Daily Mashriq


انقلابی ویزا پالیسی

انقلابی ویزا پالیسی

نئی ویزا پالیسی کے تحت175ممالک کو ای ویزا جبکہ 50ممالک کے لیے ویزا آن آرائیول کی سہولت دینا وطن عزیز میں سیاحت کے فروغ اور پاکستان آنے کے خواہشمند غیر ملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں4کیٹگریز ہیں اور ویزا پالیسی میں تبدیلی سے70برس بعد نئے دور کا آغاز ہوگا۔وزیراعظم نے یہ قدم تمام متعلقہ ایجنسیوں اور محکموں سے مشاورت کے بعد اٹھایا ہے ۔ بزنس(تجارتی)ویزے کی سہولت بھی68سے بڑھا کر96ممالک کے لیے دی گئی ہے، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے لیٹر کے بعد7سے10روز میں کام کرنے کا ویزا دے دیا جائے گا۔ افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک سے طالب علم پاکستان پڑھنے آتے ہیں، جنہیں ایک سال کا اسٹوڈنٹ ویزا دیا جاتا تھا جبکہ ڈگری پروگرام2سال اور ماسٹر پروگرام4سال تک کا ہوتا ہے، اسی بات کو دیکھتے ہوئے ویزا کی معیاد کو2سال تک کردیا جائے گا۔قبل ازیں سیاحوں کے لیے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جانے کے لیے نان آبجیکشن سر ٹیفکیٹ(این او سی)حاصل کرنا پڑتا تھا، جسے اب ختم کردیا گیا ہے اور سیاح پاکستان میں کہیں پر بھی جاسکیں گے۔نئی ویزا پالیسی کو اگر دنیا بھر کے لوگوں کیلئے پاکستان آمد کے دروازے کھول کر خوش آمدید کہنا قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا کسی بھی ملک کی ویزا پالیسی اور ملکی قوانین سیاحوں اور کاروباری افراد کی آمد ورفت کیلئے اہم ہوتے ہیں حکومت نے غیر ملکیوں کیلئے نرم ویزہ پالیسی اور ویزے کے حصول کی سہولتوں میں اضافہ کر کے پہلی مرتبہ ایسا اقدام کیا ہے جس سے ملک میں سیاحت کے فروغ کے امکانات میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ غیر ملکی جس مقصد کیلئے بھی پاکستان آنا چاہیں ان کیلئے آسانیاں ہوں گی جس سے فائدہ نہ اٹھانے کی کوئی وجہ نہ ہوگی۔

بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟

صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی کی جانب سے یونیورسٹی ٹاؤن پشاور میں لینڈ کمرشلائزیشن پر فوری پابندی عائد کرنا یونیورسٹی ٹائون کے مکینوں کی شکایات کا نوٹس لینے کا پہلاواقعہ نہیں۔قبل ازیں بھی اس حوالے سے بلدیاتی حکام کی کوششوں سے لیکر عدالتی احکامات تک کی صورت میں عملی اور سنجیدہ اقدامات کئے جا چکے ہیں البتہ ان کے نتیجہ خیز ہونے کا سوال حل طلب رہا ہے اب بھی یہی سوال اٹھے گا کہ مجوزہ اقدامات کس حد تک اور کتنے عرصے تک یقینی رہتے ہیں ۔یہ سوال تو نوشتہ دیوار ہے کہ جب قوانین موجود نہیں تو زمین اور املاک کے کمرشل استعمال کی اجازت کیسے دی گئی۔ صوبائی وزیر کی اس امر پر برہمی بجا ہے کہ پورے ٹاؤن میں جگہ جگہ کمرشلائزیشن سے رہائشیوں کی پرائیویسی متاثر ہو رہی ہے اور ان کا سکون تباہ ہو رہا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات نے حکام کو تجویز دی کہ قانون سازی اور رولز میں ترامیم کے ذریعے یونیورسٹی ٹاؤن کی کوئی ایک سڑک یا سیکٹر کو کمرشل ڈکلیئر کیا جائے۔یونیورسٹی ٹائون کے کسی ایک سیکٹر یا سڑک کو کمرشل قرار دینا مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی کافی ہوگا۔ اس کا مستقل حل یا تو پورے یونیورسٹی ٹائون کی رہائشی علاقہ ہونے کی حیثیت تبدیل کر کے کمرشل قراردیا جائے یا پھر ٹائون کے علاقے سے کمرشل سرگرمیاں پوری طرح منتقل کی جائیں۔ علاقے میں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیز کو متبادل جگہ فراہم کی جائے ہسپتالوں کی مستقلی کیلئے بھی حکومت معقول بندوبست کرے۔ علاوہ ازیں گیسٹ ہائوسز اور تمام سرکاری ونجی دفاتر مکمل طور پر ہٹا کر یونیورسٹی ٹائون کی بطور رہائشی علاقہ حیثیت بحال کی جائے تاکہ علاقے کے رہائشی سکھ کا سانس لیں اور کمرشل سرگرمیوں کاخاتمہ ہو۔

قانون کی عملداری کا سوال

پشاور ہائیکورٹ کی عدالتی اختیارات پر اسسٹنٹ کمشنر کی سرزنش اس امر کا ثبوت ہے کہ قبائلی اضلاع کے حکام ابھی تک خود کو پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات کا حامل سمجھتے ہیں۔ ان کی یہ خوبدلنے میں تو وقت لگے گا لیکن انضمام کے بعد تعینات ہونے والے افسران کو ان کا حقیقی مقام اور اختیارات یاددلانا ان کو قانون کے دائرے میں فرائض کی ادائیگی کا پابند بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں ۔ صرف اس علاقے ہی میں نہیں بلکہ پورے قبائلی اضلاع میں عبوری قوانین کانفاذ تو درکنار ان قوانین کا ابھی تعارف ہی نہیں ہواجس کے باعث قبائلی عوام آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کی مثل بن گئے ہیں ۔ گورنر خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیئے اور قبائلی اضلاع کے عوام سے قانون کے مطابق سلوک کو یقینی بنانا چا ہئے علاوہ ازیں ان علاقوں میں تعینات افسران کو قانون کا پابند بنانے کی ضرورت ہے خلاف ورزی کے مرتکب افسران کا تبادلہ اور ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جانی چاہیئے۔

متعلقہ خبریں