Daily Mashriq

’پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پیکج پر کوئی اضافی امریکی شرائط نہیں‘

’پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پیکج پر کوئی اضافی امریکی شرائط نہیں‘

واشنگٹن: امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان کے مطابق امریکا نے پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کو حتمی شکل دینے کے لیے کوئی خاص شرائط عائد نہیں کیں۔

واشنگٹن میں کانگریس کے حالیہ اجلاس میں ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی تک آئی ایم ایف قرض روکنے کے امکان کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کی تلاش میں سی آئی اے کی مدد کی تھی۔

واشنگٹن تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ میں نے اس مقصد کے لیے امریکا کی طرف سے کوئی خاص شرائط کے بارے میں سنا ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اب تک ایک تکنیکی عمل ہے اور آئی ایم ایف اہلکار اس کو دیکھ رہے ہیں‘۔

دوسری جانب کانگریس رکن کی جانب سے اس امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے جوڑنے کے مشورے پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوب اور وسطی ایشائی امور کو دیکھنے والی ایلس جی ویلز کا کہنا تھا کہ ’ان کی قید کے نتیجے میں ہم نے پہلے ہی پاکستان کی 13 کروڑ ڈالر کی امداد روکی ہوئی ہے‘۔

تاہم کانگریس کے حالیہ اجلاس میں جب قانون سازوں کی جانب سے قرض پیکج پر اضافی شرائط عائد کرنے کا کہا گیا تو ایلس ویلز نے یاد دہانی کراوئی کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدے سے قبل ہی امریکا اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرچکا تھا۔

اس سے قبل ایک انٹرویو میں امریکی سیکریٹری مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان آئی ایم ایف قرض کو چین کے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کرے، جس کے بعد سے پاکستان اور چینی دونوں حکام نے اس بات کو واضح کیا تھا کہ جب چین کو ادائیگی کا عمل شروع ہوگا تو اسلام آباد ان فنڈز کو استعمال کرسکتا ہے جو وہ ساختی اصلاحات کے لیے وصول کر رہا ہے۔

ادھر پاکستانی سفارتخانے میں رواں ہفتے ایک مباحثے کے دوران امریکی اسکالر جیور پرکووچ نے پاکستان کے سفیر سے پوچھا کہ اگر امریکا آئی ایم ایف پیکج پر اضافی شرائط عائد کردے اور اگر یہ پہلے تجویز کی گئی شرائط سے مختلف ہوں تو اس پر اسد مجید خان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف کا اپنا بورڈ، اپنی تکنیکی ٹیم اور مشن ہے جو لوگوں سے روابط کے لیے ملک بھر میں جاتا ہے اور پیکج کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے‘۔

متعلقہ خبریں