Daily Mashriq

دہشت گردی اور قتل کے افسوسناک واقعات

دہشت گردی اور قتل کے افسوسناک واقعات


کوئٹہ میں پولنگ سٹیشن کے باہر خودکش حملہ میں 32افراد کی شہادت بلوچستان میں الیکشن سٹاف پر فائرنگ میں تین فوجیوں سمیت ایک ٹیچر کی شہادت صوابی میں پی ٹی آئی اور اے این پی کے کارکنوں میں تصادم میں جوانسال انجینئر کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اور شبقدر میں قومی وطن پارٹی کے رہنما کا پولنگ سٹیشن کے اندر قتل جیسے سنگین واقعات انتخابات کے رنگ کو پھیکا کرنے اور افسوس کا باعث امور ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے دو واقعات کے علاوہ ملک میں کسی جگہ سے بھی دہشت گردی کے کسی بڑے واقعے کا نہ ہونا سیکورٹی انتظامات کے مئوثر ہونے کے باعث تھا یا پھر یہ علاقے دہشت گردوں کے نشانہ پر نہ تھے بہر حال جو بھی صورتحال ہو مجموعی طور پرپر امن صورتحال میں انتخابی عمل کی تکمیل اطمینان کا لمحہ اس لئے ہے کہ جس خطرات کی نشاندہی کی جارہی تھی اور ان خطرات سے نمٹنے کی جو تیاریاں صوبائی دارالحکومت پشاور کے ڈپٹی کمشنر نے کی تھیں اس کے مطابق خدانخواستہ سولاشیں گرنے کا اندیشہ تھا ۔ بلوچستان ایک عرصہ سے ملک دشمن عناصر اور بیرونی دشمنوں کی زد میں ہے گوکہ بلوچستان میں دہشت گردی کے بد ترین واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع زیادہ ہوا لیکن ہمارے تئیں اس سے زیادہ سنگین واقعہ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان صوابی اور شبقدر میں دو قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور بعض افراد کے زخمی ہونے کا ہے ۔ دہشت گردوں اور دشمنوں سے توقع ہی دہشت گردی اور خونریزی کی ہوتی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کے کارکنوں معمولی تنازعات پر ایک دوسرے پر فائرنگ قتل مقاتلہ اور مجروح ومضروب کرنے کے واقعات اس لئے زیادہ افسوسناک ہیں کہ اس میں سیاسی کارکنوں نے رواداری اور اخوت کے ساتھ ساتھ صبر کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیا جس کی نہ تو دین و مذہب میں گنجائش ہے اور نہ ہی سیاسی اخلاقیات اور جمہوریت میں کوئی گنجائش نکلتی ہے صوابی اور شبقدر کے واقعات نہایت قابل مذمت ہیں جس میں ملوث عناصر کو معاف نہیں کیا جانا چاہیئے۔ شبقدر میں پیش آنے والا واقعہ اس بناء پر زیادہ سنگین اور قابل مذمت ہے کہ یہ پولنگ سٹیشن کے اندر پیش آیا جہاں پولیس اور فوج کا پہرہ تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قتل کرنے والے ملزمان اسلحہ پولنگ سٹیشن کے اندر لے جانے میں کامیاب کیسے ہوئے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں اور فوجی نوجوانوں نے اس ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی علاوہ ازیں جس قسم کی دھاندلی کی شکایت ملی تھی اس کی اجازت کیسے دی گئی ۔ حالات وواقعات سے لگتا ہے کہ اس پولنگ سٹیشن میں پوری ملی بھگت اور منصوبہ بندی سے دھاندلی جاری تھی جس کا الیکشن کمیشن کو نوٹس لیتے ہوئے نتیجہ روکنا اور منسوخ کرلینا چاہیئے ۔

د

اداریہ