Daily Mashriq


املا کی دلچسپ غلطیاں

املا کی دلچسپ غلطیاں

یہ الفاظ کی ترتیب کی تبدیلی وتنقیص بھی بڑی معنی خیز ہوتی ہے ایک نکتہ محرم سے مجرم بنا دیتا ہے صرف ایک نکتہ ہی نہیں ذرا سی ترتیب کی تبدیلی اور غلطی بھی دلچسپ تبدیلی اور معنی خیز ہوتی ہے آج ہی کے اخبارات میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پی اے سی کے چیئر مین شہباز شریف کو نیب زادہ لکھا گیا ہے اسی طرح جوابی بیان میں وزیراعظم عمران خان کو بھی نیب زادہ لکھا گیا ہے۔ دیکھا ایک حرف یعنی ایک الف کے اضافے نے معنی کیا سے کیا بنادیئے ۔اصل لفظ استعمال ہونا چاہیئے تھا نیب زدہ ، نیب زادہ کا مطلب یہ ہوا کہ یہ نیب کی نسل سے ہیں نیب کی اولاد ہیں جیسابروزن صاحب زادہ ۔نیب زدہ کا مطلب ہے ان پر نیب کے مقدمات ہیں،شہباز شریف تو نیب زدگی میں گھٹنوں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان پر بھی خیبر پختونخوا کی حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے غلط استعمال کا الزام ہے اور اس ضمن میں باقاعدہ ریفرنس بھی دائر کیا جا چکا ہے ۔ایک غلطی تو اتر کے ساتھ ہورہی ہے اہالیان کی بجائے اہلیان لکھنے کی ، اہالیان کا مطلب ہے اس علاقے کے رہائشی اسی علاقے کے باشندے جبکہ اہلیان کا مطلب ہے بیویاں اہلیہ کی جمع اہلیاں ہیں ۔ اسی طرح فریقین دو فریقوں کو کہتے ہیں جبکہ ہم لکھتے ہیں دونوں فریقین ۔ اسی طرح ہم لکھتے ہیں مذبح خانے حالانکہ مذبح مکمل لفظ ہے مذبح صحیح لفظ ہے اور اس کے ساتھ خانے لکھنا درست نہیں۔ ایک اور غلطی یہ کی جاتی ہے کہ جب کوئی ملزم پہلی مرتبہ پکڑا جاتا ہے تو اس کیلئے زیر حراست کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے حالانکہ اس کیلئے گرفتار کا لفظ صحیح ہے ۔ زیر حراست کا مطلب پہلی مرتبہ نہیںپہلے سے بندہ گرفتار ہو تو اسے زیر حراست کہتے ہیں جیسا کہ زیر سماعت وہ مقدمہ ہے جو پہلی مرتبہ دائر نہیں بلکہ پہلے سے دائر مقدمہ ہو۔ اردو غلط بولنے لکھنے اورتلفظ کیلئے پٹھان بڑے بدنام ہیں لیکن یہ صرف الزام ہے حقیقت نہیں ۔ اہل زبان جنہیں ہم عرف عام میں مہاجر کہتے ہیں خود ان کی اردو بھی تذکیروتانیث کی حد تک تو درست ہے لیکن تلفظ اور استعمال میں جہاں جہاں فارسی اور عربی کے قواعد کا استعمال ہو یا ان دوزبانوں کے الفاظ آئیںوہاں وہ بھی مار کھاتے ہیں ۔ ٹی وی چینلز کے چلنے والے ٹیکرز میں کچھ ایسی دلچسپ اور مزیدار غلطیاں نظر آتی ہیں کہ سیدھی سیدھی گالیاں دی جارہی ہوتی ہیں مگر بندہ پھر بھی بے مزانہیں ہوتا۔ اسی ضمن میں اگر نیب زادے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھی کچھ کم معاملہ نہیں ۔ نیب کا جادوہر جگہ سر چڑھ بول رہا ہے مگر سوائے رقم کی وصولی اور ملزموں کو سزا دلوانے کے نیب بھی اب وہ مرغی بن گئی ہے جو انڈا ایک دیتی ہے مگر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے ۔ تحریک انصاف والوں کی مرغیوں کے منصوبے کا کچھ پتہ نہ چلا سردیاں گزر رہی ہیں اور مرغیاں ابھی ملیں نہیں۔

متعلقہ خبریں