Daily Mashriq


کر بھلا ہو بھلا

کر بھلا ہو بھلا

قارئین کی تعریفوں پر دل شاد اور تنقید سر آنکھوں پر، بس اتنی سی وضاحت کی ضرورت ہے کہ میرے باقی کالم اور اس کالم میں فرق صرف اتنا ہے کہ باقی کالم میری سوچ اور دانست کی پیداوار ہوتی ہیں لیکن آج کے دن کا یہ کالم قارئین کے مسائل اور ان کی شکایات پر مبنی ہوتا ہے میں اسے صرف تحریر کرتی ہوں اور میری تحریر کا غالب حصہ ملنے والی شکایات ہوتی ہیں اس لئے اپنے ردعمل کے اظہار کیلئے ایس ایم ایس میں اس امر کو ضرور مدنظر رکھیں۔ عید گزر چکی اور ہم اپنے معمولات میں ایک مرتبہ پھر جت گئے ہیں۔ عیدالفطر پر اپنے آبائی علاقوں کو جانے والے بھی لوٹ آئے ہیں، اس مرتبہ کی عید خیبر پختونخوا میں سیاحت کا ایک نیا باب لے آیا۔ سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد خیبر پختونخوا میں پہلی مرتبہ آئی اور اچھی یادیں لیکر اپنے علاقوں کو لوٹ گئی۔ راستے کی مشکلات اور ٹریفک کے مسائل جیسے معاملات سیاحوں کیلئے اب معمول بن چکے ہیں۔ اکثر سیاح تو اس کو بھی انجوائے کرتے ہیں، کچھ کو کوفت بھی ہوتی ہوگی بہرحال خیبر پختونخوا کی طرف سیاحوں کا کھچے چلے آنا اس بات کا مژدہ ہے کہ کے پی کے خوبصورت مقامات اب سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننے لگے ہیں اور رواں موسم گرما کے دوران صوبے میں سیاحت ترقی کریگی۔ کبھی کبھار اس قسم کی شکایات بھی آتی ہیں کہ اس امر کا تعین مشکل ہو جاتا ہے کہ اس شکایت کی حقیقت کیا ہے، شکایت کنندہ اگر کوئی دستاویزی ثبوت اپنی شکایت کیساتھ پیش کرسکے پھر تو پورے شرح صدر کیساتھ اس پر لکھنا ممکن ہوگا لیکن اگر شکایت کی نوعیت ایسی ہو کہ اس کا درست تعین مشکل ہو تو پھر شکایت تک ہی بات ہو سکتی ہے۔

دیر لوئر تیمرگرہ سے واجد خان جو ایم ایس سی ہیں ان کو شکایت ہے کہ انہوں نے ویلج کونسل سکریٹری تالاش دیر کیلئے درخواست دی، میرٹ کے مطابق ملازمت ان کا حق تھا انہوں نے اس ضمن میں میرٹ لسٹ تو نہیں دی البتہ اپنے ہاتھ سے ایک خودساختہ لسٹ جس میں انہوں نے سلیکٹ ہونے والے اُمیدوار کا نام تک لکھنا مناسب نہ سمجھا واٹس ایپ کی ہے۔ اس خودساختہ فہرست کے مطابق سلیکٹ ہونیوالے اُمیدوار جن کی عمر بھی زائد حد سے زیادہ ہے کوسابق وزیر خزانہ مفظر سید ایڈوکیٹ کی سفارش اور دباؤ پر ملازمت دی گئی۔ انہوں نے متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر بلدیات سے رجوع کیا تو کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا، نیب کو درخواست دی مگر جواب ندارد۔ ان کو چاہئے تھا کہ صوبائی محتسب کو بھی درخواست دیں مگر اس کیلئے ان کو کچھ نہ کچھ ثبوت تو دینا ہوگا۔ ان کیلئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ رائٹ ٹو انفارمیشن کے قانون کے تحت درخواست دے کر سرکاری طور پر جواب حاصل کریں اس کے بعد اس کی روشنی میں صوبائی محتسب سے رجوع کریں یا جو بھی متعلقہ فورم ان کو مناسب نظر آئے۔ سرکاری اداروں میں شکایت کا طریقہ کار نہ اپنایا جائے تو شکایت قابل غور نہیں ہوتی۔ ویسے ایک ایم ایس سی نوجوان کا اس آسامی کیلئے درخواست دینا بھی ایک طرح سے ان امیدواروں کی حق تلفی ہے جو کسی بھی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکے ہوں۔ ایم ایس سی نوجوان تو اپنی قابلیت پر کم ازکم کسی اچھے پبلک سکول میں سائنس ٹیچر تو لگ سکتا ہے، این ٹی ایس اور ایٹا ٹیسٹ پاس کر سکتا ہے، پبلک سروس کمیشن اور سی ایس ایس میں قسمت آزمائی کر سکتا ہے۔ ہمت مرداں مدد خدا۔زاہد نے پبی سے پیسکو کے حوالے سے پیغام دیا ہے لیکن اسے درست طریقے سے سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے بہرحال ان کے پیغام کا لب لباب یہ ہے کہ میٹر اتارنے اور بجلی کاٹنے کا کیا فائدہ۔ لوگ واپڈا کے ماتحت عملے کی ملی بھگت سے بجلی چوری کر کے استعمال کرتے ہیں، واپڈا کی بجلی صرف ہوتی ہے مگر بل کی وصولی نہیں ہوتی۔ جب تک اس قسم کی ملی بھگت موجود ہے تب تک بجلی چوری کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ایک قاری نے پیغام دیا ہے کہ عوام سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کریں تاکہ پاکستان کے حالات تبدیل ہو جائیں۔ آپ کا پیغام اور میرے خیالات دونوں اپنی جگہ، لیکن عوام اپنی مرضی سے ووٹ دیں گے ان سے بہرحال اتنی گزارش ضرور ہے کہ وہ حق اور حقدار کا فیصلہ ایمانداری اور اپنے ضمیر کے مطابق کریں، کسی مصلحت اور وابستگیوں کا شکار نہ ہوں۔ میرے خیال میں اگر الیکشن کمیشن ہمت کرے اور بیلٹ پیپر میں ایک خانہ یہ بھی شامل کرے کہ ’’میں کسی کو بھی ووٹ دینا نہیں چاہتا‘‘ تو اس سے ٹرن آؤٹ بھی بہتر ہوگا اور عوام کی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں اور انتخابات کے عمل سے بیزاری کا بھی اندازہ ہوگا۔ میرے خیال میں تو اس فرنگی نظام میں عوام کے مسائل کے حل کی سکت ہی باقی نہیں۔ اگر تسلیم کیا جائے کہ یہ نظام برا تو ہے مگر اتنا برا بھی نہیں تو پھر اس نظام کے تحت آنے والوں نے کوئی ایسی مثال قائم نہیں کی کہ عوام کے مسائل کے حل اور ان کے مشکلات کو دور کرنے کی طرف پیشرفت کی اُمید بھی پیدا ہو۔ میرے خیال میں ہمیں اس نظام کی طرف لوٹنا ہوگا جو ہمارا اصل ہے اور اس طرح کا نظام خلافت قائم کرنا ہوگا جو خلفائے راشدین کے دور میں تھا۔ ایسا ہونا ممکن ہے یا نہیں لیکن ایسا سوچنا ضرور چاہئے۔ اس فرسودہ نظام میں جہاں مالک حقیقی سے بغاوت اور مخلوق کی اطاعت مروج ہے اس نظام میں کسی حقدار کو اس کا حق ملے مولا دے تو دے کسی مولوی، کسی پیر فقیر، امیر کبیر اور کسی حقیر بلکہ کسی سے بھی اچھائی کی توقع نہیں۔ بہرحال پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ۔ دیکھتے ہیں اس بار اقتدار کس مداری کی پٹوری میں جاگرتا ہے اور اس کا جھوٹ سچ کس حد تک سامنے آتا ہے۔ خیر کی توقع نہ بھی ہو تو خیر کی توقع رکھنا چاہئے، اُمید پر دنیا قائم ہے۔ تبدیلی مشکل ضرور ہے مگر کبھی کبھار یہ راتوں رات بھی آتی ہے۔ مالک کائنات بھی انسان کیساتھ اس کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہے۔ اچھے انسان بدگمان ہونے کے باوجود اچھا گمان رکھتے ہیں اور اچھائی کو اختیار کرنے کی کوشش کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں