Daily Mashriq

سعودی اتحاد کا حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ ویب

سعودی اتحاد کا حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ ویب

سعودی اتحاد نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے میں حوثی باغیوں کا ایک اور ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں عرب اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ شب ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے خمیس مشیط کی رہائشی آبادی کے علاقے میں ڈرون حملہ کیا۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی باغیوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم ان کے حملے کو ناکام بنایا گیا۔

قيادة القوات المشتركة للتحالف "تحالف دعم الشرعية في اليمن" : قوات الدفاع الجوي الملكي السعودي تعترض وتسقط طائرة مسيرة معادية أطلقتها المليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه منطقة سكنية بخميس کرنل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ ’ہم ان دہشت گرد افواج کے خلاف جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور عالمی انسانی قوانین کے مطابق حوثی باغیوں کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا‘۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کا حملہ، ایک شہری جاں بحق

دو روز قبل سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں ابھا ایئرپورٹ میں یمن کے حوثی باغیوں کے ایک حملے میں شامی باشندہ جاں بحق اور دیگر 21 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ 12 جون کو بھی حوثی باغیوں کی جانب سے ابھا ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا تھا جہاں 26 شہری زخمی ہوئے تھے جس کے بعد سعودی اتحادیوں نے ان کارروائیوں کے خلاف انتہائی اقدام کا اعلان کیا تھا۔

سعودی اتحادیوں کا کہنا تھا کہ یمنی باغیوں نے ابھا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا اور احاطے میں قائم مکڈونلڈ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور 18 گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔

حوثی باغیوں نے سعودی ایئرپورٹ پر حملہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے جہاں ایران نے امریکی ڈرون کو گرایا تھا جس کے بعد میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ امریکی نے ایران پر سائبر حملے کیے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا کی جانب سے گزشتہ روز ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران کی عدم استحکام کی سرگرمیوں سے خطے کی صورت حال میں کشیدگی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

سعودی عرب مسلسل ایران پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے لیکن ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

یمن میں 2015 میں حوثی باغیوں کی جانب سے صدر عبدالرب منصور ہادی کے خلاف بغاوت کے بعد سعودی اتحادیوں نے مداخلت کی تھی اور سرحد کو بھی بند کردیا تھا۔

بعد ازاں اتحادیوں نے یمن پر بدترین فضائی حملے بھی کیے تھے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے یمن میں انسانی بحران پیدا ہونے سے بھی خبردار کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں