Daily Mashriq


پاکستانی سیاست ایک جائزہ

پاکستانی سیاست ایک جائزہ

اس بات میں شک نہیں کہ پاکستانی قوم میں بڑی خوبیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض خوبیوں اور صفات کے لحاظ سے دنیا کی بہت کم اقوام ہمارا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں پاکستانی افرادی قوت لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں اور وہاں پر قیام کے دوران ان ملکوں میں آفات، مشکلات، سیلاب، زلزلوں اور طوفان کے دوران پاکستانیوں نے جان پر کھیل کر لوگوں کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ، کینیڈا سے سعودی عرب اور امارات تک اس کی مثالیں موجوہیں۔ امانت اور صداقت کی بعض ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ غیر ملکیوں سے داد وصول کرکے وطن عزیز کا نام بلند کیا ہے۔ اسی طرح ان پاکستانیوں نے محنت ومشقت کے ذریعے زندگی کے مختلف شعبوں میں بالخصوص تجارت اور طب وتعلیم کے میدان میں بڑی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہی وہ پاکستانی ہیں جو پردیس میں سخت حالات کا مقابلہ کر تے ہوئے وطن عزیز کیلئے قیمتی زرمبادلہ بھی کماتے ہیں۔ خود پاکستان کے اندر قیام پاکستان کے بعد اخوت، اتحاد، محنت وایثار کا مظاہرہ کر کے کٹھن حالات میں چار عشروں کے اندر اندر پاکستان کو ایٹمی طاقتون کی صف میں شامل کرا لیا۔ صنعت وحرفت بالخصوص ٹیکسٹائل، چمڑے اور کھیلوں وآلات جراحی میں تو بین الاقوامی معیار کا مقابلہ کیا لیکن پھر ہمارے ہاں کے نظام حکومت نے ہمارے قدم روک لئے اور رفتار سست پڑ گئی بلکہ ایک لحاظ سے نکما کر دیا۔

جمہوریت کو ابھی عوام نے دیکھا بھی نہیں تھا کہ مارشل لاء اور پھر کنٹرولڈ ڈیموکریسی نے قدم جما لئے۔ خدا خدا کر کے 1970ء کے انتخابات ہوئے لیکن ان انتخابات نے قومی وجود دو لخت کرتے ہوئے ایسا داغ دیا کہ تاریخ میں رقم ہوگیا۔ مغرب نے بڑے تجربات، قربانیوں اور مطلق العنان بادشاہتوں اور پاپائیت سے نجات حاصل کر کے لادین جمہوری نظام اپنے لئے متبادل کے طور پر اختیار کر لیا۔ وہاں ان کے سیاسی سائنسدانوں، فلاسفروں، دانشوروں اور تعلیم وتعلم کے طفیل لوگوں میں سیاسی شعور پروان چڑھا اور تقریباً ہر ملک میں کم وبیش دو تین سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں۔ وہاں کی سیاسی جماعتوں میں اپنے منشورات میں عوام کیلئے زیادہ حقوق اور سہولتیں فراہم کرنے اور بہم پہنچانے میں مقابلہ ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر لوگوں کو ووٹ دینے کیلئے متوجہ کرتے ہیں۔ عوام دونوں کو آزماتے رہتے ہیں اور یوں وہاں جمہوریت کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے رواں دواں رہتا ہے۔

لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ کہنے کو تو ہم جمہوریت کے بڑے دلدادہ ہیں اور ملک میں اس نظام کو رائج کرنے کیلئے ہماری سیاسی جماعتیں بڑی قربانیاں دینے کی بھی دعویدار ہیں لیکن یقین جانئے کہ ہماری سرزمین، جغرافیہ، معاشرتی وسماجی حالات اور معاشرتی رابطے اور بندھن مغربی لادینی جمہوریت کیلئے سازگار ومؤید ہیں اور نہ ہی ہماری تاریخی وراثت میں اس جمہوریت کی جس میں صرف بندے گنے جاتے ہیں، کوئی گنجائش ہے، ہمارے عوام کے اذہان کے پس منظر میں کہیں دور سہی لیکن نظام خلافت کی پرچھائیں موجود ہیں۔ لہٰذا وہ بامر مجبوری مغربی جمہوریت میں حصہ تو لیتے ہیں لیکن ساتھ یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ بیلٹ پیپر میں ایک خانہ ایسا بھی ہونا چاہئے کہ کوئی مقابلے میں موجود کسی اُمیدوار کو ووٹ نہ دینا چاہے تو اس پر نشان لگائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو ہماری سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی تعلیم وتربیت کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی جاگیر دارانہ، سرمایہ دارانہ معاشرہ جمہوری نظام کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اکابرین یعنی چیئر مین، صدور اور سیکرٹریز وغیرہ سب وراثت کے ذریعے اپنے باپ دادا کی سیاسی گدی نشین ہوتے ہیں۔ ان کے مزاج میں دور دور تک کسی غریب، عام آدمی کو اپنے برابر بیٹھنے یا سمجھنے کی صلاحیت موجود ہی نہیں ہوتی۔ بھلا جاگیردار، ارب پتی، وڈیرے، خان، سردار اور دوسری طرف مذہبی اکابرین پیروں، مخدوموں، سجادہ نشنیوں کی صف ہے جن کے عوام جوتے چومنے کے عادی بنائے گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر سوائے ایک آدھ جماعت کے دور دور تک کہیں بھی صحیح انتخابات نہیں ہوتے۔ لہٰذا عام آدمی خواہ کتنا ہی ذہین، مخلص اور ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو وہ اوپر آہی نہیں سکتا۔ ابھی جائے تو الیکشن لڑنے کیلئے کم ازکم کروڑ ڈیڑھ کروڑ روپے کہاں سے لائیگا۔ ایک اور ستم ظریفی جو دکھاوے اور منافقت کی حد ہے کہ ٹی وی چینلوں پر یہ سیاستدان آپس میں لڑبڑ کر قوم کو گروہوں، جماعتوں اور ٹولیوں میں تقسیم کئے رکھتے ہیں لیکن اندرون خانہ سب ایک ہیں اور ایک دوسرے کی خوب مدد کر کے مشکلیں آسان کرتے رہتے ہیں۔ شاید اب وقت کی ضرورت ہے کہ ملک میں چار پانچ بڑی سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان ایسے قوانین سختی کیساتھ لاگو کروائیں کہ سیاسی جلسوں اور چینلز پر سیاستدان ایک دوسرے پر بے ہودہ الزامات لگانے کے بجائے اپنا آئندہ کا منشور ولائحہ عمل پیش کریں گے اور جو جماعت جیت جائے باقی سب اس کی ملکی تعمیر میں ہاتھ بٹائیں گے ورنہ اس کی خلاف ورزی کرنیوالی سیاسی جماعتوں پر جرمانے عائد کئے جائیں۔ ہاں اگر حزب اقتدار آئین پاکستان اور اپنے منشور کی خلاف وزری کی مرتکب ہوتی ہے تو سب مل کر اس کا راستہ روکیں یہی جمہوریت کی روح ہے جس کی طرف قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ’’نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور برے کاموں میں نہیں‘‘۔

متعلقہ خبریں