Daily Mashriq


جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

پانامہ کا ہنگامہ جب سے عارضی طور پر رکا ہے ، یعنی سپریم کورٹ نے جانبین کے وکلاء کے دلائل سن کر اور جے آئی ٹی کی فراہم کردہ تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیکر فیصلہ محفوظ کردیا ہے جو آئندہ دو چار یا آٹھ دس روز میں بہر حال سنا دینے کا موقع آہی جائے گا یعنی جب فاضل عدالت چاہے گی اس فیصلے سے پوری قوم با خبر ہو جائے گی ۔ تب سے ملکی سیاسی صورتحال میں کچھ نہ کچھ سکون پیدا ہوگیا ۔ حالانکہ اب بھی کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی چینل پر اگر کلی نہیں تو جزوی طور پر دوسرے مسائل پر گفتگو کر تے کرتے تان بالآخر پانامہ ہی کے مسئلے پر آکر توڑنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے تاہم وہ جو ہنگامے کی سی کیفیت ہوتی تھی اب وہ نہیں ہے ، تاوقتیکہ سپریم کورٹ کا متعلقہ بنچ اس حوالے سے فیصلہ سنا نے کے دن اور تاریخ کا اعلان نہ کر دے ، مرزا غالب نے ایسے ہی موقعوں کیلئے شاید کہا تھا کہ 

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق

نوحئہ غم ہی سہی ، نغمئہ شادی نہ سہی

اب جبکہ یہ ہنگامہ وقتی طور پر فرو ہو چکا ہے تو ملک کے دیگر مسائل بھی اجا گر ہو کر سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں ، سب سے بڑ ا مسئلہ اگر ایک جانب امریکہ کی جانب سے پرانی شراب نئی بوتل اور لیبل کے ساتھ ایک بار پھر فروخت کر نے کی کوشش بلکہ دبائو سامنے آرہا ہے یعنی امریکہ نے دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کیلئے دی جانے والی امداد روک دی ہے اور امریکی حکام کی زبانیں ایک بار پھر پاکستان پر تنقید کے تیر بر سا رہی ہیں ، اس ضمن میں آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز جنرل نکلسن سے ایک ملاقات میں امریکہ اور افغانستان کے بعض عناصر کی جانب سے پاکستان کیخلاف الزام تراشیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا ، آئی ایس پی آر کے مطابق جنر ل قمر جاوید باجوہ سے گزشتہ روز جی ایچ کیو میں ملاقات کے موقع پر امریکی جنرل پر واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو کمزور کرنے کیلئے افغانستان اور امریکہ میں بعض حلقوں کی جانب سے کی جانے والی الزام تراشی پر پاکستان کو تشویش ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ ان الزام تراشیوں کو ایسے وقت میں اٹھا یا جارہا ہے جب امریکہ میں افغان پالیسی پر نظر ثانی کی جارہی ہے ، آرمی چیف نے کہا کہ الزام تراشیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ رہا ہے ، اگرچہ اس موقع پر جنرل نکلسن نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور پاکستانی قوم کے عزو حوصلے کی بھی تعریف کی ۔ جس پر بقول شاعر یوں بھی تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ

تنخواہ ہے چارسو فی الحال چار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

تاہم یہاں تو چار سو اور صرف چار والا معاملہ بھی نہیں رہا ، کیونکہ وہ جو 5کروڑ ڈالر کی امداد پاکستان کو دی جانی تھی اسے امریکہ نے روک کر ایک با ر پھر پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدام نہ اٹھانے کے الزامات عاید کر دیئے ہیں ، اب ایسی صورت میں جبکہ ٹرمپ انتظامہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں لارہی ہے ، اور یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان کے حوالے سے پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کی جارہی ہیں ، ایسی صورت میں امریکی جنرل کی طرف سے دہشتگردی کے حوالے سے افواج پاکستان اور پاکستانی قوم کے عزم و حوصلے کی تعریف کو طفل تسلیوں سے تشبیہہ دی جائے یا پھر اسے مشہور امریکی رویئے ''گاجر اور چھڑی '' قرار دیا جائے ۔ جبکہ اب تو امریکی طوطا چشمی کو صرف چھڑی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ جو 5کروڑ امریکی ''گاجروں '' کا معاملہ تھا وہ تو قصہ پارینہ بنادیا گیا ہے ۔ اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی انتظامیہ نے آنکھیں پھیر لی ہیں ، اس سے پہلے کئی بار اس قسم کے رویئے سے پاکستان کو پالا پڑ چکا ہے ، بلکہ پاکستانی قوم تو اس امریکی معاندانہ رویئے کو بھی نہیں بھولی جب رقم کی پیشگی ادائیگی کے باوجود امریکہ نے پاکستان کے ایف 16طیاروں کا سودا منسوخ کر کے وہ طیارے پاکستان کو دینے سے صاف انکار کر دیا تھا ، یہاں تک کہ ان طیاروں کو امریکہ ہی میں روک کر جن ہینگروں میں کھڑاکیا گیا تھا ان کا کرایہ بھی پاکستان سے وصول کیا جاتا رہا ، اس لئے پاکستانی قوم کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہو نا چاہیئے کہ ایک امریکی جنرل نے پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقات میں پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم کی تعریف کر دی ہے تو اس سے واقعی امریکہ پاکستان پر مہربان ہونے جارہا ہے ، صورتحال یہ ہے کہ جب ہم اپنے خطے کے معروضی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو اس پر بھی ضرور غور کرنا چاہیئے ۔ خاص طور پر پاکستانی افواج کی راجگال چوکی پر قبضہ اور دہشت گردوں کے افغانستان فرار سے افغانستان پر دبائو میں اضافہ ہوا ہے اور افغانستا ن کی جانب سے دہشت گردوں کو افغان سرزمین پر پناہ دینے سے ہمیشہ انکار کی حقیقت بھی واضح ہوگئی ہے ، جبکہ دہشت گردی کے افغانستان کے اند ر موجود اڈوں سے امریکی افواج بھی مشکلات کا شکار ہور ہی ہیں ، اس لئے امریکہ پاکستان پر ایک بار پھر حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے الزامات پر اتر آیا ہے ، مگر ہماری سیاسی قیادت کو پانامہ سے فرصت ملے تو وہ اس بارے میں کچھ سوچے ۔ بقول جون ایلیا ء

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں

میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

متعلقہ خبریں