Daily Mashriq

تعلیمی نظام میں تجربات کی بجائے اصلاحات

تعلیمی نظام میں تجربات کی بجائے اصلاحات

محکمہ ابتدائی ، ثانوی تعلیمی بو رڈ خیبر پختونخوا نے سٹینڈنگ سروس میں ترمیم کرتے ہوئے ا ساتذہ کرام کی بھر تیوں کے لئے پی ٹی سی ، سی ٹی اور دیگر پروفیشنل کو رسز ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا کو رسز کے بجائے اساتذہ کرام کو ٦ مہینے کی ٹریننگ دی جائے گی ۔اگر ہم حالات اور واقعات اور حکومت کے اس فیصلے پر نظر ڈالیں تو میر ی نا قص رائے میں خیبر پختونخوا حکومت جلد بازی کر رہی ہے۔ماہر نفسیات کہتے ہیں Learning is permanent change in behaviourکہ کسی انسان کی عادات اور اطوار میں مُثبت اور مستقل تبدیلی کو Learning یعنی سیکھنے کا عمل کہتے ہیں۔بالفا ظ دیگر انسانی ذہن میں تعلیم یا ایجو کیشن کے لحا ظ سے مُثبت تبدیلی کو سیکھنے کا عمل کہتے ہیں۔ اور یہ آسان طریقے سے نہیں آتی جس طرح اسکے لئے خیبر پختونخوا کی حکومت سوچتی ہے۔ میں نے بڑے بڑے سکالروں ، پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اُنکے پاس حد سے زیادہ علم اور تجربہ ہو تا ہے مگر بد قسمتی سے کمیو نیکیشن اورپیشہ ورانہ سکل نہ ہونے کی وجہ سے وہ دوسروں کو اپنا علم اور تجربہ منتقل نہیں کر سکتے۔اور اسطرح اُنکے علم اور تجربے سے اُس طرح استفادہ نہیں کیا جا سکتا جو انکا حق بنتا ہے۔ اگر موجودہ حکومت نے اساتذہ کرام کی تعلیم اور ٹریننگ میں تبدیلی کی تو اُن اساتذہ کرام کے پاس وہ علم ، تجربہ اور مہارت نہیں ہوگی جو پی ٹی سی، سی ٹی بی ایڈ اور ایم ایڈ اساتذہ کرام کی شکل میں طالب علموں کو منتقل کیا جاتا ہے۔اس قسم کے ٹیچر ٹریننگ کو رسز نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے تقریباً ١٨٠ سے زیادہ ممالک میں اسا تذہ کرام کے لئے ضروری ہیں۔ حکومت کیوں اساتذہ کرام کے کو رسز اور سٹرکچر میں تبدیلی کر کے یا ختم کرکے طالب علموں کو اچھے اساتذہ کرام کے پیشہ ورانہ تجربوں سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔اس سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خیبر پختو نخوا حکومت پر پارٹی کے نوجوان طبقے کا پریشر ہے کہ اساتذہ کرام کی خالی اسامیوں پر اس قسم کی قانونی پابندیاں ختم کریں تاکہ پی ٹی آئی کے اُن یوتھ ورکرز جو پڑھے لکھے ہیں مگر اُن کے پاس سکول ٹیچر ہونے کے لئے مطلوبہ پیشہ ورانہ تجربہ ایجو کیشن کے سر ٹیفیکیٹ اور ڈگریاں نہیں ان کو اس قسم کے ویکنسیوں پر ایڈ جسٹ کیا جائے ۔ کیا پو ری دنیا میں جو سسٹم چل رہا ہے کیا وہ غلط ہے؟۔ اس سلسلے میںجب ما ہر تعلیم اور کنگ عبد العزیز یو نیورسٹی کے ڈاکٹر سید راشد علی شاہ سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے کہا کہ اساتذہ کی بھر تیوں کے لئے اس قسم کے کوالیفیکیشن ختم کرنے کے بجائے اُن پیشہ ورانہ کو رسوں اور استعداد کو اپ گریڈ کرنا چاہئے ۔ امریکہ ، بر طانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہر سال اساتذہ کرام کے اس قسم کے پیشہ ورانہ اہلیت کو اپ گریڈ کیا جاتا ہے نہ کہ ختم کیا جاتا ہے۔ اس اقدام سے تعلیم کا معیار مزید گر جائے گا اور وہ لوگ جو اساتذہ کرام بن جائیں گے وہ پیشہ ور اور تجربہ کا ر اساتذہ نہیں ہو نگے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ڈا کٹر انجینئر کی اپنی اپنی ڈیوٹیاں ہو تی ہیں اور ڈاکٹر انجینئر اور انجینئر ڈاکٹر کا کام نہیں کرسکتا اس طرح پی ٹی سی، سی ٹی اور بی ایڈ کو رس کے بغیر اسا تذہ کرام کس طرح اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے ادا کر سکیں گے۔ لو ہار کاکام سنار اور سنار کاکام لوہار نہیں کر سکتا۔اسی طرح پڑھانا، سکھانا اور درس و تدریس ایک پروفیشنل کام ہے جس کو ایف اے،بی اے اور ایم اے پا س بچے بچیاں نہیں کر سکتے ۔ پاکستان میں تعلیمی نظام پہلے سے ہی خراب ہے۔ اس کو اس قسم کے تجربات سے مزید خراب نہیں کرانا چاہئے۔لہٰذا حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپنے صوبے میںتعلیمی نظام کو خراب ہونے سے بچائے اور ہر فیصلے سے پہلے اس فیصلے پر غور کرے تاکہ اس کو خود اور پا رٹی کے قائدین اور کا رکنوں کو مشکل اور کٹھن حالات سے نہ گزرنا پڑے۔علاوہ ازیں کئی ترقی یافتہ ممالک کی طرح تعلیم انگریزی کے بجائے ما دری زبان میں کرے۔ اور انگریزی زبان کو لینگویج کے طو ر پر لازم قرار دے۔ مگر تعلیم کا ذریعہ ما دری زبان ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہم پہلے اُردو سیکھتے ہیں پھر انگلش ، اور متعلقہ مضمون میں مہارت کے بجائے ہم زیادہ وقت انگلش سیکھنے میں صرف کرتے ہیں۔

اداریہ