Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

خطیب بغدادی نے امام ابو یوسف کی بیان فرمودہ یہ حکایت نقل کی ہے کہ میں علم حدیث اور علم فقہ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا ، لیکن میری حالت بے حد خستہ اور خراب تھی ۔ ایک روز میں امام اعظم ابو حنیفہ کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ میرے والد صاحب آئے ، انہیں دیکھ کر میں اٹھ کھڑا ہوا اور ان کے ساتھ باہر چلا گیا ۔ میرے والد نے اس وقت مجھ سے کہا بیٹے دیکھو ! تم ابو حنیفہ کے قدم بہ قدم نہیں چل سکتے ، خدا کے فضل سے ان کے پاس سب کچھ ہے جو چاہیں کھائیں جو چاہیں پیئں ، اس کے بر عکس تمہارا کیا حال ہے ، دیکھو تم سر ا سر معاش کے محتاج ہو ، آخر کچھ تو سوچو بھی ؟والد کی یہ بات میرے دل میں ترازو ہوگئی ، میں نے حصول علم کی طرف توجہ کم کردی اور حصول معاش کی سرگرمیوں میں مصروف اور منہمک ہوگیا ، کیو نکہ والد کی مرضی بھی یہی تھی اور حالا ت کا تقاضا بھی یہی تھا ۔ (باقاعدہ طالب علم بننے سے پہلے ہی امام ابو یوسف کی شادی بھی ہو چکی تھی اور وہ صاحب اولاد بھی ہوگئے تھے )اور ان کی مرضی پر بہر حال مجھے چلنا چاہئے تھا ۔

حضرت امام اعظم نے جب یہ دیکھا کہ ان کی مجلس میں میری حاضری کم ہونے لگی ہے تو میرے بارے میں انہیں تشویش ہونے لگی ۔ ایک روز جب میں حسب معمول دیر سے پہنچا تو دریافت فرمایا : '' تم کہاں رہتے ہو ، پابندی سے آتے کیوں نہیں ؟ '' میں نے جواب دیا ۔ شغل معاش میں مصروف رہتا ہوں اور والد گرامی کا یہی حکم ہے ۔ یہ کہہ کر مجلس درس میں بیٹھ گیا ، تھوڑی دیر کے بعد اٹھنا چاہا مگر امام نے روک لیا ۔ جب مجلس برخاست ہوئی اور لوگ چلے گئے تو امام ابو حنیفہ نے ایک تھیلی میرے ہاتھوں میں تھما دی اور فرمایا : اس سے اپنا کام چلائو اور سبق پرپور ی توجہ دو ، میںنے دیکھا تو تھیلی میں ایک سو درہم تھے ۔ امام ابو یوسف نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ نے اس وقت مجھے تاکیداً یہ بھی فرمایا کہ :'' یہ رقم جب ختم ہو جائے تو مجھے بتا دینا ، لیکن مجلس درس میں اب پابندی سے آیا کرو ۔ ''میں نے پابندی سے مجلس درس میں حاضر ہونا شروع کردیا ۔ کچھ مدت کے بعد امام ابو حنیفہ نے سو درہم کی ایک تھیلی پھر مجھے عطا کی اور درس میں حاضری کی تاکید بھی فرمائی ۔ اس کے بعد یہ معمول ہوگیا ، نہ جانے امام ابو حنیفہ کس طرح محسو س کر لیتے کہ میرے پا س رقم ختم ہو چکی ہے ۔ فوراً پھر سو درہم کی تھیلی عطا فر ما دیتے ، حالانکہ میںنے کبھی بھی نہ ان سے رقم طلب کی اور نہ یہ تبایا کہ رقم ختم ہوچکی ہے ، یہاں تک کہ امام کی اس دادو دہش کا یہ نتیجہ نکلا کہ میری معاشی حالت بہتر ہوگئی اور میں ٹھاٹھ سے زندگی بسر کرنے لگا اور پابندی کے ساتھ امام ابو حنیفہ کی مجلس میں حاضر ہونے لگا ، یہاں تک کہ میری کوئی حاجت اور ضرورت ایسی نہ تھی جو اٹکی رہ گئی ہو ۔ رب تعالیٰ نے حضرت امام ابو حنیفہ کی حسن نیت اور برکت و توجہ کے باعث میرے لئے آئندہ زندگی میں علم او رمال کے دروازے کھول دیئے ۔خدا تعالیٰ میری طرف سے انہیں اچھا صلہ اور اجر عظیم عطا فرما دے ۔

(مناقب موفق ترجمہ ابی یوسف ،ص469)

متعلقہ خبریں