''کچھوا بابا''

''کچھوا بابا''

اس نے غربت کی گود میں آنکھ کھولی۔لڑکپن اور جوانی کا سفر عسرت و تنگدستی کے دوش پر طے کیا۔ان پڑھ تھا مگر اس کا دماغ خوب چلتا تھا۔جانتا تھا کہ اس کی بستی کے لوگ اسی کی طرح جاہل ہیںاور ضعیف الا عتقاد بھی سو اس نے ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنایا۔وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ منتوں کے پورا ہونے پر نذر نیاز دیتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں سو اس نے اپنے گھر کے صحن میں مٹی کا چھوٹا سا تالاب بنایا اور ندی سے ایک کچھوا پکڑ کر اس میں چھوڑ دیا۔وہ دن میں کئی بار اس کچھوے کے سامنے ہاتھ باندھ کر بیٹھ جاتا اور منہ ہی منہ میں کچھ بدبداتا رہتا۔ پڑوسیوں کو تجسس ہوا تو انہوں اس کے گھر والوں سے استفسار کیا۔ اس کے گھر لوگوں کی آمد ورفت بڑھتی گئی تو اس نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ جو بھی کچھوا بابا کے تالاب کا پانی پیئے گا اسے ہر قسم کی بیماری سے نجات مل جائے گی۔ کچھوا بابا چونکہ ہر وقت تالاب میں رہتے تھے اس لئے پیشاب بھی و ہیں کرتے تھے۔ لوگ بڑی عقیدت سے یہ پیشاب ملا پانی پیتے اور اپنے بچوں کو بھی پلاتے۔ نذر نیازیں ملنا شروع ہوئیں تواس کے دن پھرنا شروع ہو گئے۔ وہ اچھا خاصا خوشحال ہو گیا۔ دوسری طرف کچھوا بابا کے کارنامے اس کے گائوں لتھڑ سے نکل کر قریبی قصبے ریاض آباد، وہاں سے ضلع خانیوال،اور وہاں سے ملتان تک پہنچ گئے۔خانیوال انتظامیہ کو پتہ تھا لیکن وہ اسو قت تک اپنی جگہ سے نہ ہلی جب تک کہ میڈیا نے اس گائوں پر ہلہ نہ بولا۔ وہ شخص پکڑا گیا، دھندہ بند ہو گیا لیکن اس پر دھوکہ دہی کا چھوٹا سا مقدمہ بنے گا اور وہ اس سے خلاصی پا کر کسی دوسرے عنوان سے دھندہ شروع کر دے گا کہ جس ملک میں قاتل دندناتے پھرتے ہوں اس ملک میں دھوکہ بازوں پر کون روک لگائے؟۔

ابھی جس پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہوا اس کے میچوں میں سٹہ کھیلنے والے چار کھلاڑی پکڑے گئے۔چاروں نوجوان ہیں اور جب بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوتے تھے تو ان کے چہروں پر شرمندگی کی بجائے ڈھٹائی نظر آتی تھی۔رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے والدین کی تربیت کا نتیجہ ہے۔جبکہ میرا خیال ہے کہ والدین کی بری تربیت کے ساتھ کچھ ایسے معاشرتی عوامل بھی ہیں جو قوم کے بچوں جوانوں اور بوڑھوںکی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں لیکن کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ ان پر غور کرے؟پہلی طے شدہ بات یہ ہے کہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں اور ہجوم میں ہر شخص دوسرے کو کہنی کندھا مار کر خودآگینکلنے کی جستجو میں ہوتا ہے۔ہر شخص دوسرے کو کچل کر اپنی زندگی بچانا چاہتا ہے۔سو نقشہ کچھ یوں ہے کہ بھوکا، روٹی کھانے والے کی طرف لپک رہا ہے۔ جسے روٹی مل رہی ہے وہ مڈل کلاسیوں میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ مڈل کلاسیا پراپرٹی ڈیلر بن کر راتوں رات لاکھوں کمانا چاہتا ہے۔ جس کے پاس لاکھوں ہیں وہ کروڑ پتیوں کو حسرت سے دیکھتا اور جلد سے جلد ان کی صف میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ کروڑ پتی بھی اپنے کروڑ پتی ہونے پر شرمسار ہے اور ارب پتی بن کر اس شرمساری سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے۔اپنی اپنی ''منزل'' کے حصول کے لئے کوئی دودھ میں پانی ملا رہا ہے۔کوئی برادے کو جانوروں کے خون سے رنگ کر پتی کے طور پر فروخت کر رہا ہے۔کوئی جعلی آئل بیچ کر گاڑیوں کے انجن تباہ کر رہا ہے۔ کوئی رشوت کے پیسوں سے بیوی کے میک اپ اور قیمتی کپڑوں کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ کوئی حکیم بن کر لوگوں کو کالے یرقان سے '' نجات'' دلا رہا ہے۔ کوئی کمر درد کے مریضوں کو سرجری سے بچنے کا مشورہ دے کر ایک بار اپنا تیل'' آزمانے'' کی شرطیہ پیشکش کر رہا ہے۔کوئی طب نبوی کے اشتہار چلا کر ''اصلی'' عجوہ کھجور کا پسی ہوئی گٹھلیوں سمیت پیسٹ بنا کر دل کی سرجری سے پہلے آزمانے کی بات کر رہا ہے۔ بیری کا '' اصلی اور نسلی '' شہد ہر شہر میں جگہ جگہ دستیاب ہے۔نصاب کی جس کتاب پر سو روپے لاگت آتی ہے اسے آکسفورڈ کے نام پر پانچ سو میں فروخت کیا جا رہا ہے۔تمام بڑے شہروں میں ''اصلی دیسی انڈے'' جگہ جگہ دستیاب ہیں۔دواساز ادارے طبی فارما کوپیا کی تمام شرائط کو پورا کر کے '' سو فیصد خالص اور اصلی'' دوائیں مارکیٹ کر رہے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کا ہر شہری خود بھی ''حلال ''کھا رہا ہے اور اپنے بچوں کو بھی''حلال'' کھلا رہا ہے۔ آپ کسی بھی شخص سے پوچھ کر دیکھ لیں وہ حلال کھانے کا دعویدار ہوگا اس موٹر مکینک سمیت جو حرام پر لعنت بھیجتا ہے لیکن خرادیئے سے زیادہ بل بنوا کر عاجزانہ انداز میں آپ کو پیش کرتا ہے۔ قوم کی اس قومی خدمت کی وجہ سے ہماری معیشت روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔ حکمران اس ترقی کے اعشاریئے دیکھ دیکھ کر نہال ہوئے جا رہے ہیں کیونکہ پیسہ تو گردش میں ہے۔لوگ ایک دوسرے کو نوچ رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جو زیادہ نوچے گا وہی معاشرے میں زیادہ عزت دار ، باوقار اور قابل احترام ہوگا۔پیسہ گردش میں رہنا چاہئے خواہ وہ ''کچھوا بابا'' کی نذر نیاز کی صورت وصول ہویا کسی کے سر کی قیمت کے طور پر ملے۔رشوت کی صورت ایک جیب سے دوسری جیب میں منتقل ہو یا جعلی آئل کی صورت کسی گاڑی کا انجن برباد کر دے۔ ظاہر ہے کہ گاڑی کا انجن دوبارہ بنوانے کے لئے بھی تو پیسہ گردش میں آئے گا۔اللہ کے نبی ۖ نے فرمایا'' ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں''پاکستانی قوم ''سجدہ شکر'' بجا لائے کہ ہم میں کوئی بھی ملاوٹ کرنے والا نہیں۔ ہم تو سچے عاشق رسولۖ اور رزق حلال کمانے اور کھانے والے ہیں۔

اداریہ