یکساں احتساب ضروری ہے

یکساں احتساب ضروری ہے

چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ سیاستدانوں' جرنیلوں' ججوں اور تمام اداروں کے لئے ایک ہی قانون ہونا چاہئے۔ سیاستدانوں اور دوسرے طبقوں کے احتساب کے لئے الگ نظام نہیں ہوسکتا۔ گزشتہ روز بحریہ یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین سینٹ نے کہا کہ پاکستان میں بد قسمتی سے جو ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوتا۔ جمہوری حکومت میں آئین پر بات ہوتی ہے' پاکستان کو جس مقصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور جس مقصد کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگرنے جدوجہد کی آج وہ تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نصاب میں جمہوری حکومت کے فوائد میں 8دلیلیں جبکہ فوجی مارشل لاء کے حق میں گیارہ دلیلیں پڑھائی جا رہی ہیں۔ یقین دلاتا ہوں کہ طلبہ تنظیمیں جلد بحال ہوں گی۔ جہاں تک چیئر مین سینٹ کے خیالات کا تعلق ہے اصولی طور پر ان سے اختلاف کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی اور اصولی طور پر انہیں تسلیم کئے بناء کوئی چارہ نہیں ہے اور واقعی یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے پاکستان کا قیام اس لئے ممکن نہیں بنایا تھا کہ بعد میں یہاں آمریت قائم کرکے جمہوریت کی بیخ کنی کی جائے۔ تاہم کیا سیاسی رہنمائوں سے یہ سادہ سا سوال نہیں کیا جاسکتا کہ اگر کسی فوجی طالع آزما نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمریت قائم کی تو اس کا ساتھ دینے والوں میں خود سیاستدان ہی آگے آکر ملک میںآمرانہ مہ و سال کی طوالت کاباعث بنے رہے۔وہ کون تھے جو محلاتی سازشوں کے ذریعے ایک دوسرے کی حکومتیں گراتے رہے اور بھارتی وزیر اعظم آنجہانی پنڈت نہرو کو ہم پر پھبتی کسنے کا موقع ملا کہ اتنی جلدی میں اپنی دھوتی تبدیل نہیں کرتا جتنی جلدی پاکستان میں حکومت تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس لئے اگرآمرانہ ادوار میں سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی سعی کی گئی تو اس کی ذمہ داری صرف مارشل لاء حکومتوں پر عائد نہیں کی جاسکتی اور تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے کے مصداق دونوں طبقوں کو برابر کا ذمہ دار گردانا جاسکتا ہے۔ جہاں تک احتساب کا تعلق ہے یقینا اس حوالے سے کسی بھی خاص طبقے کو خصوصی روئیے کا مستحق نہیں گردانا جاسکتا اور خواہ سیاستدان ہو ، جج ، جرنیل یا پھر دوسرے طبقات سب کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیئے اگر ہر طبقے کیلئے الگ الگ قانون کا اطلاق کیا جائے تو یہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلامی قوانین کے خلاف ہوگا ۔ میاں رضاربانی نے نصاب میں آمریت اور جمہوریت کے حق میں دلائل کی جو بات کی ہے یہ بھی حیرت کا باعث ہوناچاہیئے اس لیے کہ بانی پاکستان نے پاکستان کو جمہوری طریقے سے حاصل کیا تھا اور یہاں جمہوریت کے فروغ کا عزم کر رکھا تھا مگر ان کی رحلت کے بعد اس ملک کے ساتھ سیاستدانوں اور بعض طالع آزمائو ں نے مل کر جو حشر روا رکھا یہ بانی پاکستان کی سوچ اور تعلیمات کے بالکل برعکس تھا لیکن اس مقام تک ہم کیونکر پہنچے اس پر ہمیں ضرور غور کرنا چاہیئے۔
اقتصادی سر گرمیوں کا مثبت اعشاریہ
سٹیٹ بنک نے نئی مانیٹری پالیسی کے حوالے سے جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس کے مطابق سی پیک ۔ توانائی کی بہترترسیل ، کم قیمت پیداواری خام مال نمو بہتری کر رہی ہے ، زرعی اور بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار بہتر ہورہی ہے ،لیکن آمدنی میں اضافے کی وجہ سے پیداواری طلب بڑھ رہی ہے ، اس صورتحال کے باوجود 2017ء میں معاشی نمومزید بہتر ہونے کی توقع ہے علاوہ ازیں سٹیٹ بنک کے بیان میں معاشی سرگرمیوںمیں ہونے والے اضافے کے سبب درآمدات میں اضافے کا بھی ذکر کیا ہے ۔جس کے نتیجے میں اکائونٹ کا خسارہ ساڑھے پانچ ارب ڈالر ہو گیا ہے ، حقیقی اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار بدستور بڑ ھ رہی ہے۔ تاہم مالی رقوم کی آمد کے تسلسل ، سی پیک سے متعلق درآمدات اور تیل کے عالمی نرخ میں کوئی بڑا اتار چڑھائو ہی مالی سال 18ء میں بیرونی شعبے کی مجموعی صورتحال کا درست تعین کرے گا ۔ اسٹیٹ بنک کی جاری کردہ نئی مانیٹری پالیسی کے مندرجات یقینا ملکی معیشت کے حوالے سے حوصلہ افزاء ہیں ۔ اگر چہ اس ضمن میں جاری کردہ اعشاریہ ملا جلا ہے اور اگر ہمیں ملکی معیشت کی نمو میں اضافے کی نوید دی گئی ہے تو کہیں مالی خسارے کی جانب بھی اشارہ مل رہا ہے ، تاہم مجموعی طور پر اسے بہتر قرار دیا جا سکتا ہے اور امید ہے کہ اگر بہتر اقتصادی پالیسیاں اختیار کی گئیں تو اگلے سال اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ممکن ہوسکے گا البتہ حقیقی صورتحال کیا ہے اس بارے میں ماہرین معیشت ہی کوئی حتمی رائے قائم کر سکتے ہیں جبکہ تیل کے عالمی نرخوں میں اتار چڑھائو کی جو بات کی گئی ہے اس بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ تیل کے نرخوں میں اضافے کا تو عوام پر اثرپڑتا ہے مگر عالمی سطح پر قیمتیں کم ہونے کا عوام کو حقیقی فائدہ پہنچانے کا حکومت نے کبھی درست فیصلہ نہیں کیا ۔

اداریہ