Daily Mashriq


نیب کی کارکردگی اور عوام کی وابستہ توقعات

نیب کی کارکردگی اور عوام کی وابستہ توقعات

نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا یہ انکشاف قابل توجہ ہونے کیساتھ قابل تحقیق بھی ہے کہ میگا کرپشن کیسز کیخلاف تحقیقات پر نیب ہیڈ کوارٹر کو بارود سے اُڑانے کی دھمکی دی گئی۔ نیب ہیڈ کوارٹر کو بارود سے اُڑانے کی دھمکی بڑا سنجیدہ معاملہ ہے جس کی اعلیٰ سطحی طور پر تحقیقات اور دھمکی دینے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نیب اگر دھمکی دینے والے عناصر کی نشاندہی کرتے تو ابہام دور ہو جاتا۔ اگر دیکھا جائے تو حال ہی میں خیبر پختونخوا میں نیب کیساتھ فرائض انجام دینے والے ایک سپاہی کو پراسرار انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے یہاں تک کہ حساس سکیورٹی زون میں حملہ آور گھس کر سپاہی کو شہید کرنے کے بعد ان کی بندوق بھی لے گئے مگر پولیس اور نیب دونوں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ نیب خیبر پختونخوا میں ایسا کیا حساس مقدمہ آیا ہے یا پھر تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کے انتہائی اقدام کی ضرورت پیش آئی اور وہ کون سے طاقتور ہاتھ تھے جن کے پراسرار اقدام پر چپ سادھ لی گئی۔ اگر نیب حکام اس طرح کا رویہ اختیار کریں گے اور اپنے ہی محافظین کی جان لینے والوں سے بے خبر یا لاتعلقی اختیار کریں گے تو خود ان کے تحفظ کا سوال ہی نہیں اُٹھے گا بلکہ دیگر شکوک وشبہات بھی پیدا ہوں گے۔ جہاں تک چیئرمین نیب کا سیاست سے لاتعلقی کا سوال ہے عملی طور پر شاید ایسا نہیں بلکہ نیب گزشتہ روز ہی ایک ایسے امیدوار کو عین اس کی سیاسی سرگرمیوں کے آغاز کے دن ہی حراست میں لے چکی ہے اس طرح کے واقعات اتفاق ضرور ہوسکتے ہیں مگر سیاسی گرما گرمی کے دنوں میں اس کے دیگر عوامل پر توجہ فطری امر ہوگا۔ نیب اگر سیاسی آلودگی سے دامن بچانا چاہتی ہے تو ان کو ایک ماہ کیلئے اپنی سرگرمیوں کا رخ سیاسی عناصر کی بجائے سرکاری افسران اور غیر سیاسی عناصر کیخلاف موڑنا ہوگا۔ انتخابی عمل کے مکمل ہونے کے بعد نئی حکومت کا قیام عمل میں آجائے اس کے بعد نیب جس بھی سیاسی شخصیت پر ہاتھ ڈالے گی کوئی منفی تاثر پیدا نہیں ہوگا بلکہ اسے سراہا جائے گا۔ عوام کو نیب سے جس کارکردگی کی توقع ہے اس کا عشر عشیر بھی ابھی نظر نہیں آتا، بنا بریں دعوؤں کی بجائے عمل کی راہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو احتساب کا یقین دلایا جا سکے۔

سزا کیساتھ جزا بھی ہونی چاہئے

عیدالفطر پر ہسپتالوں میں غیر حاضر عملے کی تنخواہوں کی کٹوتی اور تادیبی کارروائی احسن اقدام ہے۔ سزا اور جزا کے عمل کے اصول کے تحت اگر تعطیل کے دوران حاضر ہونے والے عملے کو انعام اور تعریفی اسناد دی جائیں تو بے جا نہ ہوگا۔ اس مقصد کیلئے وہ رقم بھی کافی ہوگی جو غیر حاضر عملے کی تنخواہوں سے کاٹی جائے گی۔ عیدالفطر کے موقع پر ہسپتالوں میں عملے کی موجودگی یقینی بنانا یقیناً مشکل امر ہوتا ہے اس موقع پر جو سٹاف حاضر رہا ان کی خدمات کا عملی اعتراف ان کی حوصلہ افزائی کیساتھ آئندہ عملے کیلئے ایک قابل تعریف ترغیب ہوگی جبکہ غیر حاضر سٹاف کی سرزنش سے عملہ کا آئندہ محتاط ہونا فطری امر ہوگا۔ اس امر کا جبکہ فیصلہ کیا جا چکا ہے تو اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے غیر حاضر عملے کو بلاامتیاز سزا دی جانی چاہئے اور آئندہ کیلئے ان کو خاص طور پر اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ ہسپتال کے نظم وضبط کی پابندی کریں اور بوقت ضرورت طلبی پر احتراز کا رویہ نہیں اپنائیں گے، ایسا کرنے کی صورت میں ان کیخلاف خاص طور پر سخت تادیبی کارروائی کا ابھی سے تعین ہونا چاہئے تاکہ اس سلسلے کا تدارک کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں