Daily Mashriq

دھاندلی کب نہیں ہوئی؟

دھاندلی کب نہیں ہوئی؟


وطن عزیز پاکستان میں انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی روایت نئی نہیں بلکہ یہاں ہر ہارنے والا جیتنے والی جماعت پر دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کے کندھے استعمال کرنے کا الزام لگا دیتا ہے۔ 2018ء کے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف مرکز خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومت سازی کی پوزیشن میں آگئی ہے اور جہاں جہاں اس کو عددی اکثریت درکار ہو وہاں پر اس کے پاس اختیار کرنے کے اچھے اور مناسب مواقع ہیں۔ ماضی کی بنسبت 2018ء کے انتخابات کے نتائج سے انکار اس لحاظ سے زیادہ موثر اور توانا بہر حال ہے کہ ملک کی تقریباً تمام قابل ذکر جماعتوں کے قائدین نے یکساں قسم کے الزامات اور شکایات کے ساتھ نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا محتاط عندیہ دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات کے نتائج کے حق یا مخالفانہ ہونے کے برعکس اس وقت ملکی صورتحال اور خاص طور پر معاشی صورتحال اس امر کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ ملک میں کسی احتجاج یا عدم تعاون کا کوئی سخت مظاہرہ کیا جائے۔ جہاں تک نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا تعلق ہے یہ سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے لیکن ان کا لائحہ عمل عوامی سطح پر سخت ہونے کی بجائے الیکشن کمیشن سے با ثبوت رجوع اور عدالت میں اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہئے اور یہی مناسب راستہ ہے۔ احتجاج' دھرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کو سخت احتجاج ہی مطلوب ہے تو اس کاایک موثر طریقہ اسمبلی کے اجلاس میں بیٹھنے سے متفقہ انکار ہونا چاہئے جس سے اکثریتی جماعت کے اقتدار کا اخلاقی جواز کمزور ہوگا۔ جہاں تک انتخابات میں دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا سوال ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ قبل ازیں اقتدار میں آنے والی ان جماعتوں کی قیادت کو اس امر کا بخوبی تجربہ ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں مشترکہ اعتراض یہی کیا جا رہا ہے کہ امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو فارم نمبر45 نہیں دیا جا رہاہے۔ یہ پہلے فارم نمبر چودہ کہلاتا تھا جس میں ہر پولنگ سٹیشن میں امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد لکھی ہوتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے عمل سے بھی ان کو دور رکھا گیا جس کی سیکرٹری الیکشن کمیشن نے تردید کی ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر الیکشن کو منصفانہ ' آزادانہ اور شفاف قرار دے رہے ہیں۔ صورتحال اس قدر شفاف بھی نہیں جتنی الیکشن کمیشن کے اعلیٰ عہدیداروں کو اصرار ہے۔ دال اگر پوری کالی نہیں تو دال میں کالا ہونے میں شبے کی گنجائش نہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں صرف چار حلقوں پر دھاندلی کا الزام لگا کر آسمان سر پہ اٹھایا گیا تھا اور الزام لگانے والی جماعت ایک تھی جبکہ یہاں پر آٹھ سیاسی جماعتیں یک آواز الزام لگا رہی ہیں۔ ان الزامات کی گونج میں آنے والی حکومت کی سیاسی و اخلاقی وقعت کا سوال ہی نہیں اس کے اخلاقی جواز اور حکومت کا چلنا بھی یقینی نہیں۔ مبصرین کی جانب سے مخلوط حکومت کے قیام کا اندازہ اس طرح سے تو پورا نہیں ہوا جو ان کا نقطہ نظر تھا تحریک انصاف کو حکومت سازی کے لئے بڑی جماعتوں کے در پہ طواف کی ضرورت نہیں لیکن ان انتخابات کے نتیجے میں ملک میں انتشار اور عدم استحکام کے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا وہ اندازوں سے بڑھ کر درست ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور ملک خدانخواستہ عدم استحکام کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ نتائج کے آنے میں تاخیر سے جنم لینے والے شکوک و شبہات کے باعث عام انتخابات کی حیثیت مشکوک ہوگئی ہے اور الیکشن کمیشن کے سارے جدید انتظامات کا دھرے کا دھرا رہ جانا ایک اور سیاسی المیے' غیر یقینی کی کیفیت اورانتشار کا باعث بن رہا ہے۔ جہاں تک غیر متوقع نتائج کا سوال ہے ہمارے تئیں ہر گز ضروری نہیں کہ انتخابات کے نتائج اندازوں کے دائر ے میں ہوں اور عوام کی مرضی اور حتمی فیصلہ کرتے وقت ان کی رائے کی تبدیلی اور دیگر وجوہات کی بناء پر انتخابی اندازوں کا غلط ثابت ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی مقبولیت کے تمام اندازے غلط ثابت ہوگئے اور غیر مقبول ڈونلڈٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے جسے سطحی اعتراضات کے بعد طوعاً و کرھاً تسلیم کیاگیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی عوامی پذیرائی اور عمران خان کی شخصیت بارے دو رائے نہیں تھی اس امر کا بھی اندازہ ہو رہا تھا کہ 2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف حکومت سازی کی پوزیشن میں آئے گی اس لحاظ سے تو نتائج غیر متوقع نہیں البتہ اتنی اکثریت کی خود تحریک انصاف کے حلقوں کو بھی توقع نہ تھی۔ بہر حال یہ عوام کا فیصلہ ہے جس میں اگر آمیزش اور اثر انداز ہونے کے عنصر کو تسلیم کرنے کے باوجود بھی نتائج کو تسلیم کرنا اس بناء پر بہتر ہوگا کہ سیاسی انتظار کوئی پسندیدہ امر نہیں۔ عوام نے جس تبدیلی کی امید پی ٹی آئی کی قیادت سے وابستہ کرکے ان کو کامیاب بنایا ہے اس رائے کا پوری طرح احترام ہونا چاہئے اور تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں رکاوٹیں ڈالنے کی بجائے اس کردار کا مظاہرہ کرنے سے اجتناب کیا جانا چاہئے جو شکایت دیگر سیاسی جماعتوں کو پی ٹی آئی سے رہا ہے۔ وطن عزیز میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی بالا دستی کے لئے تحفظات کے باوجود نظام کو چلنے دینا ہی ملکی مفاد کا تقاضا ہے۔

اداریہ