Daily Mashriq


عوام کا انتخابی شعور

عوام کا انتخابی شعور

نتائج تو یہی آنے تھے ، اس میں کسی کو شک نہیں تھا ۔ مسلم لیگ (ن) کا شور شرابا ، پیپلز پارٹی کی پریس کانفرنس ، فارم 45کی عدم دستیابی ساری ہی باتیں ایسی تھیں جن کے حوالے سے ہمیں اندازہ تھا کہ کسی نہ کسی صورت انہیں جھنڈے کے طور پر اٹھا یا جائے گا ۔ نتائج آنے شروع ہوئے تو امکانات روشن ہونے شروع ہوگئے اور پھر یہ باتیں سنائی دینے لگیں ۔ خلائی مخلوق کے نام کے چرچے تو انتخابات سے پہلے ہی سنائی دینے شروع ہوگئے تھے ، یہ بھی ایک سوچی سمجھی بات تھی اور اس کا شور شرابا اسی لیے وقت سے پہلے مچنا شروع ہوگیا تھا تاکہ آنے والے وقت میں اپنی شکست کے چہرے پر نقاب اوڑھا یا جاسکے ۔ ان انتخابات میں کئی باتیں دکھائی دے رہی ہیں ۔ اور وہ لوگ جو مسلم لیگ (ن) کے حمایتی تھے ان میں سے کئی ایسے ہیں جو ان باتوں کا اعتراف کھلے دل سے کر رہے ہیں ۔ اتنے ہی کھلے دل سے جس سے جناب غلام احمد بلور نے اپنی شکست تسلیم کی ہے ان انتخابات میں سب سے اہم بات جو واضح طور پرد کھائی دے رہی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں نے بہت سوچ سمجھ کر لوگوں کے حوالے سے فیصلہ کیا ہے ۔ ان لوگوں کے حوالے سے ، عوام کی رائے بالکل واضح دکھائی دیتی ہے جو اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر ، محض اقتدار کی خواہش میں عمران خان کے ساتھ آکھڑے ہوئے تھے کیونکہ وہ عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ سکتے تھے ۔ جو یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ آنے والا وقت عمران خان کی جانب اشارہ کر رہا ہے ۔ لوگوں میں شعور اور عمران خان کی پسندیدگی میںاضافہ ہورہا ہے لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ لوگوں کے شعور میں اضافہ انہیں ،خود ان منتخبین کی اصلیت کے حوالے سے سوچنے پر بھی مجبور کرے گا۔ لوگوں کے شعور میں اس بڑھوتری نے ان لوگوں کے حوالے سے عوام کو فیصلہ کرنے میں بہت مدد کی ۔ تبھی تو پیپلز پارٹی چھوڑ کر آنے والے لوگوں کو ، عوام نے مسترد کردیا ۔ فردوس عاشق اعوان ، ندیم افضل چن ، نذر گوندل مصطفیٰ کھرجیسے سارے بڑے نام مسترد کر دیئے گئے اور یہ شاید ایک بہت ہیخوش آئند بات ہے ۔ لوگ سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے لگے ہیں ۔ انہیں منتخبین کی سیاست کے علاوہ بھی معاملات دکھائی دینے لگے ہیں ۔ وہ لوگوں کے کردار کے حوالے سے فیصلہ کرنے لگے ہیں ، اب لوگوں میںیہ شعور پیدا ہوگیا ہے جس نے مولانا فضل الرحمن کو دونوں نشستوں پر شکست کا سامنا کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ اور بات صرف اسی حد تک ہی محدود نہیں رہی ۔

ایم ایم اے کا وہ اتحاد جس کے بارے میں ، میں پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ وہ جماعت اسلامی کوکوئی فائدہ نہ دے سکے گا نے جماعت اسلامی کو خاصا نقصان پہنچایا ہے ۔ جماعت اسلامی ان انتخابات میں بہت مشکلات کا شکار رہی ۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ یہ اتحاد ، اس وقت جماعت اسلامی کے لیے اور بھی نقصان دہ ثابت ہوا جب کے پی کے حکومت میں مسلسل کئی سال تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد میں رہنے کے بعد جماعت اسلامی نے اچانک تحریک انصاف سے منہ موڑ لیا اور مولانا فضل الرحمن سے اتحاد کرلیا ۔ لوگوں کی ناپسندیدگی ان انتخابات میں صاف دکھائی دی ۔ یہاں تک کہ کئی ایسے لوگ جو ہمیشہ ہی جماعت اسلامی کوووٹ دینے والے رہے ہیں ، انہوں نے بھی محض اس اتحاد کے باعث ، جماعت اسلامی کوووٹ نہیں دیا ، مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے لوگوں کی رائے ، گزشتہ کئی سالوں کے ، انکے سیاسی کردار کے حوالے سے منفی رجحان کا شکار رہی ہے ۔ اور یہ سب ان انتخابات کے نتائج میں واضح نظر آرہا ہے ۔

مسلم لیگ (ن) کے کئی بڑے برج اُلٹ گئے ہیں جو یہ ثابت کررہا ہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کا وطن واپس آنا ، گرفتار کیا جانا اور جیل جانا ، مسلم لیگ(ن) کو کسی صورت وہ رحم کا ووٹ نہیں دلواسکا جس کی وہ امید لگائے بیٹھے تھے ۔ بات یہیں تک موقوف رہے تو شاید معاملہ اتنا خراب نہ ہوتا ۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کا خیال ہوگا کہ اس قید کے بعدوہ دوبارہ ، ہماری اکثریت اور مینڈیٹ کے ساتھ حکومت میں ہونگے ۔ لوگوں کے تجزیے بھی یہی تھے لیکن لوگوں نے اپنے ووٹ سے یہ ساری بات ، اور سارے تجزیئے بھی غلط ثابت کردیئے ۔ انتخابات کے نتائج نے ثابت کردیا کہ جیل جانے والوں کی قربانی ، انکے جرائم کا مکافات عمل تصور کی جارہی ہے اس سے زیادہ اس ساری بات کی کوئی حیثیت نہیں ۔ تجزیے تو اب شروع ہونگے ۔ مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا ، پیپلز پارٹی کس کے ساتھ اتحاد کرے گی ، عمران خان کو کس کی مدد کی ضرورت ہوگی ؟ بنی گالہ میں تشکیل دی جانے والی کمیٹیاں کس کس کو اتحاد کے لیے کس قیمت پر راضی کریں گی ۔ ساری باتیں آنے والے وقت میں واضح ہوتی چلی جائینگی ۔ البتہ اس ساری صورتحال میں سب سے اہم بات عوام میں شعور کا یوں بڑھنا تھا ، جو نتائج سے واضح ہے ۔

متعلقہ خبریں