Daily Mashriq

وعدہ کافی نہیں عملدر آمد یقینی ہونا چاہیئے

وعدہ کافی نہیں عملدر آمد یقینی ہونا چاہیئے

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کواے جی این قاضی فارمولے کے تحت پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی خوش آئند امر ہے۔ ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق گزشتہ روز وزیراعلیٰ نے وزیراعظم عمران خان کو اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت نیٹ ہائیڈل مسئلے سمیت چترال میں توانائی کے چار منصوبوں ، صوبے میں موجود بجلی اور اس کے نیشنل گرڈ میں جانے یا پھر صوبے میں صنعتی ترقی کیلئے استعمال میں لانے کی اجازت کے حوالے سے بریفنگ دی ۔وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبائی حکومت کی طرف سے قائم کئے گئے356مائیکرو ہائیڈل پراجیکٹس کی موجودہ صورتحال سے بھی آگاہ کیااوربتایاکہ326نیٹ ہائیڈل پاور سٹیشن قائم کئے جا چکے ہیں ، جو آئندہ دو سے تین ماہ کے اندر متعلقہ کمیونٹی کے حوالے کر دیئے جائیں گے ۔ کمیونٹیز ان منصوبوں کی مالک ہو ں گی اور خود ہی ان منصوبوں کو چلائیں گی اور اس کا انتظام سنبھالیں گی ۔وزیراعظم نے انرجی سے متعلق تمام مسئلے حل کرنے کی ہدایت کی اور تیل وگیس کی چوری کا نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بچلی چوری کے خلاف مہم میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ جو لوگ بل ادا کرتے ہیں وہ متاثر نہ ہوں اور جو لوگ چوری کرتے ہیں اُن کی حوصلہ شکنی ہو ۔ہمیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی مساعی اور وزیراعظم عمران خان کی مکرر یقین دہانی میں کوئی شبہ نہیں لیکن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کے معاملے پر خیبر پختونخوا کی ہر حکومت دودھ کا جلا رہ چکی ہے اس لئے چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پینا ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے ۔بجلی کے خالص منافع کے حصول کیلئے وزیراعلیٰ کی مشکلات دوہری نوعیت کی ہیں۔اول یہ کہ عوامی حلقے اور میڈیا شدت سے منتظر ہیںکہ تحریک انصاف کی حکومت صوبے کے عوام کو ان کا واجب الادا حق دینے میں کس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اس ضمن میں مرکزی حکومت اور قیادت سے کس قدر جلد سے جلد اس ضمن میں عملی اقدامات کروانے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات سمیت منافع کی رقم کی تسلسل سے وصولی وہ واحد نکتہ ہے جس میں حکومت حزب اختلاف اور عوامی آراء میں کوئی تفریق نہیں یہ صوبے کی حکومت اور عوام کی ایک آواز اور پرزور مطالبہ ہے کہ ہمیں ہمارے حالات کے باعث اگر مرکز اضافی وسائل دینے سے معذور ہے تو کم از کم ہمیںہمارے اس حق کی تو یکمشت ادائیگی تو کی جائے۔ صوبے کے عوام بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ جس جماعت کی قیادت پر وہ اپنی تاریخ میں دوسری مرتبہ اعتماد کر چکے ہیں وہ ان کو محروم نہیں کرے گی۔ اگر دیکھا جائے تو ابتک اس ضمن میں وعدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔ حکومت کی تبدیلی اور صوبے کے ہمدردوں کی حکومت آنے کے باوجود ہنوز خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات کی وصولی نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے صوبے کا بجٹ تخمینہ بھی بگڑنے کا قوی خدشہ اور اندیشہ ہے۔ جہاں تک گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس اور صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کے ضمن میں کمیٹی کے قیام اور اس سے ایک ہفتے کے اندرسفارشات طلبی کا تعلق ہے ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اسے تاخیری حربے اختیار کرنے سے تشبیہہ دینے پر مجبور ہیں۔ اس خالص معاملے کے ضمن میں صوبائی حکومتوں اور قیادت کو اس طرح کے تاخیری حربوں سے قبل از یں کئی بارواسطہ پڑ چکا ہے جس کا نتیجہ ہر بار صفر ہی نکلنے کا ہمیں تلخ تجربہ ہے۔بنا بریں ہمیں اس اقدام سے بھی کوئی اطمینان نہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ اے جی این قاضی فارمولہ ایک طے شدہ فارمولہ ہے جس کے تحت صوبے کو بقایا جات سمیت ادائیگی کیلئے اب مزید کسی طریقہ کار کا جائزہ لینے اور اقدامات کی ضرورت نہیں۔ صوبے کے عوام کو ان کا بنیادی حق چاہیئے۔ اس میں مزیدتاخیر صوبے کی حکومت ارکان اسمبلی حزب اختلاف اور عوامی حلقوں کسی کو بھی منظور نہیں ۔ صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی خطیر رقم ملنے پر ہی صوبے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار بڑھانا صحت تعلیم اور مواصلات جیسے بنیادی اور ضروری شعبوں میں بہتری لانا ممکن ہوگا۔صوبے کے وسائل کی فراہمی وادائیگی کی ذمہ داری نبھائے بغیر مرکزی حکومت صوبائی حکومت سے احسن کارکردگی کی جس قدر بھی توقع رکھے حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ صوبے کو کم از کم اس کا حق دیا جائے اس کے بعد ہی صوبے میں اصلاحات وبہتری کی توقع رکھی جائے تو بہتر ہوگا۔توقع کی جانی چاہیئے کہ وزیراعظم عمران خان جلد ہی کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعداُن پر عملدرآمد میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں ہونے دیں گے اور خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع مع بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائی جائیگی۔ اس طرح سے ہی وفاقی حکومت صوبے کے عوام کے مسائل کے حل میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے اور صوبے کے عوام کی توقعات پر اسی طرح سے ہی پورا اترنا ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں