقدمات واپس لینے کا قصد کرے تو وہ بھی کسی قانونی اجازت کے تحت ہی ممکن ہوگا۔ اس لیے این آر او دینے یا لینے اور ڈیل یا ڈھیل کی بحث ختم ہو جانی چاہیے۔ زیرِ نظر معاملے میں میاں نواز شریف نے بیماری کے باعث سزا معطل کرنے اور ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی تھی جو عدالت نے منظور نہیںکی لیکن عدالت میں یہ درخواست نہیں کی گئی تھی کہ انہیں ہسپتال سے واپس جیل بھیج دیا جائے۔ نہ عدالت کے فیصلے میں ان کے واپس کوٹ لکھپت جیل جانے کا کوئی ذکر ہے۔ وہ جب جناح ہسپتال میں تھے تو اس وقت بھی قیدی تھے اور کوٹ لکھپت جیل میں بھی قیدی ہی ہوں گے ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ انہیں بیماری کی حالت میں کوٹ لکھپت جیل لیجانے کا فیصلہ کس نے کیا۔ اخبارات کی خبروں کے مطابق یہ اصرار میاں صاحب نے خود کیا تھا کہ ضمانت نہ ہونے کی صورت میں انہیں جیل میں منتقل کیا جائے۔ اس اصرار کی وجہ کیا تھی سامنے نہیں آئی۔ کیا میاں صاحب جناح ہسپتال کے علاج سے غیر مطمئن تھے ؟ کیا میاںصاحب جناح ہسپتال میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے تھے ؟ کیا جناح ہسپتال میں ان کا کوئی حق مثال کے طور پر حق تخلیہ پامال ہو رہا تھا؟ ان کے اہلِ خانہ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ کیوں جناح ہسپتال کی بجائے جیل کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں ان کی طبیعت خراب ہوئی تھی۔ کیا اب وہ جیل کے ہسپتال میں منتقل ہوئے ہیں یا اپنے لیے مخصوص کمرے میں؟ کیا اب جیل میں ان کے لیے سہولتیں بہتر ہو چکی ہیں؟ ہسپتال والے بالعموم مریض کی درخواست پر اسے ڈسچارج کر دیتے ہیں ۔ اس میں غالباً یہ مضمر ہوتا ہے کہ مریض اپنی مرضی کے مطابق بہتر علاج کرانا چاہتا ہے۔ تاہم جناح ہسپتال کے معالجوں کی تحویل میں ایک معروف شخصیت زیرِ علاج تھی ' انہیں اسے ہسپتال سے فارغ کرنے میں تامل ہونا چاہیے تھا۔ قیاس چاہتا ہے کہ جناح ہسپتال کے معالجوں نے آج کے انٹرنیٹ کے دور میں میاں صاحب کے لندن کے معالجوں سے بھی تشخیص اور تجویز کا تبادلہ کیا ہو گا۔ اور ان کا پاکستان میںدستیاب بہترین علاج جاری رکھا ہو گا۔ ہر شہری کی طرح میاں صاحب کی جان بھی بہت قیمتی ہے 'ان کا بہترین علاج ہونا چاہیے۔ ہر شہری ریاست پاکستان کا اثاثہ ہے 'اسے یہ اختیار نہیںہونا چاہیے کہ وہ اپنی ذات کو علاج یا بہتر علاج سے محروم کر دے۔ ممکن ہے میاں صاحب علاج سے مطمئن نہ ہوں لیکن یہ ان کی اپنے احساس پر مبنی ذاتی جذباتی رائے ہو گی ۔ وہ میڈیکل ایکسپرٹ نہیں ہیں ۔ میڈیکل ایکسپرٹس کی رائے کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے تھی ۔ انہیں ہسپتال سے جہاں انہیںپاکستان میں دستیاب علاج معالجے کی بہترین سہولیات حاصل تھیں فارغ نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ پاکستان کے قانون میںکسی شہری کو یہ حق حاصل نہیںہے کہ وہ اپناعلاج منقطع کر کے اپنی جان کو خطرے میں ڈال دے ، اس کی جان اللہ کی امانت ہے 'فرد اور معاشرے پر اس کی حفاظت فرض ہے۔ میاں صاحب کے جیل جانے کے اصرار سے یہ تاثر قائم ہو رہا ہے کہ یہ ان کی بچگانہ ضد ہے ' وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ان کی ضمانت منظور نہیں کی جائے گی تو وہ علاج ترک کر دیں گے اور جیل چلے جائیں گے۔ لیکن اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا فیصلہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی ۔ امید ہے عدالت اس معاملے پر سوموٹونوٹس لے گی۔

متعلقہ خبریں