Daily Mashriq


موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا مناسب اقدام

موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا مناسب اقدام

پراونشل ہیلتھ اکیڈمی کی جانب سے صوبہ بھر کے نرسنگ سکولوں کی طالبات پر دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اقدام نہ صرف قابل تحسین ہے بلکہ قابل تقلید بھی جس پر دیگر اداروں کے سربراہوں کو غور کرنے اور اس پر اپنے ماتحت اداروں میں عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ نرسنگ کی طالبات سے متعلق متعلقہ عہدیدار کا یہ استدلال بالکل درست ہے کہ ہر پیشے کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور انہی کو مد نظر رکھ کر یہ پابندی لگائی گئی ہے۔ متعلقہ عہدیدار نے دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال اور اس کے نرسنگ کی طالبات کے فرائض میں غفلت کا باعث ہونے کی جو توجیہہ پیش کی ہے یہ مسلمہ اور بظاہر وجہ ہے۔ علاوہ ازیں معاملات کی طرف اشارہ ہی کافی ہونا چاہئے۔ والدین کی اجازت اور بیان حلفی کے حصول کا معاملہ قابل توجہ بھی ہے اور قابل عمل بھی جس پر نرسوں کا احتجاج اور اعتراض بے جا ہی نہیں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ بہت سے اداروں میں تو فون ساتھ لے جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیا ایسے اداروں میں لوگ کام نہیں کرتے بہت سے اداروں میں اینڈ رائیڈ اور کیمرے والے فون رکھنے کی سرے سے ممانعت ہوتی ہے۔ ایسے فون ان کو استقبالیہ پر جمع کرانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر موبائل فون کے بجا استعمال اور وقت کے ضیاع کا جائزہ لیا جائے تو کسی بھی سرکاری و نجی دفتر میں اس کو یکسر ممنوع قرار دینے کی تجویز مناسب لگتی ہے لیکن چونکہ اس کے فوائد اور ضروریات سے بھی انکار ممکن نہیں اس لئے اس کی گنجائش رکھی جائے ۔ اگر کیمرے والے اور اینڈ رائیڈ فونز کے استعمال کی بجائے سادہ فون رکھنے کی اجازت ہی کا طریقہ کار وضع کیا جائے تو ملازمین کی حق تلفی بھی نہ ہوگی اور سرکار و آجروں کے کام میں زیادہ خلل بھی نہیں پڑے گا۔ سیکورٹی پر مامور عملے پر بھی موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی یا پھر صرف اور صرف بوقت ضرورت اس کے استعمال کی گنجائش رکھنے کی ضرورت ہے۔ آئے روز کے معاشرتی المیوں کو دیکھتے ہوئے اینڈ رائیڈ فونز کے استعمال کے لئے لائسنس اور اجازت نامہ کی ضرورت دکھائی دیتی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ہسپتالوں میں صرف نرسنگ کی طالبات ہی پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی بلکہ ہسپتالوں' تعلیمی اداروں اور دیگر نجی و سرکاری اداروں میں موبائل فون کے استعمال کے لئے ایک ضابطہ اخلاق بنایا جائے گا جس کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جاسکے اور ضابطے کے تحت سزا بھی دی جاسکے۔

متعلقہ خبریں