Daily Mashriq


سیاسی جماعتوں کی منشور کے بغیر انتخابی مہم

سیاسی جماعتوں کی منشور کے بغیر انتخابی مہم

عام انتخابات 2018 میں کم وبیش ایک ماہ کا عرصہ باقی ہے اس کے باوجود سیاسی جماعتوں کی جانب سے منشور کا عدم اجراء سے بخوبی واضح ہے کہ یہ جماعتیں منشور کو نہ تو اہمیت دیتی ہیں اور نہ ہی وہ منشور پالیسی اور سکیم کی پابندی کرکے ووٹ حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔ مستزاد ان کو منشور سے زیادہ ووٹروں کو دیگر ذرائع سے متوجہ کرنے کی جلدی ہے۔ دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ووٹر اس قدر باشعور بھی نہیں ہوا کہ وہ جماعتی منشور کی اہمیت کو سمجھے اور کسی سیاسی جماعت کے منشور، پروگرام اور سکیم سے متاثر ہوکر اس کو قبول یا مسترد کرکے ووٹ کا استعمال کرے۔ ووٹر کا مزاج اور ماحول جو بھی ہو سیاسی جماعتوں کا یہ رویہ باعث حیرت ہے اب تک کسی سیاسی جماعت کی طرف سے انتخابی منشور کا اعلان نہ کرنے سے عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں ان کی غیر سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتوں کا منشور انتخابی مہم کا انتہائی اہم حصہ سمجھا جاتا ہے جو ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جس میں سیاسی جماعتیں نہ صرف ملک کو درپیش مسائل پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتی ہیں بلکہ ان کے حل کیلئے حکمت عملی ترتیب دیتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے احتراز کی ایک بڑی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ منشور اصل میں انتخابی وعدوں کی شائع شدہ صورت ہوتی ہے جس میں جماعتیں اپنے عزائم، سوچ اور وژن کا اظہار کرتی ہیں، اس کیساتھ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اقتدار ملنے کی صورت میں ان کے اہداف اور محرکات کیا رہیں گے۔ منشور کسی بھی سیاسی جماعت کے احتساب کا بہترین ذریعہ ہے، اصولی طور پر سیاسی جماعتوں کا منشور اتنا جامع ہونا چاہئے کہ اس میں نہ صرف عوام سے کئے گئے وعدے شامل ہوں بلکہ ان کی تکمیل کے حوالے سے حکمت عملی بھی واضح ہو۔ جب سے ملک میں نظریات کی بنیاد پر کی جانیوالی سیاست میں کمی واقع ہوئی ہے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار خود بھی اکثر اپنے انتخابی منشور سے کم ہی آگاہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں منشور کی بنیاد پر اگر کسی جماعت کو کامیابی ملی تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے جبکہ گزشتہ انتخابات میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے نعرے کو پذیرائی ملی۔ دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کو خیبر پختونخوا میں اتحادیوں اور اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے کتاب کے نشان پر انتخاب لڑنے پر صوبے میں حکمرانی کا موقع ملا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اگرچہ انتخابی کامیابیاں حاصل کرنے میں سبقت رکھتی ہے لیکن اس کے ووٹر کوکسی منشور سے جوڑے بغیر اس کے ووٹ بینک کی پائیدار وابستگی قرار دیا جا سکتا ہے، البتہ آمدہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے نعرے اور خاص طور پر یہ تاثر کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو منصوبہ بندی سے نشانہ بنایا جارہا ہے قطع نظر اس تاثر کے درست یا غلط ہونے کے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اداروں کے حوالے سے اختیار کردہ مؤقف اور بیانیہ جہاں ایک طرف ان کیلئے مشکلات کا باعث ہے وہاں اس سے مسلم لیگ (ن) کیلئے ہمدردوں کا ایک ایسا طبقہ پیدا کرنے کا باعث بنتا دکھائی دیتا ہے جو قبل ازیں انتخابی عمل سے لاتعلق رہتے تھے۔ بہرحال ماضی میں ہر سیاسی جماعت کا کوئی نہ کوئی منشور ضرور رہا ہے۔ 1970میں ہونیوالے پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو نے سب سے پہلے روٹی، کپڑا اور مکان کے مقبول نعرے سے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا تھا، اس وقت سے یہ نعرہ پی پی پی کی ہر انتخابی مہم کا حصہ رہا ہے۔2013 کے انتخابات میں پی پی پی نے تعلیم، صحت، روزگار سب کیلئے اور دہشتگردی کے خاتمے کو بھی اپنے منشور میں شامل کرلیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کا منشور، قومی ایجنڈا برائے حقیقی تبدیلی مضبوط معیشت، مضبوط پاکستان تھا۔ اس کیساتھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) گزشتہ انتخابات میں نیا پاکستان، انصاف، امن اور خوشحالی کے نعرے کیساتھ میدان میں اتری تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ انتخابات کے پیش نظر صرف مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے25 جولائی2018 کو ہونیوالے انتخابات کیلئے اپنے منشور کا اعلان کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی، پی پی پی، مسلم لیگ ن سمیت دیگر جماعتیں تاحال منشور پیش نہ کر سکی ہیں۔ اس سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل سیاسی جماعتوں کے منشور آجاتے تھے لیکن اس بار ایسا نہیں ہوسکا ہے۔ الیکشن تو پروگرام کی بنیاد پر ہی لڑا جاتا ہے بغیر پروگرام کے تو انتخاب نہیں رہا پھر لوگوں کے پاس پسند یا ناپسند کی کیا چوائس ہے۔ ان کے پاس تو کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ جب کوئی پروگرام یا ایجنڈہ ہی نہیں تو پھر فیصلہ کس بنیاد پر کریں گے، بس ایک روایتی سیاست ہوگی کہ کچھ لوگوں کو کچھ لوگ پسند ہیں اور انہیں منتخب کر دیا گیا۔ حالیہ انتخابی مہم کے دوران دیکھا جائے تو عمران خان نے لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے وقت دس نکات بتا دئیے لیکن اس پر بحث مباحثہ نہیں ہوا، کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ اس میں خارجہ پالیسی پر تو ایک لفظ نہیں ہے، اس میں ملک کی سکیورٹی پالیسی کیلئے ایک لفظ شامل نہیں، بس کچھ جماعتیں اپنے کارنامے بتا رہی ہوں گی یا دوسروں پر الزامات لگا رہی ہوں گی یہی پاکستانی سیاست کا وتیرہ بن چکا ہے اور انتخابی مہم اسی حد تک محدود اور اسی کے سہارے چل رہی ہوتی ہے۔ اُمیدوار قومی سیاست کے بجائے حلقوں تک محدود رہتے ہیں اگر دیکھا جائے تو اس کی ابتدا جنرل ضیاالحق کے دور حکومت سے ہوئی جب 1985 کے غیر جماعتی انتخابات منعقد کئے گئے۔ ان انتخابات میں جو کامیاب ہوئے انہوں نے حلقوں کی سیاست کرنا شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں قومی اشوز بحث مباحثے سے باہر ہوگئے تب سے یہ ہی رجحانات موجود ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی اسی میں ڈھلتی چلی گئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک سیاسی جماعتیں کسی منشور کی پابند نہیں ہوں گی اور ووٹر سیاسی جماعتوں کے منشور کو وقعت دینا شروع نہیں کریں گے خاص طور پر میڈیا اور سیاسی تنظیمیں اسے ضروری نہیں گردانیں گی، مبصرین اس ضرورت کو اجاگر نہیں کریں گے اس وقت تک روایتی طرز سیاست پر لڑے انتخابات کا نتیجہ روایتی ہی برآمد ہوگا۔ جس سے اصلاح اور تبدیلی کی توقعات کی وابستگی عبث ہوگی۔

متعلقہ خبریں