Daily Mashriq


نئی حکومت کے لیے فوری چیلنج

نئی حکومت کے لیے فوری چیلنج

انتخابات کے نتائج تادم تحریر مکمل تو نہیں ہوئے لیکن جس طرح غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہو رہے ہیں ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کی پی ٹی آئی نے میدان مار لیا ہے لیکن اسے اتنی بڑی اکثریت حاصل ہونے کی توقع قائم نہیں ہو رہی کہ وفاق میں اسے اتنی اکثریت حاصل ہو جائے جس سے وہ مؤثر حکومت بنا سکے۔ البتہ ایسے آثار ضرور نظر آ رہے ہیں کہ وہ سادہ اکثریت سے حکومت بنا سکے گی۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی بھی اتنی نشستیں حاصل کرتی ہوئے نظر آ رہی ہیں کہ جن سے وہ مشترکہ طور پرمؤثر اپوزیشن کھڑی کر سکتی ہیں۔ آصف زرداری کا وہ جملہ اہم نظر آنے لگا ہے کہ آئندہ مستقبل میں پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت بنانا مشکل ہو گا۔ پنجاب میں نتائج ابھی اتنے واضح نہیں ہیں کہ آئندہ حکومت کی پیشن گوئی آسانی سے کی جا سکے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ انتخابی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے نئی حکومت سارے پاکستان کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ' اچھی طرح سے کام کرے اور اپوزیشن اس کی اچھی طرح سے نگرانی کرے ۔ عام انتخابات کے نتائج پر چھ پارٹیوں نے جنہیں گزشتہ انتخابات سے کم پذیرائی ملی ہے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سابقہ حکمران جماعت ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ سٹیشنوں سے نکال دیا گیا تھا۔ اور انتخابات کے دوران نتائج کے انتظام سسٹم میں ٹیکنالوجی میں نقص کے باعث انتخابی نتائج کے فارم 45پولنگ ایجنٹوں کو نہیں ملے۔ چیف الیکشن کمشنر نے میڈیا سے گفتگو میں وضاحت کی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے سسٹم پر دباؤ کی وجہ سے دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایسے کوئی واقعات رونما ہوئے ہیں کہ پولنگ ایجنٹوںکو نکال دیا گیا تھا تو اس کے ثبوت کے ساتھ الیکشن کمیشن کو شکایت کی جانی چاہیے جس پر کارروائی ہو گی۔ اس سلسلہ میں ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا وہ بیان زیرِ غور ہونا چاہیے کہ اگر دھاندلی ہوئی تو انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور انتخابی نتائج سے پہلے ہی انہوں نے انتخابات کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگرچہ انتخابات کے شفاف اور منصفانہ ہونے کے بارے میں صفائی پیش کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے تاہم پی ٹی آئی کو بھی جسے اکثریت حاصل ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے مستقبل قریب میں کسی ایسے چیلنج پر متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی نے کسی نامور جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کیا لیکن حکومت میں آنے کے بعد اس کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ مثبت اختلافی رویے کا احترام کرتے ہوئے حزب اختلاف کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرے۔ اگرچہ یہ ذمہ داری تب شروع ہو گی جب انتخابات کے حتمی سرکاری نتائج سامنے آ جائیں اور ان کے مطابق پی ٹی آئی کو وفاق میں اکثریتی پارٹی قرار دیا جا سکے اور صوبوں میں بھی پارٹی پوزیشن واضح ہو جائے۔پی ٹی آئی کو حکومت اس وقت ملنے والی ہے جب اس کے سامنے ایسے چیلنج ہوں گے جو ملک کی تاریخ میں اتنے سخت نہ تھے۔ ملک کے بیشتر مسائل وہ غیر اعلانیہ جنگ ہے جو جاری ہے اور عوام الناس کی اس حوالے سے کم آگہی ہے عین انتخابات کے دن ہی کوئٹہ میں خود کش حملہ جس میں تیس سے زیادہ ہم وطن شہید ہو گئے تقاضا کرتا ہے کہ نہ صرف غیر اعلانیہ جنگ کے اس پہلو سے نبرد آزما ہونے کی فوری ضرورت ہے بلکہ اس کے معیشت اور خارجہ امور سے متعلق چیلنجوں پربھی توجہ دی جائے۔ دہشت گردی کے واقعہ کی ذمہ داری کوئی بھی گروہ تسلیم کرے اصل میں یہ وارداتیں پاکستان کے استحکام کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان کا ذمہ دار کوئی بھی پاکستان کا دشمن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابی کے بعد ایک نیشنل ایکشن پلان بنا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے مختلف نظام حکمرانی میں ایسی اصلاحات کی جائیں کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ ہو جائے۔ اور جرم کی مؤثر سرکوبی ہو جائے۔ یہ ایکشن پلان پارلیمنٹ میں موجود سبھی جماعتوں کی منظوری سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ جماعتیں آج بھی قائم ہیں ، سینیٹ موجود ہے اور نئی قومی اسمبلی قائم ہونے والی ہے اس کی طرف تمام سیاسی اور غیر سیاسی سٹیک ہولڈرز کو متوجہ کیا جانا چاہیے اور ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سب کا تعاون حاصل کیا جانا چاہے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام الناس کو متوجہ کیا جانا چاہیے کہ ملک دہشت گردوں کے ہاتھوں مشکلات میں مبتلا ہے اور عوام الناس کا اس طرف متوجہ ہونا ہی دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں معاون ہو سکتا ہے ۔ معاشی چیلنج اہم ترین چیلنج ہے ۔ 31تاریخ کو ایمنسٹی کی آخری تاریخ کے بعد ان لوگوں کی فہرست سامنے آ جائے گی جن کے پاس پوشیدہ سرمایہ ہے اور ان کا نام نہیں لیا جا سکتا۔ لیکن اندازہ ہے کہ ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ایسے لوگوں کے خلاف فوری ایسی مؤثر کارروائی شروع کی جانی چاہیے جو نظر آئے۔ اس سے بینکنگ اور سرکاری بیوروکریسی کو اصلاح کا پیغام جائے گا جس کی معاونت کے بغیر کالا سرمایہ منتقل نہیں ہو سکتا۔ جرائم کی سرکوبی کے لیے ناقص تفتیش کرنے والوں ' جھوٹی گواہی دینے والوں اور ایسے سرکاری وکیلوں کے لیے جن کے مقدمے خارج ہو جاتے ہیں اور ماتحت عدلیہ کے ایسے افسروں کے لیے جن کے فیصلے غلط ثابت ہو جاتے ہیں ایسے قواعد بنائے جانے چاہئیں جو ان کی ترقی پر اثر انداز ہوں یا ان کی ملازمت سے محرومی پر منتج ہوں ۔ فوری چیلنج مہنگائی کا آنے والا ہے جس کے لیے آئندہ حکومت کو تیار رہنے کی ضرورت ہو گی۔ یہ فوری چیلنج ہیں دیگر مسائل کے بارے میں انتخابی مہم کے دوران کافی بحث ہو چکی ہے ' دعوے بھی کیے جا چکے ہیں اور وعدے بھی کیے جا چکے ہیں، ان پر بات ہوئی ہو گی۔

متعلقہ خبریں