Daily Mashriq


ہمارے روایتی رویے

ہمارے روایتی رویے

معقول انداز سے زندگی گزارنا ایسا ہے جیسے سرکس میں بازی گرلوہے کے تار پر چلتا ہے اس کے ایک ہاتھ میں چھتری ہوتی ہے اور دوسرا ہاتھ ہوا میں معلق ہوتا ہے اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے اس کا چھتری والا ہاتھ ہلتا رہتا ہے اور وہ بڑی چابک دستی کے ساتھ تار پر سے گزر جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں زندگی گزارنے کا تجربہ اس سرکس والے تارپر چلنے سے بھی زیادہ مشکل ہے چلیں مشکلات تو زندگی کا حصہ ہیں کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں!دھوپ چھائوں کا سفر جاری رہتا ہے نشیب وفراز سے ہی زندگی عبارت ہے ہمیں یہ سب تسلیم ہے لیکن اس کالم میں ہم ان باتوں پر کچھ خامہ فرسائی کرنا چاہتے ہیں جو ہماری اپنی بے ڈھنگی حرکات کا شاخسانہ ہوتی ہیں اور پھر جب اس حوالے سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو کسی کو مورد الزام بھی نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہم اپنے نکتہ نظر کو چند واقعات کی مدد سے بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ انسانی رویے بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں ہمارے یہاں تکلفات سے کام لینا بڑی عام سی بات ہے لوگ ایک دوسرے سے جب بھی ملتے ہیں تو چائے پانی کا ضرور پوچھتے ہیں ایک صاحب کسی انتہائی ضروری کام سے جارہے ہیں اچانک ان کی ملاقات سر راہ کسی دوست سے ہوجاتی ہے وہ اسے چائے کی دعوت ضرور دیں گے ان کے لیے ایک منٹ کی تاخیر بھی ممکن نہیں ہوتی لیکن ا ب اس کا کیا علاج کہ رسم نبھانی پڑتی ہے ۔یہ ایک رویہ ہے جو ہمارے یہاں بہت مقبول ہوچکا ہے مثلاًآپ صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں آپ کو دفتر پہنچنے کی جلدی ہے سامنے سے آپ کو ایک دوست آتا دکھائی دیتا ہے آپ اسے بڑے اصرار سے کہتے ہیں کہ چلو یار گھر چلتے ہیں میں آپ کی تواضع گرماگرم چائے سے کرنا چاہتا ہوں، اب آپ دل میں ڈر بھی رہے ہیں کہ اگر یہ چل پڑا تو کیا ہوگا؟ لیکن آپ کو یہ یقین بھی ہوتا ہے کہ ہم بھی رسماًپوچھ رہے ہیں اور دوست بھی جانتا ہے کہ یہ آفس کا وقت ہے مگر جھوٹ بولنا ضروری ہے البتہ آپ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک خوبصورت جھوٹ ہے جو کسی کی عزت افزائی کے لیے بولا جارہا ہے اور اس جھوٹ کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ جھوٹ بولنے اور سننے والا دونوں یہ جانتے ہیں کہ یہ سب رسمی باتیں ہیں۔ہمیں صبح ناشتے میں بالائی کھانا بہت پسند ہے بچپن میں خوب کھائی ہے ہم ایک میس میں ناشتہ کر رہے تھے ہمارے سامنے ایک گورا بنفس نفیس موجود تھا ہم دونوں کے سامنے بالائی (ہمارے یہاں اسے ملائی کہا جاتا ہے ویسے جو مزا ملائی میں ہے وہ بالائی میں کہاں) پڑی ہوئی تھی انہوں نے ناشتے کے دوران ہم سے پوچھا کہ کیا آپ بالائی کھانا پسند کریں گے؟ ہم نے اپنی روایتی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے گورے سے کہا نہیں شکریہ آپ کھائیے یقین مانئیے اس وقت ہمیں بڑی شدت سے ملائی کھانے کی طلب محسوس ہورہی تھی بس یہی سوچ رہے تھے اس چائے کے کپ سے نپٹ لیں پھر اس ملائی کے پیالے کی خبر لیتے ہیں ہمارے انکار کے بعد گورے نے ایک مرتبہ اخلاقاًکہاsure یعنی پکی بات ہے آپ نے ملائی نہیں کھانی ؟ہم نے شرماتے ہوئے کہا جی!اس مردخدا نے ملائی کے پیالے کو اپنے سامنے رکھا اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے آناً فاناًساری ملائی چٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ارمانوں کا بھی خون کر ڈالا۔اگر آپ ہماری طرح رکشے میں سفر کرتے رہتے ہیں تو آپ نے ایسے بہت سے رکشہ ڈرائیور دیکھے ہوں گے جن سے آپ کسی جگہ کا کرایہ پوچھئیے تو وہ کہیں گے صاحب! بیٹھ جائیں جو دل چاہے دے دیجیے گا یا جو آپ مناسب سمجھیں دے دیجیے گا۔ اس حوالے سے ہمارا یہی مشورہ ہے کہ پہلے کرایہ طے کیجیے پھر رکشے میں بیٹھیے ورنہ اپنی منزل پر پہنچ کررکشے والا آپ سے اپنی مرضی کا کرایہ وصول کرے گا اور اگر آپ نے انہیں یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ آپ نے توخود کہا تھا کہ اپنی مرضی کا کرایہ دے دیجیے گا تو وہ دانت نکالتے ہوئے کہے گا کہ صاحب آپ ایک روپیہ بھی نہ دیںیہ جملہ بھی اسی روایتی انداز فکر کا نتیجہ ہے ۔اگر آپ خریداری کے دوران دکاندار سے رعایت کا تقاضا کریں تو وہ بھی آپ سے یہی کہے گا کہ جناب ایک پیسہ بھی نہ دیں آپ کی اپنی دکان ہے خدارا اس کی دکان کو اپنی دکان سمجھنے کی غلطی نہ کریں وہ آپ سے صرف انہی پیسوں کی رعایت کرتا ہے جو اس نے آپ کو زیادہ بتائے ہوتے ہیں۔ان دو چار مثالوں کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے روزمرہ کے معاملات لین دین میں سیدھی اور سچی بات نہیں کرتے دوسروں کو خوش کرنے کے لیے روایتی جملے استعمال کرتے ہیں جو سچ سے بہت دور ہوتے ہیں۔ جو زبان سے کہہ رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے دل میں نہیں ہوتا۔کیا اچھا ہو اگر ہم لوگ سیدھی اور سچی بات کہنے کی عادت ڈالیںاس میں بڑی آسانی ہے اور اس سے ہمارے بہت سے کام سنور جاتے ہیں اور سچی بات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کی باتوں کی وجہ سے کوئی دھوکے میں نہیں پڑتا آپ سے غیر ضروری توقعات وابستہ نہیں کرتا ۔

متعلقہ خبریں