Daily Mashriq

پختون سیاسی قیادت سے ایک سوال

پختون سیاسی قیادت سے ایک سوال

گرمی ، حبس اور خوف وہراس کے عالم میں ہوئے انتخابی عمل کے بعد بالآخر اب امید کی جاسکتی ہے کہ ایک آدھ روز میں ملک میں سیاسی ماحول معمول پر آجائے گا کیونکہ اس کے بعد حکوت سازی پر ہی ساری توجہ مرکوز کر دی جائے گی ۔ اگر چہ انتخابی عمل پر کچھ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں ، تاہم معاف کیجئے گا اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں دھاندلی کے حوالے سے استفسارات کروں گا تو ایسا کچھ بھی نہیں کیونکہ ہر انتخابی عمل کے بعد اس قسم کے اعتراضات سیاسی جماعتوں کا وتیرہ رہا ہے اور ان اعتراضات کی حقیقت کیا ہے جو گزشتہ روز کے انتخابات کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔ خصوصاً پولنگ کے اختتام پر رات گئے کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کے عمل پر ان کے پولنگ ایجنٹوں کو نکال باہر کرنے اور اندر ہی اندر ''کھچڑی پکائی جانے'' کے حوالے سے احتجاجی بیانات یا پریس کانفرنسوں میں کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن' نگران حکومت اور معترض سیاسی جماعتوں کے بیچ ہی آنے والے دنوں میں ہی بحث مباحثے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔ اس لئے میں اس ضمن میں کوئی سوال نہیں اٹھانا چاہتا۔ خصوصاً اس موقع پر جب ابھی یعنی دم تحریر نتائج بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آسکے اور خبریں مسلسل آرہی ہیں ' البتہ آنے والے دنوں میں جب مزید خبریں جن میں مبینہ دھاندلی کی نشاندہی ہوگی' آنے کے بعد ہی ضرورت محسوس ہوئی تو ممکن ہے کہ ان خبروں کو کالم کا موضوع بنایا جاسکے گا۔ میں تو ایک اہم سوال بطور خاص خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں کے بارے میں اٹھانا چاہتا ہوں اور اے این پی کے ایک سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور کے اس بیان کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا جو انہوں نے اپنی شکست کے بعد دیا ہے اور جس سے ان کی وسیع القلبی اور جمہوریت پسندی کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے بڑکپن کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہیں۔ پشاور کے عوام نے عمران خان پر اعتماد کیا ہے اس لئے ان کی جماعت کو بھاری اکثریت دلوادی ہے۔ حاجی صاحب کے اس بیان کے بعد پختون سیاسی قیادت کو سر جوڑ کر ٹھنڈے دل و دماغ سے یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ آخر گزشتہ کئی انتخابات میں ان کی مسلسل شکست کی وجوہات کیا ہیں؟ اگرچہ یہ لوگ ہر وقت پختونوں کو سیاسی طور پر پہنچنے والے نقصان پر پختونوں کو متحد و متفق ہونے کا درس تو ضرور دیتے ہیں لیکن عملی طور پر یہ لوگ اپنی اپنی ڈفلی بجانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹوں کی مسجدیں تعمیر کرکے گروپ بندیوں کاشکار رہتے ہیں۔ اس وقت بھی مذہبی قیادت کو اگر ایک طرف بھی رکھ دیا جائے جن میں سے اہم جماعتوں کی قیادت پختون علمائے کرام ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر عمومی سیاسی جماعتوں کو دیکھا جائے تو کم از کم تین بڑی جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ اے این پی' قومی وطن پارٹی اور پشتونخوا میپ بنیادی طور پر پختون سیاست کے گرد ہی گھومتی رہتی ہیں اور ان کے لیڈر اتحاد و اتفاق کا درس تو دیتے رہتے ہیں مگر (اندر ہی اندر) ایک دوسرے کے سائے کو بھی موقع ملنے پر پتھر مارتے رہتے ہیں اور ٹکڑیوں میں بٹ کر '' اتحاد و اتفاق'' کی دھجیاں بکھیرتے رہتے ہیں۔ پے در پے شکستوں اور قومی سیاسی دھارے سے باہر نکلنے کے باعث کیا یہ لوگ کبھی سنجیدگی کے ساتھ خود اپنے ہی ''درس اتحاد'' پر متفق ہونے پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ اگرچہ یہ بات اچھی طرح واضح ہے کہ ان میں سے ہر دھڑے کے رہنمائوں کی انا پرستی ہی اس صورتحال کا باعث بن رہی ہے۔ جب ایک خود کو سیر اور دوسرا سوا سیر سمجھتے ہوئے اور اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہ ہو تو یہ اسی طرح جماعت سے دھڑوں میں بٹتے رہیں گے اور دوسری قوتیں ان کی اسی کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گی۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ لوگ اپنی اپنی جماعتوں کے اندر اس جمہوریت کو حقیقی طور پر نافذ کرنے پر توجہ دیں جس جمہوریت کا یہ دن رات ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ ( یہ صورتحال ملک کی دیگر جماعتوں میں بھی ہے) یعنی موروثیت کے بتوں کو توڑ کر اپنی انائوں کے خول سے نکل کرایک دوسرے کی جانب خلوص نیت سے ہاتھ بڑھا دیں تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکے گی۔ مگر معاف کیجئے گا انہیں جب بھی موقع ملا انہوں نے اقتدار میں آتے ہی اقرباء پروری کو فروغ دیا۔ اے این پی کی سابقہ حکومت پر نظر ڈالی جائے' تحریک انصاف کی سابقہ حکومت میں شمولیت اور دوبار (بے آبرو ہو کر) نکالے جانے کے حوالے سے قومی وطن پارٹی کو دیکھا جائے یا پھر بلوچستان میں محمود خان اچکزئی کے اہل خاندان کی وہاں حکمرانی کے طور پر طریقوں کو جانچا جائے ہر جگہ اور ہر موقع پر ذاتی اور خاندانی مفادات کو مقدم رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں سے سیاسی دھڑوں کی سطح تک آنے کے سفر میں پختون سیاسی قیادت نے ہر موقع پر فاش غلطیاں کیں اور ایک دوسرے کے مقابل آکر اپنی توقیر کو دائو پر لگایا۔ اس صورتحال پر ہمارے ایک کرم فرما سعید احمد (ملتان )نے فیس بک پر حالیہ دنوں میں ایک خوبصو رت شعر پوسٹ کیا تھا' ملاحظہ کیجئے
جلتے گھر کو دیکھنے والو پھوس کا چھپر آپ کا ہے
دائیں بائیں تیز ہوا ہے آگے مقدر آ پ کا ہے
موجودہ صورتحال اگر جاری رہی اور پختون قیادت کو اب بھی ہوش نہیں آیا ' یہ اسی طرح ذاتی انائوں کے خول میں مقید رہے (باقی صفحہ 7)

اداریہ