Daily Mashriq


تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

تری آواز مکے اور مدینے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ حالیہ چند ہفتوں سے پانی کی کمی کے نام پر ایک مخصوص لابی نے جو غوغا آرائی شروع کر رکھی ہے وہ اس تلخ حقیقت کو حلق سے اُتارنے پر آمادہ ہوگی بھی یا نہیں، یا پھر جس طرح ایک بار پھر ملک میں پختون قیادت کو ننگی گالیاں دینے اور ان کیلئے غداریوں کے سرٹیفیکٹ تقسیم کرنے کا سلسلہ چلا دیا گیا ہے، اسی سلوک کا مستحق لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو بھی گردانا جائے گا اور ان پر بھی دیگر مختلف قسم کے الزامات کی فہرست میں لفظ غدار کا بھی اضافہ کر دیا جائے گا حالانکہ ان کے کراچی میں انتخابی مہم کے آغاز کے حوالے سے خطاب پر تو راحت اندوری کے الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ

اس نے جس طاق پہ کچھ ٹوٹے دیئے رکھے ہیں

چاند تاروں کو بھی لے جا کے وہیں پر رکھ دو

چھوٹے میاں نے بالآخر وہ کڑوا سچ اگل دیا ہے جسے بڑے صوبے میں ایک عرصے سے شجر ممنوعہ قرار دے کر قبول نہیں کیا جاتا اور وہ سچ یہ ہے کہ ’’کالا باغ ڈیم قومی وحدت کی قیمت پر نہیں بننا چاہئے‘‘۔ اب یقین ہے کہ یا تو اپنے اگلے کسی خطاب، بیان یا پھر میڈیا ٹاک میں محولہ بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر میڈیا پر پیش کرنے کا الزام عاید کریں گے اور صاف مکر جائیں گے یا اگر وہ اس بات پر اڑے رہے تو پھر ان کے صوبے کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ’’دانشور‘‘ اور سیاسی مخالفین ان کیخلاف ایک محاذ بنا کر انہیں بھی انہی غداروں کی صف میں شامل کرنے کیلئے ایک طوفان برپا کر دیں گے جو ان دنوں بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریاؤں کا رخ موڑنے کی خبروں کے بعد ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت آتش زیرپا ہو کر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں پر تابڑ توڑ حملے کرنے اور ان کی ’’لاشوں‘‘ پر بھی ڈیم بنانے کا بیانیہ لیکر محاذ آرائی کر رہے ہیں۔ پشتو میں ایک ضرب المثل ہے کہ پانی ہمیشہ کمزور سمت کا رخ کرتا ہے۔ ملک میں ایک مخصوص لابی انگریزی محاورے By hook or by crook کے مطابق کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر یوں تلی بیٹھی ہے کہ اس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نہ تو آج تک کالاباغ ڈیم بن سکا نہ ہی اس لابی نے بغض معاویہ میں بھاشا یا کوئی اور ڈیم بننے دیا جس سے ہمارا مستقبل محفوظ ہو جاتااورپانی کی کمی کی کوئی شکایت نہ رہتی، مگر یہ مخصوص لابی صرف اور صرف چولستان کی صحرائی اراضی کو جو بڑے صوبے کے بڑے بڑے جاگیرداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں نے اونے پونے داموں ایکڑوں کے ایکڑ خرید رکھی ہے، سیراب کر کے کھرب پتی بننے کا خواب دیکھ رہی ہے اور اس مقصد کیلئے نہ صرف سندھ کو بنجر بنا دینے پر بھی تیار ہے بلکہ خیبر پختونخواکے کئی شہروں کو ڈبونے پر بھی تیار ہے۔ ان کی بلا سے کوئی خشک سالی کا شکار ہوتا ہے یا غرق ہوتا ہے، انہیں صرف صحرائے چولستان کی فکر ہے جس کیلئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر لازمی ہے تاکہ یہ ملک کے پانی پر بھی اپنا کنٹرول قائم کر کے باقی پاکستان کو غلامی کے مزید سخت شکنجوں میں جکڑ سکے حالانکہ اگر پانی اور بجلی کا مسئلہ ہے تو نہ صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر سے یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے تربیلا ڈیم کی زندگی میں مزید 30/20سال کا اضافہ بھی ہو سکتا ہے تاہم جیسا کہ گزارش کی جا چکی ہے کہ پانی کمزور سمت کا رخ کرتا ہے ان کا سارا غلیظ پروپیگنڈہ بھی پختونوں کیخلاف جاری ہے حالانکہ حال ہی میں پیپلز پارٹی کے رہنماء اور قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے علاوہ سندھ کی دیگر لیڈرشپ نے بھی کالاباغ ڈیم کیخلاف موجودہ پروپیگنڈے کا انتہائی سخت الفاظ میں جواب دیا ہے اور سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی بھی کالاباغ ڈیم نہیں بناسکتا مگر جو لوگ پختونوں کو گالیاں دینے، ان کی لاشوں پر ڈیم تعمیر کرنے اور ان کیلئے غداریوں کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی دکانداری میں خاصے اتاؤلے ہو رہے ہیں ان کو سندھ کی سیاسی قیادت کو جواب دینے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی ہے، اس پر حضرت عثمان ہارونیؒ کے الفاظ میں ہی تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ

تو آں قاتل کہ از بہر تماشا خون من ریزی

من آں بسمل کہ زیر خنجر خونخوار می رقصم

پختون سیاسی قیادت کو اگر خیبر پختونخوا کے اضلاع نوشہرہ، صوابی، مردان اور اب تو پشاور بھی شامل ہو چکا ہے (چند برس پہلے سیلاب آنے سے یہ بات واضح ہوچکی ہے) کے ڈوبنے کی فکر لاحق ہے تو سندھ کو پانی سے محروم رکھنے اور پانی کا کنٹرول مکمل طور پر پنجاب کے ہاتھ آجانے کا خوف دامنگیر ہے، تو یہ ان دونوں صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش ہے، اسلئے یہ سودا ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتا، اب تو یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ بھاشا ڈیم کے علاوہ کٹزرہ ڈیم سے ملک کی قسمت سنور سکتی ہے تو کیوں نہ ان منصوبوں پر توجہ دی جاتی بلکہ ان منصوبوں کے علاوہ سوات، دیر، چترال، کاغان میں خود واپڈا کے ماہرین کے مطابق کئی مقامات پر پانی کا بہاؤ اس قدر زیادہ ہے کہ چھوٹی سطح کے پن بجلی کے منصوبوں سے بھی ملکی ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے، تو ان سے آنکھیں بند کر کے تھرکول اور فرنس آئل وغیرہ سے مہنگی بجلی کیوں حاصل کرنے کے منصوبوں پر زور دیا جاتا ہے؟ بہرحال اب تو میاں شہباز شریف کے منہ سے کڑوا سچ برآمد ہو چکا ہے، سو دیکھتے ہیں ان کا کیا حشر کیا جاتا ہے۔ بقول سلیم کوثر

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

یہ بھی تو ہین ہے عدالت کی

متعلقہ خبریں