Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

خالد بن احمد ذہلی اور ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل میں باتیں ہو رہی تھیں۔ خالد بن احمد ذہلی بخارا کا امیر تھا اور ابو عبداللہ تھے امام بخاری۔ امام صاحب جب حدیث لکھنے بیٹھتے تو بڑا اہتمام کرتے۔ پہلے نہاتے پھر دو رکعت نفل پڑھتے تب کہیں جاکر ایک ایک حدیث لکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتاب صحیح بخاری سولہ برسوں میں جاکر مکمل ہوئی۔امام بخاری کی شہرت ان کی زندگی ہی میں دور دور پھیل گئی تھی۔ جیسے امیروں اور بادشاہوں کے ڈھنگ ہوتے ہیں امیر بخارا نے چاہا کہ امام بخاری اس کی ہر بات مان لیں۔ ایک دن اس نے کہا۔ آپ میرے بچے کو پڑھایا کریں۔

یہاں کسے انکار تھا۔ ساری زندگی علم کے لئے وقف تھی۔ ہزاروں شاگرد تھے۔ حکم ہے جو علم تمہیں حاصل ہو وہ دوسروں تک پہنچا دو۔ امام بخاری وہ بزرگ تھے جو اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اس حکم پر عمل کرتے تھے۔ انہوں نے امیر سے فرمایا۔ اپنے لڑکے کو بھیج دو! امیر نے کہا۔ نہیں میرا یہ مطلب نہیں۔ آپ اسے میرے گھر پر پڑھایا کریں۔امام بخاری نے پوچھا۔ بھلا کیوں؟ جواب ملا۔ وہاں اور بھی لڑکے ہوتے ہیں۔ میں اسے پسند نہیں کرتا کہ میرا بچہ عام بچوں میں بیٹھے۔

علماء حدیثوں کی طلب میں ہزاروں میل کا سفر کرتے تھے۔امام بخاری نے خود اس غرض سے ہزاروں میل کا سفر کیا تھا۔ انہوں نے امیر بخارا سے فرمایا۔ تم اپنے بچے کو علم حدیث پڑھانا چاہتے ہو اور حال یہ ہے کہ علم کے لئے تمہارے دل میں عزت ہی نہیں۔ میں اسے علم حدیث کی بے ادبی سمجھتا ہوں کہ کسی کے گھر جا کر اس کی تعلیم دوں۔امیر بخارا نے کہا۔ اچھا تو پھر ایسا کیجئے کہ جس وقت میرا بچہ پڑھنے کے لئے آپ کے پاس آئے آپ کسی اور طالب علم کو نہ آنے دیں۔ دو ٹوک جواب ملا۔ یہ تمیز ممکن نہیں تمہارے بچے کو اگر آ نا ہے تو آئے گا اور سب کے ساتھ پڑھے گا۔ امیر بخارا نے غصے سے کہا۔ میرا بچہ بھلا عام آدمیوں کے بچوں کے ساتھ بیٹھے گا؟ امام بخاری نے فرمایا۔ علم پیغمبروں کی میراث ہے۔ اس میراث میں تمام امت شریک ہے۔ یہاں امیر غریب کی کوئی تمیز نہیں۔ امیر بخارا بھول گیا کہ امام بخاری کون ہیں کتنے بڑے عالم کیسے زاہد اور کس قدر نیک آدمی ہیں۔وہ انہیں نقصان پہنچانے کے درپے ہوگیا۔ یہ حیلہ وہ حیلہ استعمال کرکے اس نے انہیں شہر سے نکال دیا۔ امام بے کسی کے عالم میں ادھر ادھر سر چھپاتے چھپاتے نیشا پور پہنچے وہاں سے تنگ نامی جگہ آئے۔ خیال تھا کہ یہیں ٹھہر جائیں کہ مسلسل پریشانیاں اور ذہنی کوفت رنگ لائی اور وہ تنگ میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ کیسا بڑا عالم' زاہد و عابد شب زندہ دار اور کس حال میں دنیا سے گزر گیا۔لیکن فطرت کی تعزیریں بڑی سخت ہوتی ہیں۔ ابھی انہیں بخارا چھوڑے ایک مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ خالد بن احمد ذہلی گورنر بخارا اپنی خدمت سے معزول کردیاگیا اور یہی نہیں اللہ نے ظالم کو اس طرح نیچا دکھایا کہ معزول ہو تے ہی اسے گدھے پر سوار کرکے تمام شہر میں گھمایاگیا۔ ( روشنی)

متعلقہ خبریں