Daily Mashriq


انتخابی منشور‘ سیاسی پارٹیاں‘ میڈیا اور اہلِ دانش

انتخابی منشور‘ سیاسی پارٹیاں‘ میڈیا اور اہلِ دانش

انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے ۔ انتخابات سے ایک ماہ پہلے اس مہم کا آغاز مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے کراچی سے کیا ہے ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میانوالی سے‘ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے راولپنڈی میں اپنے حلقہ سے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے حلقہ انتخاب سے کیا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ تک تو یہ اکابرین اپنے سیاسی مخالف اکابرین پر ہر طرح کے حملے ہی کرتے رہے اب کہیں جا کر وہ اپنے پارٹی پروگرام کا ذکر بھی کرنے لگے ہیں۔ یہ یاد دلانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ 25جولائی کو ’’عام انتخابات‘‘ ہوں گے جن میں ’’عوام‘‘ آئندہ پانچ سال کیلئے ملک کے سیاسی حکمرانوں کاانتخاب کرینگے۔ اسلئے ووٹروں کو عزت دی جانی چاہیے۔ عزت دینے کا ایک واضح طریقہ یہ ہے کہ ووٹروں کو کسی کی حمایت کے فیصلے تک پہنچنے سے پہلے وہ کوائف مہیا کر دئیے جائیں جو انہیں فیصلہ کرنے کیلئے درکار ہوں گے۔ گزشتہ کئی ماہ سے ہمارے سیاسی اکابرین ووٹروں کو اپنے مدِمقابل سیاسی قائدین کی خرابیوں ہی پر قائل کرتے رہے ہیں۔ یہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین نے ایک دوسرے کیخلاف کیسے کیسے طعنے‘ پھبتیاں اور الزامات ایجاد کیے۔ ا س کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ عوام ساری سیاسی قیادت ہی سے بدظن ہوجائیں اور عوام کو سیاسی قائدین کی صرف خامیاں ہی خامیاں نظر آئیں۔ اب اگر اس منفی روئیے پر اعتبار کیا جائے تو کوئی بھی سیاسی جماعت اس لائق نظر نہیں آئے گی جس پر آئندہ پانچ سال کیلئے اعتماد کیاجا سکے۔اس طرح یہ احتمال قوی ہو جاتا ہے کہ ووٹر پارٹیوں کے قومی پروگراموں کی بجائے امیدواروں کی کسی اورخصوصیت کو ووٹ دیں جبکہ عام انتخابات کو قومی یکجہتی کا آئینہ ہونا چاہیے اب جب عام انتخابات میں ایک مہینہ رہ گیا ہے تب کہیں جا کر سیاسی لیڈروں نے اپنی پارٹیوں کے پروگرام بتانا شروع کیے ہیں وہ بھی مخالفوں پر حملوں کے تڑکے ساتھ۔ اس سے پہلے طریقہ یہ تھا کہ سیاسی پارٹیاں عام انتخابات سے پہلے اپنے منشور جاری کیا کرتی تھیں۔ اس دستاویز سے عوام کو یہ اندازہ ہو جاتا تھا کہ کسی سیاسی پارٹی کی ملک کے مسائل پر کتنی نظر ہے اور ان کے حل کیلئے اس کے پاس کیا تجاویز ہیں اور کیا طریق کار ہے اور اس کیلئے کون سے وسائل شمار کیے گئے ہیں۔ اس بار صرف متحدہ مجلس عمل نے منشور جاری کیا ہے جس کا احیاء چند ہفتے قبل ہوا ہے اور مجلس عمل پرانی نہیں نئی مجلس عمل ہے۔ باقی سیاسی پارٹیوں نے تاحال کوئی منشور جاری نہیں کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کا منشور ابھی طباعت کے مرحلے میں ہے۔ پی ٹی آئی نے بھی کہا ہے کہ اس کا منشور چند روز میں آ جائیگا جبکہ مسلم لیگ ن نے کوئی منشور جاری کرنے کا عندیہ بھی نہیں دیا ہے۔ منشور سے کسی سیاسی پارٹی کے ملکی مسائل کے بارے میں فہم کااندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون سے مسائل کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ اس کے پروگرام کا اندازہ ہوتا ہے جو وہ ان مسائل کے حل کیلئے کیا ترجیحات پیش کرتی ہے۔ اس طریق کار کا اندازہ ہوتا ہے جو سیاسی پارٹی ان مسائل کو حل کرنے کیلئے بروئے کار لانے کا اعلان کرتی ہے۔ منشور عوام سے کسی سیاسی پارٹی کا وعدہ ہوتا ہے اور انتخابات کے بعد عوام اس وعدے کے حوالے سے کسی سیاسی پارٹی کا احتساب کر سکتے ہیں کہ اس نے حکومت میں آ کر یا اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس وعدے کے ایفا کیلئے کیا کیا۔ منشور نہ صرف وعدوں پر مشتمل دستاویز ہوتی ہے بلکہ ا س میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سیاسی پارٹی کس طرح ان وعدوں کو حقیقت میںتبدیل کریگی۔ گزشتہ تیس سال کے دوران سبھی پارٹیاں انتخابات سے پہلے منشور جاری کرتی رہی ہیں ۔ 1970ء کے عام انتخابات اور ان کے بعد پیپلز پارٹی‘ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن بڑے طمطراق سے منشور شائع کیا کرتی تھیں لیکن اس بار منشور جاری کرنے کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ اقتدار میں آ کر اور حزب اختلاف میں جگہ پا کر پارٹیاں اپنے اپنے منشور سے وفا نہ کر سکیں۔ اب کی بار پارٹی منشور پیش کرنے میں تاخیر کا ایک نتیجہ یہ ہو گا کہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو منشور میں کیے گئے وعدے اور ان کے نبھانے کیلئے مجوزہ طریق کار پر بحث کا موقع نہیں ملے گا۔یہ تبھی ممکن ہو گا جب منشور سے یہ واقف ہوں گے کیونکہ عام انتخابات میں ایک مہینہ سے بہت کم وقت رہ گیا ہے ۔ منشور چھپ جائیں گے اور تقسیم بھی ہو جائیں گے لیکن ان پر ووٹروں کی توجہ کم ہو گی۔ مسلم لیگ ن نے تو منشور شائع کرنے کا وعدہ بھی نہیں کیا ہے اور اس کے صدر نے ایک بار پھر چھ ماہ کی مدت کا وعدہ کر دیا ہے جس کے دوران وہ کراچی کا کچرا صاف کر کے دکھائیں گے ۔ اس سے پہلے وہ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ چھ ماہ کی مدت میں ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں ساری انتخابی مہم ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنے اور طعنے دے کر چلائیں گی۔ منشور جاری کرنے سے اجتناب یا اس میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچا کہ وہ دلجمعی سے منشور تیار کر سکیں لیکن یہ میڈیا والوں اور ملک کے اہل دانش کو کیا ہوا کہ وہ بھی اس طرف متوجہ نہیں دیتے کہ سیاسی پارٹیوں کے پاس ملک کے مسائل کا کیا فہم ہے اور وہ ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے کیا نسخہ تجویز کر رہی ہیں۔ یہ سوال ہونے چاہئیں کہ پاکستان غیر ملکی اور ملکی قرضوں سے کس طرح نجات حاصل کر سکے گا اور اس کیلئے سیاسی پارٹیوں کے پاس کیا نسخہ ہے۔ منشیات کی روک تھام کے بارے میں کیا عزائم ہیں۔ مثلاً بجلی کیسے سستی کی جا سکتی ہے انصاف کس طرح سستا اور جلد مل سکتا ہے ۔ مسائل کا تو انبار ہے۔ میڈیا والوں ‘ اہلِ دانش کو سیاسی قائدین کی مدد کیلئے آگے آنا چاہیے تاکہ وہ ان کے مرتب کردہ سوالوں کی روشنی میں عوام کے سامنے ملک کو درپیش مسائل اور ان کا قابلِ عمل حل پیش کر سکیں۔

متعلقہ خبریں