Daily Mashriq

صحیح راستہ

صحیح راستہ

حکومت کیلئے ساہیوال واقعہ سے حاصل ہونے والا سبق ہے۔ عذر گناہ بد تر از گناہ ہوتا ہے۔ حکومتی عمال نے خواہ مخواہ پولیس اور سی ٹی ڈی کا گناہ اپنے اوپر لے لیا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کی بد ترین پولیس گردی ہے جس کی کوئی تاویل دی جاسکتی ہے نہ اس کا دفاع کیا جاسکتا ہے۔ غیر ضروری تاویلوں نے کام خراب کیا اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی ٹویٹ سے ظاہر ہوا کہ وہ بہت رنجیدہ تھے مگر پنجاب کے کار پردازان نے معاملہ الجھائے رکھا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ نے وزیر اعظم کو اول دن سے پنجاب کے حوالے سے گمراہ کیا اور صحیح راستے کی جانب ان کی پیش قدمی میں یہ مائنڈ سیٹ رکاوٹ بنا رہا۔ عمران خان پنجاب کی پولیس کو بدلنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں خاص طور پر اس کا ذکر کیا اور خیبر پختونخوا پولیس نظام کے ہیرو ناصر خان درانی کو اس مقصد کے لئے پنجاب میں تعینات کیا۔ یہ اقدام عمران خان کے خلوص اور سنجیدگی کا عکاس تھا مگر مخصوص ذہنیت کے حامل لوگوں نے پولیس ریفارمز کے عمل کو پہلے مرحلے میں ہی ناکام بنا دیا۔ میرا احساس ہے کہ ان لوگوں نے اول دن سے خان صاحب کے کان میں یہ بات ڈالنا شروع کی ہوگی کہ پنجاب کا ماحول اور مزاج خیبر پختونخوا سے مختلف ہے اور یہ کہ پنجاب میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے پولیس کے معاملات کو ویسے ہی چلانا ضروری ہے جیسے یہ چلتا آرہا ہے۔ اس پراگندہ سوچ نے پنجاب میں تبدیلی کا راستہ روکا اور یوں اپنے تھانے اور اپنے تھانیدار کی روش کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ ساہیوال کے المناک سانحہ نے قوم کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑا مگر حکومتی صفوں میں ہر دور کی طرح چند افراد ایسے بھی تھے جو اس واقعہ پر مٹی ڈال کر آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے لیکن اصلاح احوال کا سوچا ہے اور عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی بروز جمعرات ہونے والی میٹنگ کے اختتام پر وزیر اطلاعات کی بریفنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پنجاب میں خیبر پختونخوا کا پولیس ایکٹ لانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ یہ وہ پولیس ایکٹ ہے جو پنجاب کے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کے بقول پنجاب اور کے پی پولیس کی کارکردگی میں بنیادی فرق کی وجہ بنا۔ عمران خان کا عزم کسی شک و شبے سے بالا تر ہے مگر 100ماڈل تھانوں کی بات سے وسوسہ پیدا ہو رہا ہے کہ مخصوص ذہنیت کے حامل لوگ عمران خان کو ایک مرتبہ پھر ا لجھانا چاہ رہے ہیں۔ جب پنجاب کے پولیس ایکٹ میں ضروری تبدیلیاں کر دی جائیں گی پھر تمام پنجاب کی پولیس کو تبدیل ہونا چاہئے صرف 100ماڈل تھانوںکی ''پخ'' بیچ میں کیوں رکھی جائے۔ پنجاب پولیس میں اصلاحات کا مطلب ہے کہ پولیس کلچر کو یکسر تبدیل کیا جائے اور یہ کام مکمل عزم کے ساتھ ہوگا۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ حل نہیں ہوسکے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب تبدیل ہو تو پھر ہمیں نیم دلانہ کوشش کی بجائے مکمل دلجمعی کے ساتھ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب میں لاء اینڈ آرڈر کی بحالی اور پولیس کو عوام دوست بنانے کے لئے فی الفور مکمل اصلاحاتی پیکج متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کی بابت یاد آیا کہ قوانین کے تحت اضلاع میں جن کمیٹیوں کے بننے کی گنجائش ہے انہیں فوری بنانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ دنوں ڈی سی آفس راولپنڈی میں ایک میٹنگ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یہ جان کر افسوس ہوا کہ ضلع کے دو بڑے افسران یعنی ڈپٹی کمشنر اور سٹی پولیس آفیسر کو پتہ ہی نہیں تھا کہ قوانین کے تحت بعض کمیٹیاں سب ڈویژنل پولیس افسر اور یونین کونسلوں کی سطح پر بن سکتی ہیں۔ ان کمیٹیوں میں عوام کی شرکت جرائم کے انسداد کے لئے بڑی مدد گار ہوسکتی ہے مگر راولپنڈی جیسے شہر میں یہ کمیٹیاں فنکشنل نہیں ہیں۔ پنجاب ویجیلنس کمیٹیز ایکٹ 2016ء پنجاب سیکورٹی آف ولنر ایبل ایسٹیبلشمنٹ ایکٹ 2015ء اور پنجاب سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2017ء کے تحت یونین کونسلز' تحصیل' ضلع اور ڈویژن کی سطح پر مختلف ایسی کمیٹیاں وجود میں آسکتی ہیں جو امن و امان کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد گار و معاون ثابت ہوسکتی ہیں لیکن قوانین ہونے کے باوجود ان کمیٹیوں کو بنانے پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ میرے علم میں یہ بات ہے کہ اب ہر ضلع میں اچھی شہرت کے حامل لوگوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل پا رہی ہیں چنانچہ ایک دو ماہ میں ہر سطح پر یہ کمیٹیاں فنکشنل ہوں گی۔ تحریک انصاف نے جس طرح خیبر پختونخوا میں آن لائن ایف آئی آر درج کرانے کی سہولت عوام کو دی تھی بعینہ ویسی ہی سہولت پنجاب کے عوام کو فی ا لفور دینی چاہئے۔ پنجاب کے پولیس کلچر میں جو چیز سب سے زیادہ خرابی کا باعث ہے وہ جرم کا بروقت اندراج نہ ہونا ہے۔ میری رائے میں جرم کے انسداد کے لئے بروقت جرم کا صحیح اندراج بہت ضروری ہے۔ پولیس افسر اپنی کوتاہی اور ناکامی پر پردہ ڈالتے ہیں جس کا نتیجہ ایف آئی آر میں تاخیر اور بعض مقدمات میں سر سری رپورٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ روزانہ کی بنیاد پر تھانے کا نوٹس بورڈ اپ ڈیٹ ہونا چاہئے کہ اس کی حدود میں جرائم کی تفصیل کیا ہے۔ یہاں اس وقت حالت یہ ہے کہ راولپنڈی کے سی پی او کی ویب سائٹ کا معائنہ کیا جائے تو 2014ء کے اعداد و شمار ملتے ہیں۔ یہ پولیس خود سے ٹھیک نہیں ہوسکتی اس کو ٹھیک کرنے کے لئے چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی مداخلت سے پاک لیکن کڑی نگرانی کا مربوط نظام ہی پنجاب کے عوام کو ڈیڑھ صدی سے جاری ظالمانہ پولیس نظام سے نجات دلانے کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں