Daily Mashriq


ایک کامیاب تجربہ

ایک کامیاب تجربہ

پاکستان دنیا کے ان ٹاپ ٹین ملکوں میں شمارہوتا ہے جہاں کھانے کا تیل بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ، کیونکہ ہم سب تلی ہوئی اشیاء یعنی روسٹ اور ڈیپ فرائڈ کے رسیاہیں ۔ کڑاہی میں گوشت ، مچھلی ، چکن جب تک روسٹ نہ ہوں تب تک ہمارے منہ کے ذائقے کی تسلی نہیں ہوتی ۔ مٹھائیاں اس کے علاوہ ہیں جن کے کھانے کے لئے ہم بہانے ڈھونڈتے ہیں ۔ عیدین پر تو مٹھائی کھانا کھلانا فرض کے درجے تک پہنچ گیا ہے ۔ ملتان ، کراچی اور ڈی آئی خان اور بنوں وغیرہ کے حلوہ جات تو پاکستان بھر میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔ ان اشیاء میں کون سا تیل استعمال ہوتا ہے اور کہاں سے آتا ہے ، یہ بہت لمبی کہانی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پاکستان اپنی ضرورت کا اسی فیصد تیل باہر سے منگواتا ہے جس پر نہ صرف کثیر زرمبادلہ ( ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً تین بلین ڈالر ) خرچ ہوتا ہے بلکہ ہمیں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار شدہ تیل بھی بہت کم ملتا ہے اور اگر کہیں سے کوئی مناسب مال آبھی جائے تو پاکستان میں زرو زمین کے پجاری اُس کو ملاوٹ کے ذریعے اُس درجہ پر پہنچا دیتے ہیں جو کسی صورت بھی صحت کے لئے مناسب نہیں رہتا لیکن کوئی بھی شاید اس کا پرسان حال نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آپ کسی بھی امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر کے پاس جائیں تو دل کے مرض کی سب سے بڑی وجہ منشیات اور خراب کھانے کے تیل کا استعمال بتائے گا ۔ اس کے علاوہ بھی اگر کہیں تیل استعمال کے قابل بھی ملے تب تیل کا کھانوں میں زیادہ استعمال کسی بھی صورت مفید نہیں بن سکتا ۔ پاکستان میں عوام کی بگڑی صحت میں خراب اور غیر معیاری کھانے کے تیل کے استعمال کا بہت بڑا کردار ہے ۔ یورپ اور امریکہ والے بعض معاملات میں کمال کرتے ہیں ۔ اُن کے اطباء اور سائنس دانوں کو جب تیل کے زیادہ استعمال کے نقصانات معلوم ہوئے تو ایک طرف انہوں نے کھانے کے تیل کے معیارکو اعلیٰ سے اعلیٰ تر بنانے پر اپنی توجہ مرکوزکی اور دوسری طرف بہترین تیل پیدا کرنے کے لئے زرعی میدان میں تخلیقات کے وہ کارنامے سر انجام دیئے کہ دنیا دنگ رہ گئی ۔ جینٹک سائنس کے ذریعے مختلف شعبہ ہائے زراعت بالخصوص اجناس کی اچھی اور زیادہ پیداوار میں تو معجزے بر پا ہوئے ۔ اور اس سلسلے میں بعض ایسے پودے اور فصلیں اُنہوں نے اُگائیں جن کے لئے اُن کی سرزمین اور آب وہوا زیادہ موزونیت بھی نہیں رکھتی تھیں ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے عبدالرحمن اول نے دمشق سے کھجور کا پودا منگوا کر قصر الزھراء میں لگوایا تھا اور جب وہ پروان چڑھا تو اُس کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ ایسے دلسوز اشعار کہے کہ علامہ محمد اقبال نے اُس کا ترجمہ کچھ یوں کیا ۔ 

میری آنکھوں کا نور ہے تو

میرے دل کا سرور ہے تو

مغرب کی ہوانے پالا تجھ کو

صحرائے عرب کی حور ہے تو

سرسوں وہ پودا ہے جس کا آبائی وطن ہندوستان ، پاکستان اور ایران ہے ۔ کسی زمانے میں ان ملکوں کی وسیع وعریض زمینوں پر فروری اور مارچ کے مہینوں میں زرد چادر ایسی پھیل جاتی جیسے کسی دلہن نے خاکی اور سبز زمین کے کپڑے پر زرد ریشم کی گوٹا کناری اور خو بصو ر ت ڈیزائن کی کشید ہ کاری کی ہو ۔ اور جب سرسوں ہمارے کھیتوں میں اُگتا تھا ، تب اس کا ہمارے معا شرے کے افراد کی صحبتوں پر بہت خوشگوار اثر ہوتا تھا ۔ سرسوں کا روایتی ساگ اور اس کے تیل میں پکے ہوئے پکوانوں کی خوشبو باذوق لوگوں کی مشام جان کا سامان کرنے کا باعث بنتے تھے ۔ اُس زمانے میں زمینداروں کے گھروں میں چکی اوربیلن ہوتے جس کے ذریعے گھروں ہی میں اپریل میں سرسوں کی کٹائی کرکے مئی میں اس کا بیج بیلنوں میں ڈال کر تیل حاصل کرنے کا انتظام کیا جاتا ۔ لیکن پھر مادہ پرستی ، کاہلی اور کیش کراپس (نقد آور فصلوں ) کی ہوا ایسی چلی کہ سرسوں کی جگہ تمباکو ، گنے اور گندم وغیرہ نے لے لی۔ خود دار قوموں کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے وسائل پر انحصار کرتی ہیں اور اپنے وسائل بڑھانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کرتی ہیں ورنہ پھر وہ روکھی سوکھی پر گزارہ کرتی ہیں لیکن قرض کی مے سے گریز کرتی ہیں۔ پختون قوم کسی زمانے میں مانگے کی دوائی بھی نہیں لیتی تھی۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ بڑے عرصے بعد پختونخوا کے تاریخی تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کو نہ صرف ایک ملنسار استاد اور منتظم ملا بلکہ ایک ایسا سائنسدان بھی میسر آیا جس کی برسوں کی تحقیقی کاوشوں کا ثمرہ حسنین 2013ء (سرسوں کا بیج) کی صورت میں قوم کے سامنے آیا۔ حسنین کس طرح جینٹک سائنس کے مختلف مراحل سے لیبارٹریوں اور تجربہ گاہوں سے گزر کر مردان کے ترقی پسند زمیندار جناب غفار خان مہمند کے دل و دماغ کی طرح وسیع و عریض کھیت میں پہنچا۔ اس کے پیچھے جس شخصیت کی شب و روز کی محنت شاقہ شامل ہے اس کا نام پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد ہے جو اس وقت حسنین 2013 کو پاکستان بھر میں زراعت کے حوالے سے قائم متعلقہ اداروں نے تسلیم کرکے زمینداروں کے حوالے کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ڈاکٹر حبیب احمد پختونخوا کے اس تاریخی علمی ادارے کو بھی تحقیق و تخلیق کی راہ پر ڈالنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ ہم ان کی کامیابیوں کے لئے دعا گو رہیں گے۔

متعلقہ خبریں