Daily Mashriq


عدل اور عادل معاشرہ

عدل اور عادل معاشرہ

کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے۔ اسے منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ پاکستان کے ہر صوبے اور ہر علاقے کے لوگ کراچی میں آباد ہوئے ہیں اور روزگار اور قیام کیلئے اس شہر میں آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آزادی کے بعد کراچی کی آبادی کا شمار 35 لاکھ لگایا جاتا تھا ۔ اب یہ دو سوا دو کروڑ کی آبادی کا مسکن ہے ۔ آبادی کے اس بے تحاشا رفتار سے بڑھنے کے باعث مدنیت کے جو تقاضے پورے ہونے چاہیے تھے وہ ایک عرصے سے نہیں ہوئے۔ اس لیے کراچی کو تجاوزات کا شہر کہا جائے تو کچھ اتنا غلط نہیں ہوگا۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے حکم پر شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات مسمار کی گئیں جس پر متاثرین کی جانب سے بھی احتجاج ہوئے۔ اور میڈیا پر بھی یہ معاملہ زور و شور سے اٹھایا گیا۔ گزشتہ روز ایک سماعت کے دوران ایک بار پھر جب سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں لگ بھگ 500عمارتیں گرائی جانے والی ہیں اور یہ حکم بھی دیا کہ چھائونیوں کے علاقے میں تمام تجارتی سرگرمیاں بند ہونی چاہئیں تو ایک بار پھر کراچی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ایک ٹی وی اینکر کے مطابق سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے تحت سینکڑوں تجاوزات مسمار کیے جانے کے باعث کراچی رو رہا ہے بلک رہا ہے۔ اس میں کلام نہیں کے تجاوزات کی مسماری کے باعث سینکڑوں تعمیرات کے گرائے جانے کی وجہ سے ہزاروں کاروبار اور کئی لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں کہا جا رہا ہے کے ان میں سے متعدد ایسے بھی تھے جن کیلئے حکام سے این او سی حاصل کیے گئے تھے ۔ سپریم کورٹ میں متذکرہ بالا حالیہ سماعت کے بعد ایک بار پھر یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ تجاوزات کی مسماری کی کارروائی پہلے سے بھی تیز تر ہوگی ۔ سندھ کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں گے لیکن تعمیرات نہیں گرائیں گے ۔ تعمیرات کے بورڈ نے اخبارات میں ایک اشتہار شائع کرایا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی زد میں آنے والی تعمیرات کے مالکان ایک ہفتے کے اندر یہ ثبوت فراہم کریں کہ ان کی تعمیرات قانون کے مطابق ہیں۔ وزیر موصوف کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں حالانکہ یہ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کرائے ، انفرادی طور پر کسی وزیر کا نہیں۔ تعمیرات کے بورڈ کے اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بورڈ اپنی ذمہ داری تعمیرات کے مالکان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے ۔تاہم یہ سوال اہم ہونا چاہیے کہ تعمیرات کے بورڈ کو اب اچانک یہ خیال کیوں آیا کہ تعمیرات کے مالکان ان کے قانون کے مطابق ہونے کا ثبوت دیں۔ اگر ان تعمیرات کے قانون کے مطابق ہونے کے بارے میں بورڈ کو کوئی شک تھا تو یہ ثبوت پہلے طلب کیے جانے چاہیئے تھے۔ تعمیرات بھی کافی عرصے سے کراچی میں قائم تھیں اور تعمیرات کا بورڈ بھی یہیں تھا۔ اگر یہ تعمیرات غیر قانونی طور پر بنائی گئی تھیں تو یہ بورڈ کے علم میں ہونا چاہیے تھا۔ جیسا کے سطور بالا میں کہا گیا ہے ان تعمیرات کے مالکوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان کیلئے حکام سے این او سی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ یہ این او سی جن حکام نے جاری کیے ہو سکتا ہے ان میں سے کچھ ریٹائر ہو گئے ہوں ۔ تاہم غالب خیال ہے کہ چند متوفین کے علاوہ ان کی اکثریت بقید حیات یا برسرروزگار ہے ان کو جواب دہ ہونا چاہیے کہ غیر قانونی تعمیرات کیلئے انہوں نے کس قانون کے تحت این او سی جاری کیے یا کس کے دبائو پر جاری کیے؟ ان انجینئرنگ فرموں کی بھی جواب دہی ہونی چاہیے جنہوں نے مناسب منظوری کے بغیر عمارات تعمیر کیں۔ ان محکموں اور اہلکاروں کا بھی مواخذہ ہونا چاہیے جنہوں نے ان تعمیرات کی قانونی حیثیت کی چھان بین کے بغیر انہیں گیس اور بجلی کے کنکشن دیے ۔ اس طرح جسے عرف عام میں بزنس مافیا قرار دیا جاتا ہے اس میں ایک طرف ان لوگوں کو شامل سمجھا جا سکتا ہے جو غیر قانونی تعمیرات کے مالک ہیں دوسری طرف ان اہلکاروں کو بھی شامل سمجھنا چاہیے جنہوں نے ان غیر قانونی عمارتوں کے کھڑا کرنے کی اجازت دی ، اگر اجازت نہیں دی تو ان کے غیر قانونی طور پر وجود میں آنے کا بروقت نوٹس لیکر ان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ ان حکام اور اہل سیاست کو بھی جن کی سفارش یا دبائو کے تحت این او سی جاری کیے گئے اور ان اہلکاروں کو بھی جنہوں نے جاری کیے ان تعمیراتی فرموں کو بھی جنہوں نے ناکافی دستاویزات کی بنا پر یا دستاویزات نہ ہونے کے باوجود بھی عمارتوں کی تعمیر میں حصہ لیا۔ ان کا فرض ہونا چاہیے تھا کہ وہ منظور شدہ نقشے کی بنا پر ہی عمارت تعمیر کریں۔ اس معاملے کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ تجاوزات اتنی بھاری تعداد میں ہیں کہ ان کی مسماری سے ہزاروں لوگوں کا اربوں روپیہ ڈوب رہا ہے۔ تجارتی عمارت کے مسمار ہونے سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ لوگوں کیلئے سر چھپانے اور روزی روٹی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں تو کیا متاثرین کے انبوہ کی بھاری تعداد کے پیش نظر ایسی نظیر قائم ہونے کی توقع کی جانی چاہیئے جس کے باعث ملک بھر میں غیر قانونی عمارتیں قائم کرنے کی کھلی چھٹی مل جائے؟ کیا یہ توقع کی جانی چاہیے کہ آج تک کے غیر قانونی اقدام کو تحفظ دے کر آئندہ کیلئے قانون پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی جائے۔ کیا یہ عدل کے تقاضوں کے مطابق ہوگا؟ جہاں تک سرمایہ کے ڈوبنے کی بات ہے ۔ یہ لوگ کئی سال سے ان تعمیرات سے فوائد حاصل کرتے رہے جو جائز نہ تھے۔ انہیں جائز رہائشی اور کاروباری سہولتیں فراہم کرنا حکومتوں کا کام شمار ہونا چاہیے۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ حکومتوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی سابقہ حکومتوں کی وارث حکومت کیلئے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ متاثرین کو متبادل سہولتیں فراہم کرے۔ ان اہلکاروں حکام اور اہل سیاست اور کمپنیوں کا مواخذہ کرے جن کے غیر قانونی رویہ کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں