Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

قزوینیؒ نے ایک واقعہ نقل کیاہے کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ گبریلا کو دیکھ کر کہا کہ خدا تعالیٰ نے اس کیڑے کو کس وجہ سے پیدا کیاہے۔ کیا اس کی خوبصورتی یا اس کی خوشبو اس کے پیدا کرنے کی وجہ سے ہے ( یہ اس شخص نے اعتراض کے طور پر کہا تھا یعنی نعوذ باللہ یہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض تھا) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک زخم میں مبتلا کردیا جو اس قدر شدید تھا کہ اطباء اس کے علاج سے عاجز ہوگئے اور اس شخص نے بھی تنگ آکر علاج ترک کردیا اور اپنے گھر میں محصور ہو کر رہ گیا۔ اتفاقاً ایک دن اس نے ایک طبیب کی آواز سنی جو باہر گلیوں اور سڑکوں پر آواز لگاتا تھا اور لوگوں کاعلاج کرتا تھا۔ اس نے اپنے گھر والوںسے کہا کہ اس آواز لگانے والے طبیب کو بلاکر لائو اور میرا زخم اسے دکھائو۔ گھر والوں نے کہا کہ تم نے ماہر سے ماہر طبیب سے علاج کرالیا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ بھلا یہ سڑکوں پر آواز لگانے والا طبیب تمہاراکیا علاج کرے گا۔ اس شخص نے کہا اس میں تمہارا کیا نقصان ہے کہ اگر ایک نظر وہ دیکھ لے۔ چنانچہ لا جواب ہو کر گھر والوں نے طبیب کو بلایا اور اس کا زخم دکھلایا۔ طبیب نے زخم دیکھ کر کہا کہ ایک گبریلا لائو۔ اس پر تمام گھر والے ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ اناڑی طبیب کیا علاج کرے گا لیکن مریض کو گبریلا کا نام سن کر اپنا وہ مقولہ یاد آگیا جو اس نے ایک بار کہا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جو کچھ حکیم صاحب نے طلب فرمایا وہ ان کو ضرور لا کر دو۔ چنانچہ گھر والوں نے کہیںسے ایک گبریلا لا کر حکیم صاحب کو دے دیا۔ حکیم صاحب نے اس گبریلا کو جلاکر اس کی راکھ زخم پر چھڑک دی۔ اللہ کے حکم سے زخم اچھا ہوگیا۔ اس کے بعد مریض نے حاضرین سے اپنا قصہ بیان کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کو مجھے یہ دکھلانا مقصود تھا کہ اس کی حقیر سے حقیر مخلوق بھی بڑی سے بڑی دوا کا کام دے سکتی ہے اور یہ کہ خداجل شانہ نے کوئی چیز بے کار پیدا نہیں کی۔

گبریلا کے بارے میں علامہ ابن خلکانؒ نے جعفر ابن یحییٰ برمکی (وزیر ہارون رشید) کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ اس کے پاس ابو عبیدہ شقفی بیٹھے ہوئے تھے تو اتنے میں ایک گبریلا نکل آیا۔ جعفر نے غلاموں سے اس کو ہٹانے کا حکم دیا۔ اس پر ابو عبیدہ نے کہا کہ چھوڑو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی خیر مقدر ہو۔ کیونکہ اہل عرب کا یہ گمان ہے کہ جب گبریلا قریب آتا ہے تو کوئی خیر ضرور آتی ہے۔ اس پر جعفر نے ابو عبیدہ کو ایک ہزار دینار دینے کا حکم دیا تو وہ ابو عبید کی طرف بڑھنے لگا۔ اس پر جعفر نے پھر ایک ہزار دینار ابو عبید کو دینے کا حکم دیا۔ (حیات الحیوان جلد دوم)

کارخانہ قدرت میںاللہ نے کوئی بھی چیز بے مقصد و بے مصرف پیدا نہیں کی سب کی اپنی جگہ اہمیت اور وقعت ہے۔ ایک معمولی ذرہ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اگر کوئی اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو حقیر سمجھتاہے تو وہ غرور و تکبر کا اظہار کرتا اور غرور اللہ کو پسند نہیں۔ غرور کا انجام براہی ہوتاہے۔

متعلقہ خبریں