Daily Mashriq

ٹیکنالوجی، ترقی کی دوڑ اور پاکستان کا الٹا سفر

ٹیکنالوجی، ترقی کی دوڑ اور پاکستان کا الٹا سفر

پاکستان کے بڑے شہروں میں ٹیکنالوجی ایونٹ کا رجحان ابھر رہا ہے جس میں مختلف تجزیہ نگار، انٹرپرینیور، سرمایہ کار اور تبصرہ نگار پاکستان میں تیزی سے ابھرنے والی ٹیکنالوجی صنعت میں موجود موقعے کے بارے میں ولولہ خیز انداز میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مقامی سطح پر ابھرتی ٹیکنالوجی جادوئی گھوڑوں، یعنی ارب ڈالر کی مالیت والی کمپنیوں کی بہتات کے ساتھ پاکستان ایشیا کی اگلی سیلیکون ویلی بن جائے گا۔یہاں سوالات ابھرتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاں قیمتی ٹیلنٹ موجود ہے تو ہمارے پاس جادوئی گھوڑے کیوں نہیں ہیں؟جواب سادہ ہے، ہم نے نئی نئی ٹیکنالوجی اور انٹرپرینیورز کے پنپنے کے لیے ضروری ماحول پیدا ہی نہیں کیا۔ ایک ایسا ماحول جس میں ایسے تعلیمی ادارے شامل ہوں جو ایک تخلیقی پیداواری ذہنیت کو فروغ دیتے ہوں، جہاں شفاف اور سہل حکومتی قوانین موجود ہوں اور جہاں مددگار مشورے دینے والے مالدار سرمایہ کاروں کی بہتات ہو۔چلیے تعلیم پر نظر ڈالتے ہیں۔ دنیا کے ٹیکنالوجی مراکز کا اسٹینفورڈ اور ایم آئی ٹی جیسے عالمی معیار کے ریسرچ اداروں میں جمع ہونا کوئی اتفاق کی بات نہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں بلوچستان کے سابق وزیرِاعلیٰ کہتے ہوں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا نقلی۔ اور جہاں پروفیسرز کو اکثر و بیشتر چوری کے مواد کے ساتھ لکھے اور شائع شدہ تحقیقی مضامین کی تعداد کی بنیاد پر ترقیاں دی جاتی ہوں، یہ دیکھے بغیر کہ اس کا معیار کیسا ہے، وہ ملک اگر گلوبل انوویشن انڈیکس 2018 میں 126 ملکوں میں سے 109ویں نمر پر آئے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔یہ بھی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ ہماری لاکھ کوششیں کرنے پر بھی ہم راتوں رات اسٹینفورڈ کے معیار کا کوئی ادارہ قائم نہیں کرسکتے۔ البتہ ہم یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ مختلف ایسے علاقوں میں تخلیقی لوگوں کو سامنے لانے والی جگہیں (innovation clusters) بنائیں جہاں صنعتیں اور یونیورسٹیاں مل کر اعلیٰ سطحی تحقیقی مراکز قائم کرسکتے ہوں۔تاہم، اس کام کے لیے مناسب جگہوں کی نشاندہی کرنے کی ضرورت پڑے گی، اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی اداروں کی حالت بہتر کرنی ہوگی، ساتھ ہی ساتھ تحقیق اور تعلیم میں سرمایہ کاریاں کرنی پڑیں گی جن سے ایک پوری نسل کو تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوپائے گا۔ اس کام کے لیے ہمیں عام تعلیم میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ہم زندگی بھر سیکھنے والے پیدا کرسکیں جو مسلسل سیکھنے کا عمل جاری رکھیں اور چوتھے صنعتی انقلاب میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ایک اور کڑوی سچائی بھی ہے جسے حکومتی افسران اور مقامی ٹیکنالوجی کے شوقین تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں اور وہ یہ حقیقت ہے کہ مقامی قوانین، ریگولیشنز اور انفرااسٹرکچر کی وجہ سے انٹرپرینیورز کو سنگین چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں کاروباری مرکز کے لیے بجلی کا کنیکشن لگوانے میں 160 سے زائد دن لگ جاتے ہیں، جو 98 دنوں کے علاقائی اوسط سے کہیں زیادہ ہے اور اس میں لاگت بھی 50 فیصد زیادہ آتی ہے۔ 2018 میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت میں پاکستان ورلڈ بینک کی ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈیکس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 ملکوں پر سبقت پاکر 136ویں نمبر پر آیا لیکن گزشتہ دہائی کے تناظر میں دیکھیں تو پاکستان 2009 سے 50 سے زائد ملکوں سے پیچھے گیا ہے۔آخری بات یہ کہ چینی کمپنیوں کی حالیہ سرمایہ کاریوں، گزشتہ دہائی میں انکیوبیٹرز(نیا کاروبار شروع کرنے والوں یا کاروبار کا آغاز کرنے والوں کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنی)ایکسی لیٹرز، اسٹارٹ اپ مقابلوں اور کانفرنسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے علاوہ چند نامور وی سی فرمز کے آنے کے باوجود پاکستان کی جانب سے بنایا گیا سرمایہ خطے میں موجود دیگر کھلاڑیوں کی وجہ سے چھوٹا پڑ گیا ہے اور خارجی راستوں کو اہمیت نہیں دے رہے۔ پاکستان کے ٹیکنالوجی سے متعلق اپنا کاروبار شروع کرنے والوں نے انڈونیشیا جیسے ملکوں کی نسبت 2018 میں 3 کروڑ ڈالر سے کم سرمایہ جوڑا جبکہ انڈونیشیا (جہاں اگر ہم جادوئی گھوڑوں کو نہ بھی گنیں تو بھی)2018 میں2ارب70کروڑ40 لاکھ سے زائد سرمایہ بڑھایا۔ان تمام چیلنجز کے باوجود سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ آئی ٹی بجٹ میں 53 فیصد کی کٹوتی کی جائے گی، جو پہلے سے غیر مسابقتی صنعت کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ہمارے کاروباری ماحول میں بنیادی خرابیوں کو مدِنظر رکھیں تو پاکستان کو ایشیا کی اگلی سیلیکون ویلی بنتا دیکھنے کی آرزو کراچی کی سڑکوں پر حقیقی جادوئی گھوڑے کو دوڑتے دیکھنے کی تمنا جیسی ہی محسوس ہوتی ہے۔آذربائجان سے لے کر زمبیا تک، تقریباً ہر ملک اپنے اپنے خطے کی اگلی سیلیکون ویلی بنانے کی خواہش رکھتا ہے، پھر چاہے ان کے لیے یہ صنعت کتنی نوزائیدہ ہی کیوں نہ ہو۔قومی غیر معمولیت (national exceptionalism) کا یہ احساس ہمارے لیے نیا نہیں۔ لیکن اگر ہم ایسا کاروباری ماحول بنانا چاہتے ہیں جو ہمیں عالمی حریفوں کے مدمقابل بنائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے کمزور پہلوئوں کو تسلیم کریں اور ایسے قوانین، نظام اور کلچر پیدا کریں جو پاکستان میں ٹیکنالوجی سے متعلق کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے ماحول کو بہتری کی جانب لے جائے تاکہ پاکستان کے جادوئی گھوڑے سامنے آسکیں۔

(بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں