Daily Mashriq

پاک بھارت حالت جنگ میں

پاک بھارت حالت جنگ میں

پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان زبر دست تنائو اور کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کیخلاف جنگ کی تیاریوں میں ہیں اور دونوں کے تیور سے ایسا لگ رہا ہے جیسے ایک دوسرے پر حملہ کرنے والے ہیں۔اگر ہم حالات کا تجزیہ کریں تو اس وقت پاکستان کے جتنے بھی پڑوسی ہیں انکے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں خواہ وہ بھارت ہو افغانستان ہویا ایران، مگر پاکستان کی مسلح افواج اور عوام ایک پیج پر ہیں ۔بھارت الزام لگا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کر رہا ہے ۔ میں مختلف ممالک کے سکالروں کے ٢٠٠ سے زیادہ تحقیقی مقالے پڑھ چکا ہوں۔ ان تحقیقی مقالوں کے مطابق مقبو ضہ جموں اور کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ وہاں کے مقامی لوگ ،حق خود ارادیت کے لئے کر رہے ہیں۔ اور اس میں کوئی بیرونی ہاتھ ملوث نہیں۔ میں سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کے حالیہ دورے اوروزیر اعظم عمران خان کی اس بات سے ١٠٠ فی صد اتفا ق کرتا ہوں کہ وہ بڑا بے وقوف ہوگا جسکے گھر مہمان آنے والے ہوں اوروہ کسی پر حملہ کرے گا یا دھماکا کر کے اپنے لئے خود مشکلات پیدا کرے گا ۔ اسکے با وجودبھارت پھر بھی پاکستان پر اس کا الزام تھوپ رہا ہے۔اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو اس واقعے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں بنتا بلکہ اس قسم کے حملے قابض فوج کے خلاف ہورہے ہیںجہاںپر خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے ۔ یہ مکمل طور پر مقامی ہے اور کشمیری اٹھ کھڑے ہوچکے ہیں۔ اب جبکہ بھارت میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور مودی سرکار کی سیاسی پوزیشن کمزور ہے تو ایسے وقت میں بھارت کا اس قسم کے ڈرامے رچا نا عقل سے بعید نہیں۔ اگربھارت کے حالیہ کئی صوبوں کے الیکشن کا تجزیہ کیا جائے تو ان انتخابات میں مودی سرکار بُری طرح ہا ر گئی اور پلوامہ جیسے حالات پیدا کرکے وہ بھارتیوں کے دل جیتنا چاہتے ہیں۔اگر ہم مزید اندازہ لگا ئیں تو امریکہ ، اسرائیل ، افغانستان اور ایران چاہتے ہیں کہ نریندر مودی دوبارہ اقتدار میں آئے اور اسی وجہ سے یہ چاروں ممالک مودی کی انتخابات میں کامیابی کی حمایت کرتے ہیں۔کیونکہ امریکہ ایران اور اسرائیل کبھی بھی نہیں چا ہتا کہ سی پیک مکمل ہو اور پاکستان کے سیاسی اور اقتصادی حالات ٹھیک ہوں ۔علاوہ ازیں پاکستان کی جُغرافیائی حیثیت پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ہر ایک اس خطے کو قابو اور اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے پا س جو ہری ہتھیار ہے اور ہر ایک کو اس ہتھیا ر کا خوف ہے۔ دوسری با ت یہ ہے کہ مو دی اسرائیل ،امریکہ اور افغانستان کی پاکستان کے بارے میں رائے ایک ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے۔اب جب کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان انتہائی کشیدگی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ٢١ کروڑ عوام کویک جان ہونا چاہئے۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے آپس میں اختلاف ہیں جو ختم ہو سکتے ہیں کیونکہ اب ملک کی بات ہے۔ اس وقت ہمیں اپنے اختلافات بُھلانا چاہئے اور کو شش کرنی چاہئے کہ دشمن ہماری صفوںمیں اختلافات پیدا نہ کرسکے۔جنگوں میں ہتھیاروںاوروسائل سے زیادہ ملک اور قومی اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر اس وقت ہم نے محبت اخوت اور پیار کا رشتہ برقرار نہ رکھا تو ہم مٹ جائیں گے ۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کسی صورت ہمیں خوش نہیں دیکھ سکتے۔ اور انکی کو شش ہے کہ پاکستان کے سٹریٹجک لوکیشن پر قبضہ کیا جائے۔ اس ہیجانی کیفیت سے نکلنے کے بعد حکومت کو پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام کی اُن مشکلات کی طرف توجہ دینی چاہئے جنکی وجہ سے عوام، حکومت اور فوج کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی ہے وہ ختم ہو۔کیونکہ جب تک پاکستان کے عوام متحد اور متفق نہ ہوں گے اس وقت تک ہم زندگی کے کسی شعبے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جنگیں قومیں اور عوام جیتتی ہیںاسلحہ سے نہیں جیتی جاتیں۔ اگرہتھیاروں سے جنگ جیتی جا سکتی تو پھر روس کو کبھی شکست نہ ہوتی۔ کیونکہ روس کے پاس جتنا اسلحہ تھا وہ دنیا میں کسی ملک کے پاس نہیں تھا۔اسی طرح امریکہ جو افغانستان میں شکست کھا نے والا ہے حالانکہ امریکہ تو دفاع پر پوری دنیا کا تیسرا حصہ خر چ کر رہا ہے۔ پھر امریکیوں کو کبھی بھی افعانستان میں جنگ نہیں ہا رنی چاہئے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ١٩٦٥ء کی جنگ میں جب پاکستان کے عوام متفق اورمتحد تھے تو اس وقت بھارتی فو جیوں کو لاہور سے ڈنڈوں اور لا ٹھیوں سے بھگا یا گیا تھا۔امریکہ کے ایک سابق صدر جمی کا رٹر نے کیا خوب کہا Great strenght does not make ensure great wisdomکہ یہ لازمی نہیں کہ جو زیادہ طا قت ور ہو وہ زیادہ عقل والا بھی ہو۔

متعلقہ خبریں