Daily Mashriq


کوئی تو امید ہو!

کوئی تو امید ہو!

ایک عرصے سے اس قوم نے کسی امید کی شکل نہیں دیکھی۔ ایک عرصے سے خوشیوں کا خواب دیکھا ہے ، کبھی خوشیوں کو چھو کر نہیں دیکھا۔ ان خوشیوں کے رنگوں کو انہی انگلیوں کی پوروں سے چُھوکر نہیں دیکھا۔ اس قوم نے اچھے وقتوں کا سوچا بہت ہے لیکن اچھے وقتوں کی دھوپ کی تمازت کبھی اپنے چہرے پر محسوس نہیں کی ۔اتنے عرصے بعد امید کا دیا تھوڑاجلنا شروع ہوا ہے ۔ یہ خیال سہمے سہمے قدموں کے ساتھ بڑھ کر سامنے آیا ہے کہ شاید بہتری کی کوئی سنہری صبح کبھی بھی طلوع ہو سکتی ہے لیکن پھر اس خوف سے خاموش ہو جاتے ہیںکہ کسی درندے نے اس قدموں کی چاپ سُن لی تو دانت نکوسے ، اپنے خونخوار پنجوں سمیت گھات لگا کر آکھڑا ہوگا کہ کب یہ ننھاپرندہ سامنے آئے اور یہ اسے دبوچ لے ۔

روزصبح اسمبلی کے راستوں کی جانب سفر کرتے سیاست دان اپنے اپنے مقاصد لے کرایوان کی جانب گامزن ہوتے ہیں جہاں اس قوم کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب اس قوم کی تقدیر کے فیصلے وہ لوگ کررہے ہیں جو بے شک لٹیرے نہیں ، جن کی نیتیں بے شک درست سمت میں مُنہ کئے کھڑی ہیں لیکن اسکے باوجود ان کے قدم درست سمت میں نہیں اٹھتے کیونکہ انہیں اس سمت کا ابھی تک ادراک ہی نہیں ۔ اس ادراک کے لیے جس قسم کی محنت کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ محنت کرنا بھی ان کے بس میں نہیں ۔ ان میں کئی عمر کے اس حصے میں ہیںجہاں عموماً لوگوں کی ذہنی استعداد اور صلاحیتیں مزید پروان نہیں چڑھتیںبلکہ خاصی حد تک مسدود ہو چکی ہوتی ہیں۔ منتخبین کا فارمولا عمران خان کو بہت دیر سے سمجھ آیا ۔ اب تحریک انصاف عوام میں احتساب کا ایک ایسا شعور بیدار کر چکی تھی کہ لوگ اس تبدیلی کی آس کو ووٹ دینا چاہتے تھے ۔انہیں اس بات سے غرض نہ تھی کہ عمران خان کی ٹیم کن لوگوں پر مشتمل ہے ۔ ان لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دیا کیونکہ وہ عمران خان پر یقین رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ٹیم کو ئی بھی ہو،عمران خان ان کے لیے پھر ورلڈ کپ جیت کرلائیں گے۔ ابھی تک امید بھی ہے اور دشمنوں کا مسلسل شور شرابا لوگوں کو عمران خان سے بد ظن نہیں کرسکا۔ کیونکہ لوگوں کو اس بات کا فہم ہے کہ برائی کرنے والوں' برائی کی نشاندہی کرنے والوں میں کیا فرق ہواکرتا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ انہیں لوٹنے والے اصل لوگ کون ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سندھ پولیس کو جرائم کا سر پرست بنانے میں اصل کردار سیاست دانوں کاہی تھا۔ یہ سیاست دان کسی بھی جانب سے وارد ہوتے' در اصل یہ سب اندر سے ایک ہی جیسے تھے' انہیں اس ملک کے مسائل سے' عوام کی مشکلات سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ انہیں اپنے مفادات عزیز تھے۔ انہیں اس سے غرض تھی کہ کوئی کیسے اس ملک کا خزانہ خالی کرسکتا ہے۔ کسی نے ایم کیو ایم کے نام کا لبادہ اوڑھ کر' کسی نے پیپلز پارٹی کا چغہ پہن کر انہیں لوٹا' انہیں خوفزدہ کیا' ان کی جانوں کو زمین پر چلتے پھرتے حشرات سے بھی ارزاں سمجھا اور یہ بات سندھ تک کہاں مفقود تھی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی یہی کیفیت تھی۔ یہاں کوئی اور جماعت کبھی اتنی طاقت میں ہی نہ آتی کہ کوئی اتنا نقصان دہ ثابت ہوتا' نظام پر اتنا قابض ہوتا' بلوچستان میں تو معاملات ہی الگ تھے۔ مفادات ہی لوگوں کو جوڑتے تھے' مفادات ہی لوگوں کے درمیان خلیج بنتے۔ اس دنیا کے اسرار و رموز الگ تھے اور کہانیاں اس سے بھی الگ۔ وہاں بادشاہتیں تھیں' راجواڑے تھے' ریاستیں تھیں۔ ایک ننھا صوبہ تھا جو پہلے سرحد کہلاتا تھا اب خیبر کہلاتا ہے اس میں ہمیشہ سے بہتری کی خواہش نے جڑ تازہ رکھی' انہوں نے ہر ایک کوآزمایا' ہر ایک پر بھروسہ کیا اور پھر ہر ایک سے ناراض ہوئے۔ انہیں بھی فائدہ کسی جانب سے نہ ہوا لیکن وہ جدوجہد کرتے رہے۔ لیکن گلے ہوئے کرداروں کے مالک سیاستدانوں میں سے کس کا انتخاب کرتے ' کس سے رہبری چاہتے۔ کسے امیر کرتے' سو وہ بھی اپنی پریشانیوں کا شکار رہے اور اب یہ ملک ہے جو گزشتہ کے غم میں مبتلا ہے اور آئندہ کی امید کی شمع جلانا چاہتا ہے لیکن کہیں سے کوئی خوبصورت ہوا نہیں چلتی۔ کوئی امید بر نہیں آتی۔ میڈیا اور گزشتہ سیاستدان ہمیں یقین دلا دینا چاہتے ہیں کہ ان سے بھی کوئی فرق نہ پڑے گا۔ یہ ناکام ہوں گے کیونکہ یہ سیکھ نہیں سکتے' انہیں حکومت نہ چلانی آئے گی۔ وہ سرگوشیوں میں ہمیں یہ بھی کہتے ہیں کہ طاقت بدعنوان کردیتی ہے اور مکمل طاقت' مکمل بدعنوانی کا باعث ہوتی ہے۔ یہ ابھی طاقتور ہیں ' بدعنوان ہوجائیں گے اور جب کام سیکھ لیں گے تو مکمل طاقت کے مالک ہوں گے' پھر مکمل بدعنوان ہوں گے۔ ہمارے دل سہمے جاتے ہیں۔ بڑا اندھیرا دیکھا ہے اس قوم نے'بغاوتیں ہوتے ہوئے خود کو ہمیشہ اندھا محسوس کیا ہے۔ ایک جگنو ہی تو ہے جو ہمارے ارد گرد ٹمٹماتا ہے' یہ بھی نہ رہا تو اب کی بار دل پھٹ جائیں گے کوئی تو کہے ایسا نہ ہوگا۔ کوئی تو امید دلائے' کوئی تو اثبات میں سر ہلائے' کوئی سہارا دے۔

متعلقہ خبریں