Daily Mashriq

سرکاری ونجی تعلیمی اداروں کا احتساب کیوں نہیں ہوتا؟

سرکاری ونجی تعلیمی اداروں کا احتساب کیوں نہیں ہوتا؟

ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبے میں غیر معیاری پرائیویٹ کالجوںاوردیگرتعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی اس بناء پر احسن ہے کہ نجی تعلیمی ادارے خواہ وہ سکول کی سطح کے ہوں یا پھر کالجوں کی سطح پیشہ وارانہ ڈپلومہ کروانے والے یا پھر ٹیوشن اکیڈمیاں اور ایٹا ٹیسٹ کروانے والے تعلیمی ادارے نہیں بلکہ یہاں خالصتاً تعلیم کی تجارت ہوتی ہے اور یہ تعلیمی ادارے بہتر نتائج کے حصول اور اس کی تشہیر کیلئے کچھ بھی کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی خیبر پختونخوانے صوبے میں غیر معیاری پرائیویٹ کالجوں اور طبی تدریسی اداروں کے خلاف کارروائیاں اورہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے رولز پر عمل در آمد نہ کرنے والے کالجوں اور اداروں کی فہرستیں تیار کر کے سنجیدہ قدم اپنایا ہے۔ایبٹ آباد کے ایک ادارے کی رجسٹریشن کی معطلی اورانتظامیہ کو تین لاکھ روپے جرمانے کا اقدام صوبے میں تعلیم کے نام پر فراڈ کرنے والوں کیلئے انتباہ ہے بشرطیکہ اس قسم کی مزید کارروائیاں کی جائیں اور جو فہرست مرتب کی گئی ہے اس میں شامل اداروں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے صوبے میں صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی کا معیار ناگفتہ بہ نہیں نجی تعلیمی اداروں کی صورتحال بھی ان سے زیادہ مختلف نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی،ہائیرایجوکیشن ریگولٹری اتھارٹی، ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈز،محکمہ تعلیم کی نظامت اور ضلعوں کی سطح پرمحکمہ تعلیم کے افسران بلکہ سب ڈویژنز کی سطح تک کے انتظامی افسران اور مانیٹرنگ یونٹس اتنے سارے اداروں اور افسران کی موجودگی درجنوں ملائوں میں مرغی حرام کے مصداق ہے اتنے سارے عملے اور حکومت کے کروڑوں اربوں روپے کے وسائل کا حاصل سوائے وسائل کے ضیاع کے اور نتیجہ برآمد نہیں ہوتا سرکاری تعلیمی اداروں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے ہر سال میٹرک کے امتحانی نتائج کے موقع پر ان کا عقدہ کھلتا ہے جس کا نہ تو متعلقہ محکمہ اور تعلیمی ادارے اعتراف کرتے ہیں اور نہ ہی حکومت اس ناکامی کو سنجیدگی سے لیتی ہے حکومت اور محکمہ تعلیم کو اس امر پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں کہ اس قوم کا جو پیسہ نو نہالوں کی تعلیم وتربیت پر لگ رہا ہے اس کا نتیجہ اور حاصل کیا ہے۔صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی کا یہ عالم نہیں نجی تعلیمی ادارے بھی زیادہ نیک نام نہیں چند ایک سکولوں سے جو طلبہ اچھے نمبر لیتے ہیں اس میں ان سکولوں میں دی گئی تعلیم کم ان طلبہ کی اپنی شبانہ روز محنت والدین کا مزید رقم خرچ کر کے ان کیلئے ٹیوٹررکھنے کا عمل دخل زیادہ ہے اگر صرف ان نجی تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تدریس ہی کو معیار بنایا جائے تو ان کا نتیجہ بھی سرکاری تعلیمی اداروں سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا اگر ان نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کو توجہ اور تدریس صحیح ملتی تو نجی ٹیوشنز اور ٹیوشنز اکیڈمیاں بند ہو چکی ہوتیں صرف میٹرک کی سطح پر ہی یہ صورتحال نہیں ابتدائی جماعتوں میں بھی کم وبیش یہی صورتحال ہے جس کے باعث والدین کو سکولوں کی بھاری فیسوں کے ساتھ ٹیوٹر کی اضافی فیسوں کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے یا پھر والدین خود ہی بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس عمومی فضا میںکسی سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے سے معیاری تعلیم کی توقع عبث ہے ۔نجی سکولزریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی ابھی تک چھٹیوں کی فیسوں تک محدود ہے اتھارٹی کی جانب سے کسی نجی سکول میں طلبہ کے تعلیمی معیار اور تدریس کے عمل کا معائنہ اور اس حوالے سے اپنی رپورٹ وسفارشات یا کسی سکول کو نوٹس جاری کرنے اور چالان کرنے کی کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ اس ریگولیٹری اتھارٹی کا دائرہ کار کیا ہے اور اس کے ریگولیٹری اختیارات کا حاصل کیا ہے۔ ہماری تجویز ہوگی کہ ریگولیٹری اتھارٹی چند ایک اعلیٰ و اوسط تعلیمی ادارں کے نویں دسویں کے طلبہ کے اردو، مطالعہ پاکستان اور انگلش کی چیک شدہ کاپیوں کا اچانک سکول جاکر جائزہ لے تو ان کو تعلیم کے معیار تدریس اور اساتذہ کی محنت وتوجہ کا باثبوت اندازہ ہوجائے گا۔ایسا کرتے ہوئے کسی سکول کی عمارت اس کے طلبہ کے میٹرک کے نتیجے اور یونیفارم سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں بلا امتیاز جائزہ لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اسی طرح ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی بھی نجی کالجوں اور تعلیمی اداروں ڈپلومہ کروانے والے اداروں میں یہی طریقہ کار اپنائے کیا یہ مذاق سے کم ہے کہ سول ٹیکنالوجی میں تین سالہ ڈپلومہ کرنے والے طالب علموں کو اسی انسٹیٹیوٹ کے اساتذہ چھ ماہ کیلئے سروے کی مزید تربیت حاصل کرنے کے مشورے دیں۔اگر تین سالہ ڈپلومہ میں طالب علم عملی طور پر سروے کرنا سیکھ نہ پائیں یا ان کو سکھایا نہ جائے ڈی آئی ٹی کرنے والے سند فراغت لیکر کسی آپریٹر سے سیکھنے لگیں الیکٹریکل والے الیکٹریشن کی شاگردی کرنے لگیں طبی ڈپلومہ ہولڈر فیلڈ میں جاکر پھر سے کام سیکھنے پر مجبور ہوں تو ان اداروں کو کام کرنے کیوں دیا جارہا ہے ۔کیا اس ساری صورتحال سے حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام لاعلم ہیں اوراگر انہیں اس کا ادراک ہے تو اصلاح احوال کے احتساب کی سعی کیوں نہیں کی جاتی؟کیا ایک سیزن میں کروڑوں روپے بنانے والے تعلیم کے تاجروں کا والدین کے استحصال پر احتساب نہیں ہونا چاہیئے کیا سرکاری وسائل ہڑپ کر کے معصوم طالب علموں کو تعلیم دینے کی ذمہ داریاں نہ نبھانے والوں کا احتساب نہیں ہونا چاہئے۔احتساب صرف سیاستدانوں کا نہیں احتساب ہر اس شخص کا ہونا چاہئے جو قابل احتساب ہو۔

متعلقہ خبریں