Daily Mashriq


گزر چکا ہے تیرے اعتبار کا موسم

گزر چکا ہے تیرے اعتبار کا موسم

سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کرنے والے ویزے لیکر نہیں آئے تھے ، دراصل وہ پیپلز پارٹی دور کے امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر حسین حقانی کے حوالے سے ان دنوں پیپلز پارٹی پر ہونے والی تنقید کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوںنے کہا کہ حسین حقانی کو سپیشل امریکی فورسز کو ویزہ جاری کرنے کا اختیار نہیں دیا جبکہ ایبٹ آبادآپریشن میں حصہ لینے والی امریکی فورسز ویزہ لے کر نہیں آئیں ، امریکی شہریوں کو ضابطے کے تحت ویزوں کے اجراء کی ہدایت کی ۔ اس پر اس سردار جی کا واقعہ یا د آگیا جو کسی شادی والے گھر کے باہر پہرہ دینے کھڑا تھا ، ایک مفلوک الحال شخص کا وہاں سے گزر ہوا ۔ اندر سے انواع واقسام کے کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو ئیں اس کی بھوک کی چمک کو اور مہمیز دے رہی تھیں ، اپنی بھوک سے مغلوب ہو کر وہ شخص آگے بڑھا اور سردارجی سے پوچھا کیا میں اندر جا سکتا ہوں ؟ سردار جی نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اورر عونت سے کہا ، نہیں ، جائو یہاں سے ہٹ جائو ،۔۔۔۔وہ شخص ایک جانب کھڑا ہو کر اندر جانے والوں کو حسرت سے دیکھ رہا تھا ، لوگ آتے اور اندر چلے جاتے ، جب وہ شخص بھوک سے بہت ہی مجبور ہوا ، تو ایک بار پھر آگے آیا اور سردار جی سے کہا ، یہ جو لوگ اندر جا رہے ہیں انہیں تو تم نہیں روکتے تو مجھے اندر جانے سے کیوں منع کر رہے ہو ؟ سردار جی نے سادگی سے جواب دیا ،'' اے میرے کو لوں پچھ کے تھوڑی اندر جارئے نیں ''۔ یعنی یہ مجھ سے پوچھ کر کہاں اندر جارہے ہیں ۔ 

خاموش کر دیا ہے چمن بولتا ہوا

اک باغبان کے بڑھتے ہو ئے اختیار نے

ویسے تو یوسف رضا گیلانی کی بات بالکل درست اور اس سردار جی کے رویئے کے عین مطابق ہے جس نے پوچھ کر اندر جا کر بھوک مٹانے والے کو روک کر اختیار کیا تھا ، اس لیے جن امریکیوں نے ایبٹ آباد آپریشن کیلئے کسی ویزے کے حصول کی زحمت نہیں اُٹھائی ان کی ذمہ داری پیپلز پارٹی کی حکومت پر عاید نہیں کی جاسکتی بلکہ اس حوالے سے جنہوں نے اپنی ذمہ داری پوری طرح نہیں نبھائی انہیں قصور وار ٹھہرایا جانا چاہیئے ، لیکن اسے کیا کہا جائے کہ امریکی ہیلی کاپٹرز کے اند رایسا سسٹم ضرور نصب ہوگا جس کی وجہ سے یا تو وہ ہمارا ریڈار سسٹم پر نظر نہیں آسکے تھے یا پھر انہوں نے ریڈار سسٹم ہی جام کر دیا ہوگا اور یہ بالکل وہی چال تھی جو شیر کی خالہ یعنی بلی نے شیر کو شکار کے سارے گر سکھاتے ہوئے ایک گر اپنے پاس ہی رہنے دیا اس لئے جب شیر بلی سے تربیت مکمل کرنے کے بعد خود اس کو شکار کرنے کیلئے اس پر جھپٹا تو بلی آخری دائو استعمال کرتے ہوئے چھلانگ لگا کر درخت پر چڑھ گئی یہی حال ان بڑی طاقتوں کا بھی ہے ، یہ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کو اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی فروخت کرتے ہوئے توڑ اپنے پاس ہی رکھتی ہیں ، تاکہ یہ ممالک ان کو آنکھیں دکھانے کی جرات نہ کر سکیں ۔

رفاقتوںکے نئے خواب خوشنما ہیں مگر

گزرچکا ہے ترے اعتبار کا موسم

بہر حال ملک کے اس حال تک پہنچنے یا پہنچانے میں انہی لوگوں کا ہاتھ ہے جن کو نہ صرف امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے سے بے دریغ ویزے جاری کئے گئے بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق دوبئی او ر شارجہ سے بھی غیر ملکیوں کو سابق صدر آصف زرداری کے منہ بولے بھائی کے کہنے پر ویز وں کا اجراء کیا گیا ، حالانکہ اصولی طور پر کسی بھی دوسرے ملک کے باشندے کو صرف اس کے اپنے ملک سے ہی ویزہ جاری کیا جا سکتا ہے اور کسی تیسرے ملک سے نہیں ، اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے پاکستان کے اندر اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے کیلئے جال پھیلایا اور کامیابی کی صورت میں آپریشن کروانے کیلئے بقول یوسف رضا گیلانی کے بغیر ویزوں کے لوگ بھجوا کر اسامہ بن لادن کو ٹھکانے لگا دیا ۔

اب کون سچا ہے او ر کون جھوٹا کہ گیلانی نے حسین حقانی کو ضابطے کے تحت امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کی ہدایت کی جبکہ حقانی کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے صدر اور وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق ہی ویزوں کا اجراء کیا ۔ بقول اقبال ظفر

جھوٹ بولا ہے توقائم بھی رہو اس پر ظفر

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

افغانستان نے ملکی فوج کے کھانے کیلئے پاکستان سے پھل اور گوشت درآمد کرنے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع ہر سال تقریباً پانچ سو ملین افغانی کرنسی اشیائے خور دونوش کی مد میں صرف کرتی ہے ، جبکہ پاکستان سے اب بھینس کا گوشت درآمد نہیں کیا جائے گا ۔ افغانستان کی وزارت دفاع کے اس فیصلے پر سب سے زیادہ خوشی پشاور کے باشندوں کو ہونی چاہیئے ، بلکہ اگر اس قسم کا فیصلہ صرف افغان وزارت دفاع کے تحت نہیں بلکہ وزارت تجارت کے تحت ہوتا تو اس کے پاکستان کے عوام پر زیادہ بہتراثرات ہوتے کیونکہ اگر صرف افغان فوجیوں پر ان اشیاء کی پابندی عاید کر دی گئی تو افغان عوام تو ہر صورت یہ اشیاء استعمال کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے پشاور کی مارکیٹ میں یہی اشیاء انتہائی مہنگے داموں ملتی ہیں ، اگر ان کی برآمدات مکمل طور پر بند کر دی جائیں تو پشاور کی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے ان کی قیمتیں کم ہو جائیں گی ۔ رہ گیا وزیر دفاع افغانستان کا فیصلہ تو سرکاری طور پر چاہے ان کا جوبھی فیصلہ ہو ، وہ افغان فوجیوں کو ذاتی طور پر بھینسوں کا گوشت کھانے سے کب تک منع کر سکیں گے کہ بڑے گوشت کا اپنا ہی ذائقہ ہوتا ہے اور جب ایک بار منہ سے لگ جائے تو بقول شاعر

''چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی ''۔

متعلقہ خبریں