Daily Mashriq

چائے کی پیالی میں طوفان

چائے کی پیالی میں طوفان

حالیہ دنوں میں ایک بار پھر کچھ مخصوص ذہن کے لوگوں نے اچانک سوشل میڈیا پر''چائے کی پیالی'' میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جمعہ کی چھٹی بحال کرنے کی مہم کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ یہ خود ساختہ خبریں اتنی خوبصورتی اور تیقن سے پھیلائی گئیںجن میں جمعہ کی چھٹی بحال کرنے کے دعوے تک کئے گئے مگر حکومت نے دوٹوک الفاظ میں ان''افواہوں'' کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کردی کہ جمعہ کی چھٹی بحالی کا کوئی فیصلہ سرے سے ہوا ہی نہیں،یوں اس باب کو بند کردیا، اگرچہ حکومت کی جانب سے اس واضح تردید کے بعد وقتی طورپر''افواہیں'' پھیلانے والے خاموش تو ضرور ہوئے ہیں مگر ان کو مکمل چپ نہیں لگی اور بقول آفتاب مضطر

چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کے ہاتھوں

مجبور سہی، وقت سے ہارا تو نہیں ہوں

اب ایک مقامی اخبار میں ایک سابقہ ایم پی اے نے جن کا تعلق ایک ایسی مذہبی سیاسی جماعت سے ہے جو جمعہ کی چھٹی اور سود کے مکمل خاتمے کی سب سے بڑی موید جماعت ہے ، اخباری فورم میں ایک بار پھر ان دونوں معاملات پر لب کشائی فرماتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں بنیادی ذمہ داریوں سے غافل ہوچکی ہیں۔ بنیادی ذمہ داریوں سے ان کی کیا مراد ہے اس سے فی الحال ہمیں کوئی تعرض یا واسطہ نہیں ہے اور ان کے خیالات پر بات بھی ہو سکتی ہے تاہم موجودہ کالم کو ہم صرف محولہ دومعاملات تک محدود رکھتے ہوئے ان پر ہی بحث کریں گے یعنی جمعہ کی تعطیل اور سودکے مکمل خاتمے کے مسائل کو دیکھیں گے ۔پہلے سود کی بات کرلیتے ہیں جس سے کوئی بھی مسلمان اسلامی اصولوں اور اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات کی وجہ سے دوسری کوئی رائے رکھ ہی نہیں سکتا یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے سود کو خود اللہ جل شانہ ، کے ساتھ جنگ قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کا جو واضح حکم دیا ہے اس کے بعد کوئی بد بخت ہی ہوگا جو اس کی حمایت کرے گا، تاہم جس بات کا آنے والی سطور میں تذکرہ مقصود ہے اس حوالے سے کئی سال سے مختلف اوقات میں بار بار علمائے دین یہاں تک کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اکابرین تک کی توجہ دلاتے ہوئے ہم نے ایک سوال اٹھایا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سوال کا جواب آج تک نہیں مل سکا اور جو سوال ہم بار بار کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ ضیاء الحق کے دور سے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے بنکوں کے سیونگ اکائونٹس کھاتوں سے زکواة کے نام پر کٹوتیاں شروع کی گئیں جو تب سے جاری ہیں ،اب سود کی بنیاد پر چلنے والے کھاتوں سے زکواة کاٹنے کا عمل اسلام کے کن اصولوں کی بنیاد پر جائز ہے اور اس بارے میں علمائے دین متین کیوں خاموش ہیں؟ ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر جو مذاق اس ملک کے عوام کے ساتھ شروع کیا اور بعد میں زکواة کے نام پر کروڑوں روپے جو اب اربوں تک جاپہنچے ہیں ،سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کس طرح استعمال کرنے شروع کئے اور بعد میں آنے والی حکومتوں نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا، مگر علمائے کرام ایک طرف سود کے خاتمے کیلئے آواز بلند کرتے ہیں جو عین اسلام ہے ، مگر دوسری طرف سودی کھاتوں سے زکواةکی کٹوتی پر ''بوجوہ'' خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کہ لوگ بہت کچھ جانتے ہیں اور صورتحال بقول شاعریوں بھی ہوسکتی ہے کہ

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

ان کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے

اب ذراجمعہ کی چھٹی پر بات کرلیتے ہیں، جو لوگ جمعہ کی چھٹی کے حمایتی ہیں وہ اسے اسلام سے یوں جوڑتے ہیں کہ بے شک جمعہ عبادت کیلئے اسلام میں برگزیدہ دن قرار دیا جاتا ہے اور نماز جمعہ کے خاص اہتمام کی ہدایات موجودہیں، اس دن کا ثواب باقی دنوں کی نسبت بہت زیادہ ہے تاہم یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ نماز جمعہ کیلئے اذان ملنے کے بعد نماز کے اختتام تک تمام سرگرمیاں معطل کردی جائیں۔البتہ نماز کے اختتام پر زمین میں پھیل جانے اور رزق کمانے کا حکم بھی واضح ہے ، اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام میں تعطیل یا چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہے ، اور رزق حلال کمانے کے واضح احکامات موجود ہیں،صرف ڈیڑھ دو گھنٹے(نماز کی ادائیگی کے اوقات) تک کاروبار بند نہ کرنے سے اس دوران جو کمائی ہوگی اس پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں ۔اسلامی تاریخ میں اس حوالے سے چھٹی کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ،یہ تو ہم نے یہودونصاریٰ سے مستعار لیا ہے ،چونکہ نصاریٰ کے نزدیک اتوار کی چھٹی اور یہودیوں کے نزدیک ہفتہ کے دن کی چھٹی کا تصور ہے اور موجودہ دور میں یہی دونوں قومیں دنیا کی معیشت پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور ان کے اشارہ ابرو پر دنیا کا معاشی نظام چلتا ہے اس لئے بیشتر (خصوصاً) مغربی ممالک میں یہی دو دن بنکوں، سٹاک ایکسچینج اور دیگر مالیاتی اداروں میں تعطیل ہوتی ہے اور عالمی سطح پر سارا معیشتی نظام بند ہوتا ہے اس لئے چھوٹے ممالک نے بھی مجبوراًیہی دو دن سرکاری تعطیل کیلئے مقرر کر دیئے ، ہمارے ہاںقیام پاکستان کے بعد کئی دہائیوں تک صرف اتوار کی چھٹی ہوتی تھی، باقی دنیا میں بھی یہی اصول تھا مگر جب یہودی پوری دنیا کی مالیات کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے تو ان کے مطالبے پر ہفتہ کا دن بھی تعطیل کے طور پر شامل کر دیا گیا ۔ حالانکہ بانئی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے قوم کیلئے''کام ،کام اور بس کام'' کا اصول طے کیا تھا مگر ہم نے وہ بھی بھلادیا، ایک بار جمعہ کی تعطیل کے ساتھ ہفتہ کی تعطیل کا نظام بھی چلا کر واپس لے لیا گیا تھا مگر اب دوبارہ جمعہ کی چھٹی کیلئے آوازیں اٹھائی جارہی ہیں جبکہ حکومت نے اسے مسترد کردیا ہے ،اس لئے اب اس بحث کو ختم ہو جانا چاہیئے۔

بلا کا زور تھا حالات کے تنائو میں

کئے نہ ہم نے مگر فیصلے دبائو میں

متعلقہ خبریں