Daily Mashriq

افغانستان آرمی چیف کی پیشکش کا فائدہ اٹھائے

افغانستان آرمی چیف کی پیشکش کا فائدہ اٹھائے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی عناصر کے افغان سرزمین استعمال کرنے تک دونوں ممالک دہشت گردی سے متاثر رہیں گے۔انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دونوں اطراف دہشت گرد عناصر کی موجودگی سے متعلق تبادلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاہور اور کابل میں ایک ساتھ دھماکے ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے دشمن ہیں جبکہ غیر ملکی عناصر افغان سرزمین استعمال کرتے رہے تو دونوں ممالک متاثر رہیں گے۔آرمی چیف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے میں ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔دریں اثناء قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور حملے کا ذمہ دار ایک نیا گروپ ہے جو پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے نجی ٹی وی کو بتایا ہے کہ لاہور میں ارفا کریم آئی ٹی ٹاور کے قریب ہونے والا بم دھماکا طالبان اسپیشل گروپ (ٹی ایس جی) کی جانب سے کیا گیا ہے جن کے پاس اعلیٰ ٹریننگ یافتہ خود کش بمبار (فدائین) موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار نے قبول کی۔مذکورہ گروپ کی جانب سے متعدد شہریوں، اقلیتی مذہبی مقامات، فوجی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے پر گزشتہ سال امریکا نے جماعت الاحرار کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ابھرتے ہوئے ٹی ایس جی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تشویش پیدا کردی ہے جسے وہ ایک نئے چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایس جی کمانڈوز کو بڑے اور مہلک حملوں کے لیے تربیت دی گئی ہے۔اس سے قبل سامنے آنے والے رپورٹ کے متصادم پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دھماکا موٹر سائیکل کے ذریعے سے نہیں کیا گیا، پولیس افسر نے زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے میں تباہ ہونے والی تمام موٹر سائیکلوں کے رجسٹریشن کی جانچ کی، جس سے معلوم ہوا کہ وہ متاثرہ افراد کی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ خود کش حملہ آور کو اس کے سہولت کار مذکورہ مقام پر کسی رکشہ یا دیگر گاڑی پر لے کر آئے ہوں۔ حیات آباد پشاور میں حالیہ خود کش حملے کے حوالے سے بھی ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس میں اس کے خود کش حملے بارے وثوق سے کچھ نہیں کہا گیا کیونکہ اس واقعے میں بھی لاہور کے واقعے کی طرح کوئی ٹھوس شواہد تاحال سامنے نہ آسکے۔پولیس افسر نے بتایا کہ حملے کے وقت قریب موجود ایک سی سی ٹی وی کیمرہ کام نہیں کررہا تھا جس کی وجہ سے خود کش بمبار کے سہولت کاروں کی نشاندہی ممکن نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ عرصے بلکہ کافی عرصہ توقف کے بعد دھماکوں اور خود کش حملوں کے واقعات کا اعادہ اپنی جگہ لیکن جس صورتحال کی نشاندہی ملتی ہے کہ اولاً کوئی نئی قسم کے حملہ آور تیار کئے گئے ہیں اور دوم یہ کہ حیرت انگیز طور پر حملے کے حوالے سے تفصیلات نہیں ملتیں اکثر و بیشتر سی سی ٹی وی کیمرے خراب ملنے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ چونکہ اس طرح کے واقعات میں مصلحتاً بعض اطلاعات کو سامنے نہ لانے' بعض تفصیلات چھپانے یہاں تک کہ شکوک و شبہات پیدا کرنے والی معلومات دینے کے امکانات ہوتے ہیں اس لئے محولہ د ونوں قسم کی معلومات کی صداقت و عدم صداقت کا تعین مشکل ہے لیکن بہر حال یہ ایک پریشان کن صورتحال کا باعث امر ضرور ہے کہ دہشت گرد عناصر ایک نئی صورت اور نئی حکمت عملی کے تحت عود کر آئے ہیں۔ ان حالات و واقعات کے تناظر میں یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ اس طرح کی منصوبہ بندی کی تیاری اور دہشت گردی کے واقعے کو روبہ عمل لانے میں کس قدر منظم اور مہارت کی حامل قوتوں کاہاتھ ہوسکتاہے۔ اسی جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی واضح طور پر اشارہ کیا ہے کہ علاقائی ایکٹر اور دشمن دہشت گردی کراتے ہیں۔ اجمالی جائزہ لیاجائے یا تفصیلی ان ایکٹروں اور دشمن عناصر کا اندازہ زیادہ مشکل نہیں یہاں تک کہ ان میں ان عناصر کا بھی شمار خلاف واقعہ نہ ہوگا جو بظاہر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے علمبردار بنتے ہیں۔ دہشت گردی اور اس قسم کے واقعات میں محض ان قوتوں کا ہی ہاتھ ہونے کے تصور میں اب تبدیلی آگئی ہے اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ ے کہ جن عناصر کو روایتی طور پر دہشت گردی کے کردار و ذمہ دار گردانا جاتا رہاہے اس کے نیٹ ورک کی موجودگی' اس کو سہولت کاروں کاحاصل ہونا اور منصوبے کی تیاری کے بعد سے لے کر اس پر عملدرآمد تک کے مراحل کے لئے ان عناصر کے پاس اب وسائل' صلاحیت اور نظم کا وجود سوالیہ نشان ہے۔ گو کہ اس نئے گروپ کو بھی بظاہر قبل ازیں کے عناصر ہی سے ابتدائی طور پر تعلق کا شبہ ظاہر کیاگیا ہے لیکن عین ممکن ہے کہ جب عقدہ کھلے تو اس کے سر پرستوں میں علاقائی ایکٹر اور سی پیک کے دشمنوں کے چہرے بے نقاب ہو جائیں۔ آرمی چیف کا ا ن عناصر کو پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں سنگین حالات کا ذمہ دار قرار دینا اور دونوں ممالک کے دہشت گردی کا شکار ہونے کا بیان کا بل اور لاہور کے یکے بعد دیگرے واقعات کے تناظر میں از خود واضح ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارا پڑوسی ملک خود دہشت گردی کے واقعات کا شکار ہونے کے باوجود اس تشخیص کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں کہ اس کے ذمہ دار علاقائی اداکار اور دشمن ہیں۔ ان عناصر کی پاک افغان سرحد پر موجودگی کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان عناصر کا افغانستان میں جگہ جگہ عمل دخل اور ٹھکانے ہیں تو خلاف واقعہ بات نہ ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے ان عناصر کے خلاف مشترکہ کارروائی کی پیشکش پہلی بار نہیں کی گئی۔ مشکل یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت حالات کا حقیقی ادراک کرنے اور اصلاح احوال کے لئے مشترکہ و اپنے طور مساعی پر سنجیدگی سے آمادہ ہی نہیں ہوتی بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر وہ بجائے اس کے کہ ان واقعات کے کرداروں اور اداکاروں پر نظر ڈالے الٹا وہ پاکستان کو مطعون کرنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس کی بناء پر محولہ عناصر کو اپنے آپ کو بے چہرہ رکھنے میں آسانی میسر آتی ہے۔ یہ عناصر کبھی ایک ملک میں اور کبھی دوسرے ملک میں اور کبھی بیک وقت دونوں ممالک میں سرگرم ہو کر اس تاثر کا باعث بنتے ہیں۔ گویا یہ ان کی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان باہم مخاصمت کے مظاہر ہوں۔ جب تک خطے کے دونوں ممالک میں اعتماد کی کیفیت پیدا نہیں ہوگی اور وہ اس امر کا ادراک نہیں کریں گے کہ حالات کی خرابی کے ذمہ دار خفیہ ہاتھ کونسے ہیں جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو وسعت دے کر اپنا کھیل جاری رکھنا ہے اس وقت تک خطے میں درست سمت میں قدم اٹھانا ممکن نہ ہوگا۔ پاکستان اپنی حتمی سرحدوں کی چوٹیوں تک سے ان عناصر کا صفایا کرنے کی ذمہ داری بخوبی نبھا رہا ہے بلکہ نبھا چکا ہے اور ضرورت پڑنے پر پوری قوت سے ان عناصر کا صفایا کرنے کی کارروائی شروع کردی جاتی ہے۔ اگر افغانستان بھی ایسے ہی اقدامات سے اتفاق کرے اور پاکستانی مساعی کی کامیابیوں میں اپنا کردار اداکرتے ہوئے اپنے سرحدی علاقوں کی بھی تطہیر کا سنجیدہ عمل اپنائے تبھی غلط فہمیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ان عناصر کا صفایا بھی ممکن ہو سکے گا۔

اداریہ