Daily Mashriq

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مثبت کردار

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مثبت کردار

جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان میں امریکی مشن کے سربراہ جنرل جان نکلسن کی ملاقات کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے مسلسل ملاقاتوں اور رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔ ملاقات میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے۔ جنرل نکلسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی انتظام کے حوالے سے راولپنڈی آتے جاتے رہتے ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق جنرل باجوہ نے کہا کہ افغانستان اور امریکہ میں بعض عناصر پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں کا جو سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت جب امریکہ افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کر رہا ہے یہ الزام تراشیاں محض اتفاقیہ نہیں ہیں۔ یہ معاملہ کہ امریکہ افغانستان پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے پاکستان کے دفتر خارجہ کی توجہ کا مرکز ہونا چاہیے تھا ۔ افغان پالیسی کا مطلب سارے خطے کے بارے میں پالیسی ہے جس میں پاکستان کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ پالیسی کیا ہو گی اس کے کچھ شواہد ظاہر بھی ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ نے انسداد دہشت گردی میں تعاون کے حوالے سے پاکستان کو پانچ ملین ڈالر کی ادائیگی روک دی ہے اور امریکہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے دوسرے گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ کی فوج کے جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کولوریڈو(امریکہ) میں سلامتی سے متعلق ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی حمایت کے بغیر امریکہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتا۔ اوریہ کہ نئی افغان پالیسی ایران' افغانستان'پاکستان اوربھارت پر محیط ہوگی۔ 

امریکہ کی نئی افغان پالیسی کب تک مکمل طور پر سامنے آئے گی تاہم اس کے آثار امریکہ کے وزیر دفاع اور جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کی گفتگو سے ہویدا ہیں کہ امریکہ پاکستان سے ڈومور کے مزید مطالبے کرے گا۔ دوسری بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ امریکہ افغانستان میں مزید فوج بھیجے گا اور نیٹو کی مزید فوج بھی افغانستان میں آئے گی۔ یہ فوج آئے گی تو افغانستان میں طالبان اور دیگر ایسے گروپوں جن میں ممکن ہے داعش بھی شامل ہو کارروائی بھی کرے گی۔ ا س میں پاکستان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اپنے ملک میں ''حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کی پناہ گاہیں'' ختم کرے۔ حالانکہ پاک فوج نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان میں کوئی حقانی نیٹ ورک نہیں ہے اور نہ ہی طالبان کے خفیہ ٹھکانے ہیں۔اول یہ ہمارے دفتر خارجہ کی ناکامی ہے کہ امریکیوں کو دہشت گردی کے نتیجے میں 60ہزار پاکستانیوں کی شہادت اورآپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے باوجود یہ باور نہیں کرایا جا سکا کہ پاکستان اس جنگ میں مظلوم ہے ظالم نہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں نہ صرف 60ہزار پاکستانیوں کی جانیں گئی ہیں بلکہ معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار کم ہوئی ہے۔ پاکستان کا دفتر خارجہ امریکہ اور بین الاقوامی کمیونٹی کو یہ بھی باور نہیں کروا سکا کہ افغانستان کا مسئلہ فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو ساراعلاقہ عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے اور سیاسی حل ہی میں عافیت ہے۔ پاکستان امریکہ اور بین الاقوامی کمیونٹی پربھی یہ واضح نہیں کر سکا کہ افغانستان میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ وہاں کے سیاسی عناصر کے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کے علاوہ افیون اور قیمتی معدنیات کی سمگلنگ کے مافیاز بھی ہیں حالانکہ اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق افغانستان میں دنیا کی 85فیصد افیون کاشت ہوتی ہے اور اس کا 45فیصد پاکستان کے راستوں سے سمگل ہو کر دنیا کے منشیات کے مراکز میں پہنچتا ہے جن میں سے ایک مرکز ممبئی بھی بتایا جاتا ہے افغانستان کا غیر مستحکم رہنا' پاک افغان سرحد کا کھلا رہنا ان مافیاز اور وارلارڈز کے مفاد میں ہے۔
جنرل نکلسن کے بارے میں ایک انگریزی اخبار نے لکھا ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی انتظام کے حوالے سے پاک فوج کی قیادت سے رابطے میں رہتے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ اور اس کی وجہ بھی بتائی ہے کہ یہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی سے نجات حاصل کرنی ہے جس کی سرپرستی افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کرتی ہے۔ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ پاک افغان طویل سرحد پر موثر انتظام قائم کیا جائے جس کے لیے پاک فوج نے سرحد کی باڑھ بندی کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ آپریشن رد الفساد کے تحت افغانستان کی سرحد سے متصل راجگال کے گھنے جنگلوں اور عمودی پہاڑیوں کے علاقے میں آپریشن خیبر فور جاری ہے جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے تین اہم مراکز خالی کرائے جا چکے ہیں۔ امریکہ کے وزیر دفاع کا یہ دعویٰ کہ پاکستان اپنے علاقے میں حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے گروپوں کے ٹھکانے تباہ نہیں کر رہا اگر ٹھوس شواہد اور نیک نیتی پر مبنی ہے تو امریکہ کو پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی کے لیے پاک فوج کے منصوبے میں تعاون کرنا چاہیے تھا اور اس کی نگرانی کے انتظام میں تعاون کرنا چاہیے تھا۔ اس حوالے سے اب تک امریکہ کی طرف سے ردعمل نہیں آیا اگرچہ امریکہ کے افغانستان میں مقیم فوج کے سربراہ نہ صرف اس سے باخبر ہیں بلکہ اس منصوبے پر پاک فوج کی اعلیٰ قیادت سے رابطے میں بھی رہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی طویل سرحد کی باڑھ بندی اگرچہ مشکل کام ہے تاہم یہ اولین ترجیح کا درجہ رکھتی ہے۔ اس پر افغان حکومت کا واویلا امریکیوں کے لیے چشم کشا ہونا چاہیے ۔

اداریہ