Daily Mashriq


مبلغ ذاکر نائیک کی بے وطنی

مبلغ ذاکر نائیک کی بے وطنی

حضرت آدم کے فرزند ہا بیل سے لیکر آج تک دنیا میں جو بھی حق کی بات کرے گا ، حق کی راہ پر چلے گا اور حق کی سر پرستی کرے گا ، ضرو ر اُس کا ''خمیازہ '' بھگتے گا ۔ دنیا کی تاریخ میں ہر قوم اور مذہب کے حوالے سے یہی بات سامنے آئی ہے۔ حق پرستی اور حق کی تلقین و دعوت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل ہر لحاظ سے سرفہرست ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حق کی راہ میں سب سے زیادہ ابتلائوں اور آزمائشوں سے بھی یہی پاک ہستیاں گزری ہیں ۔ بہت سارے انبیاء ہجرت پر بھی مجبور ہوئے ہیں ۔ حق کی راہ میں خاتم النبیین ۖ پر جتنی تکالیف و مصائب آئی تھیں ۔ سب انبیاء کی آزمائشوں کو ملا کر بھی برابر نہیں ہو سکتیں ۔ آپ ۖ کے بعد آپ ۖ کے صحابہ کرام اور اُن کے بعد اُمت محمد ۖپر آج تک مختلف ادوار و زمان ومکان میں یہ سلسلہ آزمائش و ابتلا ء جاری ہے اور شاید یہ سلسلہ اُس وقت تک چلے جب تک حق کے غلبے کا لمحہ آن نہ پہنچے ۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ تاریخ انسانیت میں غلبہ اور فتح و نصرت ، ہمیشہ حق کو ملا ہے ۔ دین اسلام ، دین حق ہے ، اس کی روشن تعلیمات تمام انسانوں اور تمام زمانوں کے لئے ہیں ، اور اس کی دعوت و تبلیغ کیلئے اللہ تعالیٰ ہرزمانے میں کوئی نہ کوئی اپنا محبوب بندہ بھیج دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے '' تم بہترین امت ہو ، تم بھلائی کی طرف دعوت اور برائیوں سے روکنے کے لئے نکالے گئے ہو ''۔ خاتم النبیین ۖ کے وصال کے بعد دعوت دین کا یہ سلسلہ ہر زمان ومکان میں قیامت تک جاری رہے گا ۔ اور اس کے مقابلے میں حق کا راستہ روکنے کے لئے باطل و طا غوت کے پیروکار بھی بر سر پیکار رہیں گے بقول اقبال 

ستیزہ کار ہے روز ازل سے تا امروز

چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

ہندوستان کے صنم کدے میں محمد بن قاسم سے لیکر ہندوستان کے مختلف مدارس کے علماء کرام تک سب دعوت دین کا فریضہ کسی نہ کسی صورت میں ادا کرتے آئے ہیں ۔ بھارت میں ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ اکبر دی گریٹ (مغل اعظم ) کے ہاتھوں دین حق کی شمع کو ''دین الہٰی '' کی صورت میںبجھا نے کی کوششیں ہوئیں لیکن اُس زمانے میں جب جلا ل الدین اکبر کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا ، اللہ تعالیٰ نے دین حق کی حفاظت کے لئے حضرت مجدد الف ثانی کو تیار کروایا ۔۔۔ علامہ قبال نے اُس زمانے میں الف ثانی کے کردار کا شاندار الفاظ میں بر جستہ ذکر فرمایا ہے ۔

وہ ہند میں سر مایہ ملت کا نگہبان

اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

عصر حاضر میں عالمگیر یت کے سبب دنیا بھر کے لوگ ایک دوسرے کے نظر یات و افکار اور تہذ یب و ثقافت کے اثرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ ایکسپلوژن آف نالج نے تو دنیا کو انگلی کی ایک کلک (Click)کے ذریعے ملا دیا ہے ، جدید دور میں مسلمانوں میں بطور ریاست وامت دعوت دین کا سلسلہ نئے تقاضوں اورا سالیب کے مطابق منظم ہو کر آگے نہ بڑھ سکا جس کے کئی ایک گھمبیر و پیچیدہ اسباب وعوامل ہیں ، لیکن دو ذرائع سے یہ سلسلہ بہر حال چلتا رہا ۔ ایک تبلیغی جماعت اور دوسرا انفرادی شخصیات کے ذیعے ، اکیسویں صدی کے ان دو عشروں میں اگر چہ 9/11کے اثرات نے اسلام اور مسلمانوں کو دفاعی حصار میں پناہ لینے پر مجبور کیا ، لیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ ، یورپ ، افریقہ اور ایشیاء کے مختلف ممالک میں بعض شخصیات ایسی سامنے آئیں کہ انہوں نے بانداز دیگر دعوت دین کا فریضہ سر انجام دیا ۔ مغرب میں یوسف اسلام ، مریم جمیلہ ، مریم ریڈلے ، افریقہ ، زمبا بوے ، سے مفتی منک اور ہندوستان میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے جس خوبصورت اور دل نشیں انداز میں تقاریر اورتصنیفات وتالیفات کے ذریعے ایک دنیا کو دین حق کی طرف مائل کیا ، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جدید مبلغین دین میں ذاکر نائیک کو اس لحاظ سے ایک خاص اہمیت و فضلیت حاصل ہے کہ آ پ شعبہ طب سے وابستگی کے باوجود دنیا کے بڑے نصرا مذاہب، یہودیت ، ہندومت ، مسیحیت اور اسلام پر عجیب انداز میں عبور رکھتے ہیں ۔ آپ نے گزشتہ تین ساڑھے تین عشروں سے جدید ذرائع کو جس کمال مہارت سے استعمال کر تے ہوئے دین اسلام کا دیگر مذاہب کے ساتھ تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو دین حق کی طرف مائل کیا ، بس یہ اُن ہی کا کام تھا ۔ ذاکر نائیک کا کمال یہ ہے کہ وہ اسلام کے مقابلے میں دیگر مذاہب کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اُن کی تنقیص یا تحقیر کا پہلو قطعاً زیر بحث نہیں لاتے بلکہ ان مذاہب کے پیروکار وں کے سامنے شستہ و منتفقانہ انداز میں حق بات کو مدلل انداز میں تحقیقی حوالوں کے ساتھ یوں پیش کرتے ہیں کہ سامعین و حاضرین کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں رہتا ۔ ہندوستان کے ہندوں ، مسیحیوں اور بالخصوص نچلی ذات کے ہندوں پر اس کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوئے ۔ یورپ میں بھی یہی حال ہے ۔ ذاکر نائیک کے اسلوب دعوت کے تیر بہدف ہونے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سائوتھ افریقہ کے عالمی مناظر احمد دیدات نے اس کا اعتراف کر تے ہوئے کہا تھا کہ آج کے دور میں ان سے بڑھ کر کوئی مناظراور تقابل ادبا ن کا ماہر عالم اسلام میں نظر نہیں آتا ''۔ ہندوستان کے تنگ نظر و متعصب حکمرانوں (نریندر مودی اور اس کی حکومت کے کارپردازوں ) اور آر ایس ایس سے یہ کہا ں برداشت ہوتا ہے کہ ہندوستان کے غریب ہندوئوں کو بر ھمن کی غلامی سے نجات ملے اور اُن کو بھی بشری حقوق ملے انسانی حقوق کی پاسداری و حفاظت صرف دین اسلام میں ہے ، اور دین اسلام کے غلبے سے نہ صرف بھارت بلکہ امریکہ و یورپ بھی خائف ہیں اس لئے وہ ''ارادہ رکھتے ہیں کہ اللہ کے نور کو پھونکوں سے بھجا دیں ، (لیکن) اللہ اس نور کو مکمل کرے گا اگرچہ کافروں کو بہت برا لگے ۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ذاکر نائیک کا پاسپورٹ منسوخ کردیا ہے ۔ اور الزام لگایا ہے کہ ذاکر نائیک شدت پسندوں کی مالی معاونت کرتا ہے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہے ۔ ذاکر نائیک اس وقت انڈیا چھو ڑ کر چلے گئے ہیں ۔ کیا سعودی عرب ، ترکی اور پاکستان میں سے کوئی ملک اُسے شہر یت دے کر دین حق کی خدمت کا موقع نہیں دیں گے؟ ۔۔شاید و باید ۔۔کہ آخر سچی اور حق بات سے تو عالم اسلام کے حکمران بھی خوف محسوس کرتے ہیں ۔ لیکن کوئی بات نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے غیب سے ضرور کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرمائے گا ۔ اللہ ذاکر نائیک کا حامی و ناصر ہو ۔

متعلقہ خبریں