Daily Mashriq

سفاری ٹرین اور سیاحت کا فروغ

سفاری ٹرین اور سیاحت کا فروغ

اگر بی آر ٹی طرز کا کوئی منصوبہ ہوتا تو ہم ہاتھ کھڑے کر دیتے بلکہ ہاتھ باندھ کر منت سماجت کرتے کہ اس سے تو''چوہا لنڈورہ ہی بھلا''۔مگر شکر ہے کہ انگریز بہادر نے اپنے لگ بھگ سو سالہ حکومت کے دوران جان جو کھوں میں ڈال کر اور ہندوستانیوں کی قربانیوں کے طفیل پورے برصغیر میں ریلوے ٹریک بچھانے کا وہ محیر العقول کارنامہ سر انجام دے دیا جو اگر ہمارے ماہرین کو خود کرنا پڑتا تو یقیناً آج تک مکمل نہ ہوپاتا بلکہ اس کیلئے پورے متحدہ ہندوستان کو کھنڈرات میں تبدیل کر کے''پشاور'' بنا دیتے، اور ریلوے نظام کا بھی حال پشاور کے بی آر ٹی منصوبے جیسا ہوتا۔ جس کی وجہ سے پشاور کا کیا حال ہو چکا ہے اس کے بارے میں باہر کے لوگ صرف خبریں پڑھتے اور(ٹی وی پر) سنتے دیکھتے ہیںمگر اہل پشاور تو بھگت رہے ہیں جسے فارسی کے ایک فقرے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ شنیدہ کے بودمانند دیدہ۔ اب بھی اکثر بات عقل شریف میں نہیں سمارہی تو یہی کہا جا سکتا ہے بقول شکیل جاذب

تم سے کیا شہر کے حالات کی تفصیل کہوں

مختصر تم کو بتاتا ہوں میاں خیر نہیں

بلکہ پشاور ہی سے تعلق رکھنے والے یارطرحدار ڈاکٹر نذیر تبسم نے تو زیادہ واضح طور پر صورتحال کی نشاندہی یوں کی ہے کہ

کہانی کیا سنائوں اپنے گھر کی

تمہارے سامنے ملبہ پڑا ہے

بات ریلوے نظام کے حوالے سے ہورہی تھی جو انگریزوں نے قائم کیا ہے اور اب وفاق اور صوبے کے مابین سفاری ٹرینیں چلانے کے ایک منصوبے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے جس کے تحت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کے درمیان سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سفاری ٹرینیں چلائی جائیں گی، اس ضمن میں گزشتہ دنوں صوبائی وزیر سیاحت محمد عاطف خان اور ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی ملاقات میں طے پایا ہے کہ تخت بھائی، اٹک خورد اور طورخم تک سفاری ٹرینیں چلائی جائیں گی ، جس کا مقصد خیبر پختونخوا میں سیاحت کو فروغ دیا جانا ہے ، ان تینوں مقامات کی اپنی اہمیت ہے ، تاہم اس کے ساتھ کچھ اور اقدامات بھی اٹھانا پڑیں گے، مثلاً اٹک خورد کا علاقہ جہاں آثار قدیمہ کے حوالے سے اپنی اہمیت رکھتا ہے اور ان کھنڈرات کو محفوظ بنانے پر توجہ دینا لازمی ہے وہیںاٹک کا قلعہ بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے مگر آمرانہ ادوارمیں خاص طور پر اسے''سیاسی عقوبت خانہ''بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے بھی سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے،یہ الگ بات ہے کہ پشاور کے قلعہ بالاحصار کو آج تک عوام کیلئے مکمل طور پر کھولا نہیں جا سکا اور یہ ابھی تک عام تفریحی مقام کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تو اٹک قلعہ کیسے کھولا جاسکے گا۔ بہرحال یہ تو وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ

رموز مصلحت ملک خسرواں دانند

گدائے گوشہ نشینی تو حافظامہ خروش

رہ گیا تخت بھائی تو وہاں بھی تاریخی کھنڈرات کی اپنی اہمیت ہے اور اب بھی لوگ وہاں جا کر یہ تاریخی آثار دیکھتے ہیں اس لئے سفاری ٹرین چلانے سے نہ صرف سیاحوں کی توجہ مبذول کرائی جا سکتی ہے بلکہ مقامی سطح پر روزگار بھی بہتر ہوسکے گا،یعنی وہاں جانے والوں کیلئے اشیائے خوردونوش کے سٹالز لگانے سے بے روزگاری کا خاتمہ بڑی حد تک ہوسکے گا ۔ البتہ طورخم تک سفاری ٹرین چلانے کیلئے خاصی محنت کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس علاقے میں بچھے ہوئے ٹریک کو بحال کرنے پر خاصاسرمایہ لگے گا کہ کچھ مدت پہلے اخبارات میں چھپنے والی تصویروں اور رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ چند مقامات پر ریلوے ٹریک دیکھ بھال نہ ہونے اور بعض دوسری وجوہات کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے ، اگر تو اس کی مرمت کر دی گئی ہے(جس کے امکانات نظر نہیں آتے) تو پھر کوئی مسئلہ نہیں تاہم اگر صورتحال اب تک جوں کی توں ہے تو خدشہ ہے کہ صورتحال مزید خراب ہوچکی ہوگی اور اس قدر بھاری ٹرین کے گزرنے کیلئے ٹوٹے شکستہ ٹریک سے کوئی مدد نہیں مل سکتی بلکہ الٹا حادثات کا اندیشہ لاحق رہے گا۔ تو بہتر ہے کہ پہلے پورے ٹریک کا جائزہ لیکر دیکھا جائے کہ کیا یہ ریلوے ٹریک اس قابل ہے بھی یا اس کی مرمت پر بھاری اخراجات اٹھیں گے۔اوراگرایسی کوئی صورتحال ہے تو یہ اخراجات کون برداشت کرے گا، اگرچہ اصولی طور پر تو ریلوے کی ملکیت ہونے کے ناتے خود ریلوے کو یہ اخراجات اٹھانے چاہئیں، تاہم ریلوے اور صوبائی حکومت مل کر اگر منصوبہ بندی کرتے ہیں تو بعد میں آمدن کی تقسیم پر کوئی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے ،لیکن ٹریک کی مرمت اور اسے قابل استعمال بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ماہرین کا چنائو سوچ سمجھ کر کیا جائے ، ایسے نہ ہو کہ بی آرٹی کی طرح مدت پہ مدت دی جاتی رہے ، ٹارگٹ ڈیٹ دے کر حکم دیا جائے کہ فلاں تاریخ تک سفاری ٹرین ضرور چلائی جائے مگر صورتحال پشاور بی آرٹی جیسی ہو جائے ، اس حوالے سے اگر منصوبہ انگریز دور کیخوجک سرنگ والا بن گیا جس کی''بروقت تکمیل'' نہ ہونے پر متعلقہ انجینئر نے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیاتھا، اگرچہ اگلے ہی روز چند مزید ضربوں سے سرنگ کا دوسرا دہانہ کھل گیا تھا مگر وہ بے چارہ تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا کہ آخر کردار بھی کوئی چیز ہوتی ہے ، بہر حال ہم تو ایسی دعا نہیں مانگیں گے کہ یہاں بھی خدانخواستہ ایسا ہی سانحہ رونماہو، بلکہ دعا یہی ہے کہ یہ سفاری ٹرینیں چلانے کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہو۔

متعلقہ خبریں